بریلی؍بہیڑی ، 29مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بریلی میں دو فریق کے درمیان خونی تصادم کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پہلے ہولی پر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی ، اب لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعہ کو لے کر ہنگامہ ہے۔ بریلی کے بہیڑی کوتوالی علاقہ کے گاؤں جام جنوبی میں دو برادریوں کے لوگوں کے درمیان نازیبا تبصرہ کرنے اور خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو لے کر تنازعہ ہوگیا۔
دبنگوں نے لاٹھیوں اور تلواروں سے حملہ کرکے کئی افراد کو زخمی کردیا۔ واقعہ کے بعد متاثرہ کی جانب سے شکایت پر پولیس نے چھیڑ چھاڑ اور قاتلانہ حملے کے الزام میں 12 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جن میں 9 نامزد ہیں۔ سیکورٹی کے لیے یہاں پولیس تعینات کی گئی ہے۔
دراصل سرویش رستوگی نامی شخص جو جام ساونت جنوبی کا رہنے والا ہے، اس نے تھانے میں تحریری شکایت دی تھی کہ ان کے پڑوسی رفیق اور ان کے بیٹے زاہد، عارف، راشد اور آصف مبینہ طور پر ان کے خاندان کی خواتین کو دیکھ کر تبصرے کرتے ہیں یہ لوگ ایک عرصے سے ہمیں پریشان کر رہے ہیں۔
رات گئے ان کے گھر کی چھت پر بیٹھے تقریباً سبھی لوگ ان کے گھر کی خواتین سے فحش اشارے کر رہے تھے۔ سرویش کے گھر والوں نے احتجاج کیا تو سب مل کر لاٹھی،ڈنڈے، تلوار اور سلاخوں کے ساتھ سرویش کے گھر میں گھس گئے اور مار پیٹ کی ۔ ملزمین نے سرویش کے خاندان کی خواتین کے ساتھ مارپیٹ بھی کی اور بدتمیزی کی۔واقعے کے بعد سی او بہیڑی اجے کمار گوتم کا کہنا ہے کہ گاؤں جام جنوبی میں دو فریقین کے درمیان لڑائی ہوئی تھی۔
پولیس نے دونوں طرف سے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ اگرچہ ایک طرف کے لوگوں کو زیادہ چوٹیں آئی ہیں لیکن ان کا طبی معائنہ کروا کر جان لیوا حملے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس ٹیم ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے، جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔



