سیاسی و مذہبی مضامین

تراویح میں قرآن کا خلاصہ: پہلے دس پاروں کی تفسیر

مختصر خلاصہ (تراویح) تفسیر قرآن (پہلا پارہ​ تا دس)

پہلا پارہ (سورۃ الفاتحہ – سورۃ البقرہ 141 تک)

اس پارے میں پانچ باتیں ہیں:
1۔اقسام انسان
2۔اعجاز قرآن
3۔قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام
4۔احوال بنی اسرائیل
5۔قصۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام

1۔اقسام انسان تین ہیں: مومنین ، منافقین اور کافرین۔مومنین کی پانچ صفات مذکور ہیں:

۱۔ایمان بالغیب ۲۔اقامت صلوۃ ۳۔انفاق ۴۔ایمان بالکتب ۵۔یقین بالآخرۃ

منافقین کی کئی خصلتیں مذکور ہیں: جھوٹ، دھوکا، عدم شعور، قلبی بیماریاں، سفاہت، احکام الٰہی کا استہزائ، فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب۔اور کفار کے بارے میں بتایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ہے۔

2۔اعجاز قرآن:

جن سورتوں میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ان کے شروع میں حروف مقطعات ہیں یہ بتانے کے لیے کہ انھی حروف سے تمھارا کلام بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی، مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام جیسا کلام بنانے سے عاجز ہو۔

3۔قصۂ حضرت آدم علیہ السلام :

اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانا، فرشتوں کا انسان کو فسادی کہنا، اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السالم کو علم دینا، فرشتوں کا اقرارِ عدم علم کرنا، فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کروانا، شیطان کا انکار کرنا پھر مردود ہوجانا، جنت میں آدم وحواء علیہما السلام کو شیطان کا بہکانا اور پھر انسان کو خلافتِ ارض عطا ہونا۔

4۔احوال بنی اسرئیل:
ان کا کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ کا ان پر لعنت نازل کرنا۔

5۔ قصہّ حضرت ابراہیم علیہ السلام:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کرنا اور پھر اللہ تعالیٰ سے اسے قبول کروانا اور پھر توبہ و استغفار کرنا۔


دوسرا پارہ (سورۃ البقرہ 142 – سورۃ البقرہ 252 تک)

اس پارے میں چار باتیں ہیں:
1۔تحویل قبلہ
2۔آیت بر اور ابوابِ بر
3۔قصۂ طاعون
4۔قصۂ طالوت

1۔تحویل قبلہ:
ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس قبلہ رہا ، آپ ﷺ کی چاہت تھی کہ خانہ کعبہ قبلہ ہو، اللہ تعالیٰ نے آرزو پوری کی اور قبلہ تبدیل ہوگیا۔

2۔آیتِ بر اور ابوابِ بر:
لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ ۔۔۔۔ (البقرۃ:۱۷۷) یہ آیتِ بر کہلاتی ہے، اس میں تمام احکامات عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق اجمالی طور پر مذکور ہیں، آگے ابواب البر میں تفصیلی طور پر ہیں:

۱۔صفا مروہ کی سعی ۲۔مردار، خون، خنزیرکا گوشت اور جو غیر اللہ تعالیٰ کے نامزد ہو ان کی حرمت ۳۔قصاص ۴۔وصیت ۵۔روزے ۶۔اعتکاف ۷۔حرام کمائی ۸۔قمری تاریخ ۹۔جہاد ۱۰۔حج ۱۱۔انفاق فی سبیل اللہ تعالیٰ ۱۲۔ہجرت ۱۳۔شراب اور جوا ۱۴۔مشرکین سے نکاح ۱۵۔حیض میں جماع ۱۶۔ایلاء ۱۷۔طلاق ۱۸۔عدت ۱۹۔رضاعت ۲۰۔مہر ۲۱۔حلالہ ۲۲۔معتدہ سے پیغامِ نکاح۔

3۔قصۂ طاعون:

کچھ لوگوں پر طاعون کی بیماری آئی، وہ موت کے خوف سے دوسرے شہر چلے گئے، اللہ تعالیٰ نے (دو فرشتوں کو بھیج کر) انھیں موت دی (تاکہ انسانوں کو پتا چل جائے کہ کوئی موت سے بھاگ نہیں سکتا) کچھ عرصے بعد اللہ نے (ایک نبی کے دعا مانگنے پر) انھیں دوبارہ زندگی دے دی۔

4۔قصۂ طالوت:
طالوت کے لشکر نے جالوت کے لشکر کو باوجود کم ہونے کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے شکست دے دی۔


تیسرا پارہ (سورۃ البقرہ 253 – سورۃ آل عمران 92 تک)

 اس پارے میں دو حصے ہیں 

1۔بقیہ سورۂ بقرہ

2۔ابتدائے سورۂ آل عمران

(پہلا حصہ) سورۂ بقرہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:

۱۔دو بڑی آیتیں ۲۔دو نبیوں کا ذکر ۳۔صدقہ اور سود

۱۔ دو بڑی آیتیں:

ایک ”آیت الکرسی“ ہے جو فضیلت میں سب سے بڑی ہے، اس میں سترہ مرتبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔دوسری ”آیتِ مداینہ“ جو مقدار میں سب سے بڑی ہے اس میں تجارت اور قرض مذکور ہے۔

۲۔ دو نبیوں کا ذکر:

ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مباحثہ اور احیائے موتٰی کے مشاہدے کی دعاء۔
دوسرے عزیر علیہ السلام جنھیں اللہ تعالیٰ نے سوسال تک موت دے کر پھر زندہ کیا۔

۳۔ صدقہ اور سود:

بظاہر صدقے سے مال کم ہوتا ہے اور سود سے بڑھتا ہے، مگر در حقیقت صدقے سے بڑھتا ہے اور سود سے گھٹتا ہے۔

(دوسرا حصہ) سورۂ آل عمران کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں:

1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت

2۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے

3۔اہل کتاب سے مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ

4۔ انبیائے سابقین سے عہد

1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت
مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں قرآن کی حقانیت اور اہل کتاب سے خطاب ہے۔ سورۂ بقرہ میں اکثر خطاب یہود سے ہے جبکہ آل عمران میں اکثر روئے سخن نصاری کی طرف ہے۔

2۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے:

پہلا قصہ جنگ بدر کا ہے، تین سو تیرہ نے ایک ہزار کو شکست دے دی۔
دوسرا قصہ حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل کے پائے جانے کا ہے۔تیسرا قصہ حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد عطا ہونے کا ہے۔چوتھا قصہ حضرت عیسی علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونے، بچپن میں بولنے اور زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا ہے۔

3۔ مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ:

اہل کتاب سے مناظرہ ہوا، پھر مباہلہ ہوا کہ تم اپنے اہل و عیال کو لاؤ، میں اپنے اہل و عیال کو لاتا ہوں، پھر مل کر خشوع و خضوع سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس پر خدا کہ لعنت ہو، وہ تیار نہ ہوئے تو پھر مفاہمہ ہوا، یعنی ایسی بات کی دعوت دی گئی جو سب کو تسلیم ہو اور وہ ہے کلمۂ ”لا الہ الا اللہ“۔

4۔ انبیائے سابقین سے عہد:

انبیائے سابقین سے عہد لیا گیا کہ جب آخری نبی آئے تو تم اس کی بات مانو گے، اس پر ایمان لاؤ گے اور اگر تمھارے بعد آئے تو تمھاری امتیں اس پر ایمان لائیں


چوتھا پارہ (سورۃ آل عمران 93 – سورۃ النساء 23 تک)اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ بقیہ سورۂ آل عمران

۲۔ ابتدائے سورۂ نساء

(پہلا حصہ) سورۂ آل عمران کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں ہیں:​

1۔ خانہ کعبہ کے فضائل

2۔ باہمی جوڑ

3۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

4۔ تین غزوے

5۔ کامیابی کے چار اصول

1۔ خانہ کعبہ کے فضائل:

یہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہے اور اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے: مقام ابراہیم۔ جو حرم میں داخل ہوجائے اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔ 

2۔ باہمی جوڑ:

اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو۔

3۔ امر بالمعروف اور نہی عن النکر:

یہ بہترین امت ہے کہ لوگوں کی نفع رسانی کے لیے نکالی گئی ہے، بھلائی کا حکم کرتی ہے، برائی سے روکتی ہے اور اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔

4۔ تین غزوے:

۱۔غزوۂ بدر ۲۔غزوۂ حد ۳۔غزوۂ حمراء الاسد

5۔ کامیابی کے چار اصول:

۱۔صبر ۲۔مصابرہ ۳۔مرابطہ ۴۔تقوی

(دوسرا حصہ) سورۂ نساء کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں:​

1۔ یتیموں کا حق: (ان کو ان کا مال حوالے کردیا جائے۔)
2۔ تعدد ازواج: (ایک مرد بیک وقت چار نکاح کرسکتے ہیں بشرط ادائیگیٔ حقوق۔)
3۔ میراث: (اولاد ، ماں باپ ، بیوی ، کلالہ کے حصے بیان ہوئے اس قید کے ساتھ کہ پہلی وصیت ادا کردی جائے۔)
4۔ محرم عورتیں: (مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، رضاعی مائیں، رضاعی بہنیں، ساس، سوتیلی بیٹیاں، بہویں۔)


اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں

https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso

پانچواں پارہ (سورۃ النساء 24 – سورۃ النساء 147 تک)

اس پارے میں آٹھ باتیں ہیں:​

۱۔ خانہ داری کی تدابیر
۲۔ عدل اور احسان
۳۔ جہاد کی ترغیب
۴۔ منافقین کی مذمت
۵۔ قتل کی سزائیں
۶۔ ہجرت اور صلاۃ الخوف
۷۔ ایک قصہ
۸۔ سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب

۱۔ خانہ داری کی تدابیر:

پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا ، نگران ہے اور معاشی کفایت کی مکلمل زمہ داری ہے پھر نافرمان بیوی اور ایسی بیوی جو کسی کیساتھ ناجائز تعلق استوار کرے اور سرکشی اور غلط کاری کا اندیشہ ہو تو اس سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں: ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے، منع نہ ہو تو بستر الگ کردے، اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر اس قدر تنبیہ کرے کہ اسے نقصان نہ پہنچے۔

۲۔ عدل واحسان:

عدل و احسان کا حکم دیا گیا تاکہ اجتماعی زندگی بھی درست ہوجائے اور باطل، ناجائز اور حرام طریقے سے کسی کا بھی مال کھانے سے منع کیا گیا اور انصاف پر  بہت زور دیا گیا ۔

۳۔ جہاد کی ترغیب:

جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

۴۔ منافقین کی مذمت:

منافقین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو ان سے چوکنا کیا ہے کہ خبردار! یہ لوگ تمھیں بھی اپنی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں۔

۵۔ قتل کی سزائیں:

قتل کی سزائیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا کہ مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا، مراد اس سے جائز سمجھ کر قتل کرنے والا ہے۔

۶۔ ہجرت اور صلاۃ الخوف:

جہاد کی ترغیب دی تھی، اس میں ہجرت بھی کرنی پرتی ہے اور جہاد ار ہجرت میں نماز پڑھتے وقت دشمن کا خوف ہوتا ہے، اس لیے صلاۃ الخوف بیان ہوئی۔

۷۔ ایک قصہ:

ایک شخص جو بظاہر مسلمان مگر در حقیقت منافق تھا اس نے چوری کی اور الزام ایک یہودی پر لگادیا، نبی علیہ السلام تک یہ واقعہ پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے خلاف فیصلہ دینے ہی والے تھے کہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ چور وہ مسلمان نما منافق ہے، چنانچہ وہ چور مکہ بھاگا اور کھلا کافر بن گیا۔

۸۔ سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب:

شیطان کی اطاعت سے بچو، وہ گمراہ کن ہے، ابوالانبیاء ابرہیم علیہ السلام کی اتباع کرو، عورتوں کے حقوق ادا کرو، منافقین کے لیے سخت عذاب ہے۔


چھٹا پارہ (سورۃ النساء 148 – سورۃ المائدہ 81 تک)اس پارے میں دو حصے ہیں:
۱۔ سورۂ نساء کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ

(پہلا حصہ) سورۂ نساء کے بقیہ حصے میں آٹھ باتیں ہیں:

۱۔ برائی کی تشہیر
۲۔ تمام انبیاءؑ پر ایمان 
۳۔ یہود کی مذمت اور ان کے مطالبات 
٤۔ ایمان کے تقاضے   
٥۔ خوشخبری سنانے اور ڈر سنانے والے
٦۔ نصاری کی مذمت
٧۔ تکبر کرنے والے
٨۔ کلالہ

⬅ ۱۔ برائی کی تشہیر:

کسی کو علانیہ برا کہنے سے منع کیا گیا مگر مظلوم کو اختیار دیا گیا کہ ظالم کے ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرے تاکہ وہ ظلم سے باز آجائے۔

⬅ ٢۔ تمام انبیاء پر ایمان:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان سے پہلے جتنے بھی انبیاءؑ گزرے ہیں ان پر ایمان لانا لازمی قرار دیا گیا ان کے درمیان تفریق (کسی کو مانے، کسی کو نہیں) کفر قراد دیا گیا اور ایمان لانے والوں کو (ان کی نیکیوں) کے سبب عنقریب بہترین صلہ عطا کرنے کا وعدہ اور کافروں کے لیے اور جو کفر و ایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان کے لیے ذلیل و خوار کر دینے والا عذاب تیار ہے۔

⬅ ٣۔ یہود کے مزمت اور ان کے مطالبات:

یہود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ ہماری طرف آسمان سے ہی تحریر نازل کیوں نہیں ہو جاتی اللہ تعالی کیطرف سے آپ علیہ السلام کو یقین دہانی کروائی گئ کہ یہ آپ سے پہلے بھی اس سے بڑے بڑے مطالبات کر چکے ہیں کہ ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، ایمان نہیں لائیں گے تو ان کے بےجا سوالات اور سرکشی کے باعث ان پر بجلی کا عذاب نازل ہوا آگے چل کر بتایا گیا کہ انھوں نے حضرت عیسیؑ کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کی حفاظت فرمائی۔ آگے انکا حضرت مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھنے کا زکر ہے اور انکا سود کو حلال قرار دینے اور بہت سے حرام عمور کو جائز قرار دینے کا زکر ہے جبکہ سود کی ممانعت ان کی کتاب میں بھی ہے۔

⬅ ٤۔ ایمان کے تقاضے:

اللہ تعالی نے پختہ علم والے اور ایماندار ان لوگوں کو قرار دیا ہے ان پر انعامات کا اجر عظیم کا زکر کیا ہے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل ہوا اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کچھ پہلے نازل ہوا اس پر ایمان لاتے ہیں اور نماز، زکوة کی پابندی کرنے والے ہیں اور روز آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں ۔

⬅ ٥۔ خوشخبری سنانے اور ڈر سنانے والے:

کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس پر انبیاء مبعوث نہ کیے ہوں اور لوگوں میں اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی رہے۔ پھر آگے ارشاد ہوتا ہے یقیناً سب اللہ کے رسول سچے اور حق بات لے کر آئے اور خوشخبری سنانے اور ڈر سنانے والے تھے اور اسی طرح جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ویسے ہی حضرت نوحؑ پر اور دیگر انبیاء پر نازل ہوئی
ابراھیم علیہ السلام
اسحاق علیہ السلام 
اسمعیل علیہ السلام
یعقوب علیہ السلام
اولاد یعقوب علیہ السلام
عیسی علیہ السلام
ایوب علیہ السلام
یونس علیہ السلام
ہارون علیہ السلام
سلیمان علیہ السلام
داود علیہ السلام

دیگر انبیاء کا زکر مرکوز ہے آخر میں اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ (جو نہیں مانتا نہ مانے) جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے اللہ نے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور اس پر فرشتے بھی گواہ ہیں اور اللہ ہی کا گواہ ہونا کافی ہے اور اہل کتاب میں سے بھی ایمان لائیں گے مگر تھوڑے ۔

⬅ ٦۔ نصاری کی مذمت:

یہ لوگ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں غلو کا شکار ہو کر عقیدۂ تثلیث کے حامل ہوگئے اہل کتاب سے مخاطب ہو کر کہا گیا حضرت عیسی’ ؑ کو اصل مقام سے نہ بڑھاو اور نہ کہو کہ خدا تین ہیں۔ اللہ ایک ہے اسکا کوئی بیٹا نہیں ہے وہ ان تمام چیزوں سے بالاتر ہے، زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب کا مالک ہے اور نہ عیسی ابن مریم نے کبھی عار سمجھا یہ کہنے میں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور عبودیت میں عزت محسوس کرتے تھے۔

⬅ ٧۔ تکبر کرنے والے:

فرمایا گیا کہ جو لوگ تکبر کرتے ہیں اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتے اور اس کے رستے سے روکتے ہیں جن کی سرپرستی و ہمدردی پر بھروسہ رکھتے ہیں تو ایک وقت آئے گا اللہ ان سب کو اپنے سامنے گھیر لے گا۔
ایمان لانے والے اور نیک اعمال کرنے والے اور تکبر سے بچنے والوں کے بہترین اجر کا وعدہ کیا گیا اور اللہ اپنے فضل سے ان کا اجر مزید بڑھائے گا۔

⬅ ٨ ۔ کلالہ:

سورة النساء کے آخر میں "کلالہ” یعنی ایسا آدمی جس کا نہ اوپر کوئی ہو اور نہ نیچے کوئی (ماں باپ اولاد نہ ہو) اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے مال کی تقسیم کے احکامات موجود ہیں۔

(دوسرا حصہ) سورۂ مائدہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں سات باتیں ہیں:

۱۔ اوفوا بالعقود (ہر جائز عہد اور عقد جو تمھارے اور رب کے درمیان ہو یا تمھارے اور انسانوں کے درمیان ہو اسے پورا کرو)

۲۔ حرام چیزیں (بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت ، مردار اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہوں
۴۔ ایک دوسرے سے نیکی اور بھلائی میں تعاون کا حکم، گناہ اور دشمنی کے کاموں میں تعاون سے منع کیا گیا۔

٤۔ طہارت (وضو ، تیمم اور غسل کے مسائل)
عدل و انصاف کا حکم، دشمنوں کے ساتھ بھی نا انصافی نہ کی جائے ۔

٥۔ ہابیل اور قابیل کا قصہ (قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا، حسد سے بچنے کی نصیحت دیگر قتل و چوری کے احکامات وغيره) 

٦۔ نبی علیہ السلام کو یہود و نصاری کیطرف سے جو سرکشیاں ہوئی ہیں ان پر تسلی دی گئی، مسلمانوں کو ان سے دوستی کرنے سے منع فرمایا گیا اور حضرت داؤد اور عیسٰی علیہما السلام کی زبانی ان پر لعنتِ خداوندی مذکور ہوئی، پھر آخر میں بتایا کہ یہ تمھارے خطرناک دشمن ہیں اور ان میں سے بیشتر اطاعت خداوندی سے نکل چکے ہیں)

٧۔ اہل کتاب کی گمراہی:

اہل کتاب کی گمراہی کا سبب یہ بیان کیا گیا کہ انکے معاشرے میں گناہ ہوتے رہے کوئی روکنے والا نہ تھا اس لیے ہمارا فرض ہے کہ امربالمعروف ونہی عن منکر کا فریضہ انجام دیں اور ہرحال میں دامن مصطفی’صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہوجائیں۔


ساتواں پارہ (سورۃ المائدہ 82 – سورۃ الانعام 110 تک)

اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ مائدہ کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ انعام ابتدائی حصہ

(پہلا حصہ) سورۂ مائدہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:​

۱۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف
۲۔ حلال وحرام کے چند مسائل
۲۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

۱۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف:

قرآن پاک کی تاثیر بیان کی گئی کہ ملک حبشہ کے بعض عیسائی راہبوں کے سامنے جب قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے تو اسے سن کر ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں اور وہ ایمان قبول کر لیتے ہیں۔

۲۔ حلال وحرام کے چند مسائل:

۔۔۔ہر چیز خود سے حلال یا حرام نہ بناؤ۔

۔۔۔لغو قسم پر مؤاخذہ نہیں، البتہ یمین غموس پر کفارہ ہے، یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا انھیں پہننے کے لیے کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور ان تینوں کے نہ کرسکنے کی صورت میں تین دن روزے رکھنا۔

۔۔۔شراب، جوا، بت اور پانسہ حرام ہیں۔
۔۔۔حالتِ احرام میں محرم تری کا شکار کرسکتا ہے، خشکی کا نہیں۔

_وصیت : جب موت کی کیفیت محسوس کرو ، ناقابل وصیت چیزوں میں وصیت اور دو معتبر گواہ بنا لو۔

۔۔۔چار قسم کے جانور مشرکین نے حرام کر رکھے تھے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔

۲۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

قیامت کے دن اللہ تعالی تمام رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جب تم نے ہمارا پیغام پہنچایا تو تمھیں کیا جواب دیا گیا؟ اسی سوال و جواب کے تناظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ اپنے احسانات گنوائیں گے، ان احسانات میں مائدہ والا قصہ بھی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے کہو ہم پر ایسا دسترخوان اتارے جس میں کھانے پینے کی آسمانی نعمتیں ہوں، چناچہ دسترخوان اتارا گیا، ان احسانات کو گنواکر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے

اے عیسیٰ! کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ تجھے اور تیری ماں کو معبود مانیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی میں اُسی وقت تک ان کا نگراں تھا

جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ ہر چیز کی خبر رکھتے ہیں، اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ زبردست حکمت والے ہیں۔

(دوسرا حصہ) سورۂ انعام کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں تین باتیں ہیں:​

۱۔ توحید
۲۔ رسالت
۳۔ قیامت

۱۔ توحید:

اس سورة میں پہلے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے۔

پھر آگے چل کر بتایا گیا ہے کہ یہ سوال کرتے ہیں فرشتہ کیوں نہ ہم پر نازل ہوا اللہ فرماتا ہے فرشتہ بھی نازل کر دیا جاتا تو پھر فیصلہ ہوجاتا اور ان کو مہلت بھی نہ ملتی اور اگر ہم فرشتے کو اتارتے تب بھی اسے انسانی شکل میں ہی اتارتے اور جس شبہ میں یہ اس وقت پڑے ہوئے ہیں اسں وقت بھی ایسے ہی پڑے رہتے۔

آگے چل کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور عظمت وکبریائی خوب بیان ہوئی ہے اور اللہ کی قدرت اور بے شمار نشانیوں کے زریعے دلیل دی گئی جو کائنات میں چاروں اطراف پھیلی ہوئی ہیں۔

۲۔ رسالت:

نبی علیہ السلام کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیائے کرام کا تذکرہ فرمایا ہے:
(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، (۲)حضرت اسحاق علیہ السلام ، (۳)حضرت یعقوب علیہ السلام ، (۴)حضرت نوح علیہ السلام ، (۵)حضرت داؤد علیہ السلام ، (۶)حضرت سلیمان علیہ السلام ، (۷)حضرت ایوب علیہ السلام ، (۸)حضرت یوسف علیہ السلام ، (۹)حضرت موسٰی علیہ السلام ، (۱۰)حضرت ہارون علیہ السلام ، (۱۱)حضرت زکریا علیہ السلام ، (۱۲)حضرت یحیٰ علیہ السلام ، (۱۳)حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، (۱۴)حضرت الیاس علیہ السلام ، (۱۵)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، (۱۶)حضرت یسع علیہ السلام ، (۱۷)حضرت یونس علیہ السلام ، (۱۸)حضرت لوط۔

۳۔ قیامت:

۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تمام انسانوں کا جمع کرے گا۔ (آیت:۱۲)
۔۔۔ روزِ قیامت کسی انسان سے عذاب کا ٹلنا اس پر اللہ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ (آیت:۱۶)

۔۔۔ روزِ قیامت مشرکین سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کہاں ہیں تمھارے شرکاء؟ (آیت:۲۲)

۔۔۔ اس روز جہنمی تمنا کریں گے کہ کاش! انھیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ اللہ رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والے بن جائیں۔(آیت:۲۷)


آٹھواں پارہ (سورۃ الانعام 111 – سورۃ الاعراف 87 تک)

اس پارے میں دو حصے ہیں:
۱۔ سورۂ انعام کا بقیہ حصہ
۲۔سورۂ اعراف کا ابتدائی حصہ

(پہلا حصہ) سورۂ انعام کے بقیہ حصے میں چار باتیں ہیں:

۱۔ تسلی رسول
۲۔ مشرکین کی چار حماقتیں
۳۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں
۴۔ دس وصیتیں

۱۔ تسلی رسول:

اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہے کہ یہ لوگ ضدی ہیں، معجزات کا بے جا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، اگر مردے بھی ان سے باتیں کریں تو یہ پھر بھی ایمان نہ لائیں گے، قرآن کا معجزہ ایمان لانے کے لیے کافی ہے۔

۲۔ مشرکین کی چار حماقتیں:

۱۔ یہ لوگ چوپایوں میں اللہ تعالیٰ کا حصہ اور شرکاء کا حصہ الگ الگ کردیتے، شرکاء کے حصے کو اللہ تعالیٰ کے حصے میں خلط نہ ہونے دیتے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ شرکاء کے حصے میں مل جاتا تو اسے برا نہ سمجھتے۔ (آیت:۱۳۵)

۲۔ فقر یا عار کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کردیتے۔ (آیت:۱۳۶)

۳۔ چوپایوں کی تین قسمیں کر رکھی تھیں: ایک جو ان کے پیشواؤں کے لیے مخصوص، دوسرے وہ جن پر سوار ہونا ممنوع، تیسرے وہ جنھیں غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے تھے۔ (آیت:۱۳۸)

۴۔ چوپائے کے بچے کو عورتوں پر حرام سمجھتے اور اگر وہ بچہ مردہ ہوتا تو عورت اور مرد دونوں کے لیے حلال سمجھتے۔ (آیت:۱۳۹)

۳۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں:
(۱)کھیتیاں (۲)چوپائے

۴۔ دس وصیتیں:

(۱)اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)
(۲)ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)
(۳)اولاد کو قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)
(۴)برائیوں سے اجتناب کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)
(۵)ناحق قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)
(۶)یتیموں کا مال نہ کھایا جائے۔ (آیت:۱۵۲)
(۷)ناپ تول پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)
(۸)بات کرتے وقت انصاف کو مد نظر رکھا جائے۔ (آیت:۱۵۲)
(۹)اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)
(۱۰)صراط مستقیم ہی کی اتباع کی جائے۔ (آیت:۱۵۳)

(دوسرا حصہ) سورۂ اعراف کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں ہیں:

۱۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں
۲۔ چار ندائیں
۳۔ جنتی اور جہنمیوں کا مکالمہ
۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل
۵۔ پاتچ قوموں کے قصے

۱۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں:

(۱)قرآن کریم (۲)تمکین فی الارض (۳)انسانوں کی تخلیق (۴)انسان کو مسجود ملائکہ بنایا۔

۲۔ چار ندائیں:

صرف اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار مرتبہ يَا بَنِي آدَمَ کہہ کر پکارا ہے۔ پہلی تین نداؤں میں لباس کا ذکر ہے، اس کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر رد کردیا کہ تمھیں ننگے ہوکر طواف کرنے کو اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا جیسا کہ ان کا دعوی تھا۔ چوتھی ندا میں اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول کی ترغیب دی ہے۔

۳۔ جنتیوں اور جہنمیوں کا مکالمہ:

جنتی کہیں گے: ”کیا تمھیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا یقین آگیا؟“، جہنمی اقرار کریں گے، جہنمی کھانا پینا مانگیں گے، مگر جنتی ان سے کہیں گے: ”اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اپنی نعمتیں حرام کر دی ہیں۔“

۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل:

(۱)بلند وبالا آسمان (۲)وسیع وعریض عرش (۳)رات اور دن کا نظام (۴)چمکتے شمس و قمر اور ستارے (۵)ہوائیں اور بادل (۶)زمین سے نکلنے والی نباتات

۵۔ پانچ قوموں کے قصے:

(۱)قوم نوح (۲)قوم عاد (۳)قوم ثمود (۴)قوم لوط اور (۵)قوم شعیب
ان قصوں کی حکمتیں: (۱)تسلی رسول (۲)اچھوں اور بروں کے انجام بتانا (۳)اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں (۴)رسالت کی دلیل کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امی ہونے کے باوجود پچھلی قوموں کے قصے بتا رہے ہیں (۵)انسانوں کے لیے عبرت و نصیحت


نواں پارہ (سورۃ الاعراف 88 – سورۃ الانفال 40 تک)

اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ اعراف کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ انفال کا ابتدائی حصہ

(۱) سورۂ اعراف کے بقیہ حصے میں چھ باتیں یہ ہیں:​

۱۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی قصہ
۲۔ عہد الست کا ذکر
۳۔ بلعم بن باعوراء کا قصہ
۴۔ تمام کفار چوپائے کی طرح ہیں
۵۔ قیامت کا علم کسی کو نہیں
۶۔ قرآن کی عظمت

پوری انسانیت کے نبی:

توریت اور انجیل میں رسالت محمدی ص کی گواہی ہے اور یہ بتایا گیا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لیے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

بلعم بن باعوراء کا قصہ:

فتح مصر کے بعد جب بنی اسرئیل کو قوم جبارین سے جہاد کرنے کا حکم ملا تو جبارین ڈرگئے اور بلعم بن باعوراء کے پاس آئے کہ کچھ کرو، بلعم کے پاس اسم اعظم تھا، اس نے پہلے تو اس کی مدد سے منع کیا، مگر جب انھوں نے رشوت دی تو یہ بہک گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرئیل کے خلاف بد دعائیہ کلمات کہنے شروع کیے، مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ وہ کلمات خود اس کے اور قوم جبارین کے خلاف نکلے، اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان نکال کر اس کو کتے کی طرح کردیا۔ فمثله كمثل الكلب

(۲) سورۂ انفال کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں تین باتیں یہ ہیں:​

۱۔ غزوہ بدر اور مال غنیمت کا حکم
۲۔ مومنین کی پانچ صفات
۳۔ چھ بار مومنین سے خطاب

مومنین کی پانچ صفات یہ ہیں:

(۱)خشیت (۲)تلاوت (۳)توکل (۴)نماز (۵)سخاوت (آیت:۲و۳)

چھ بار مومنین سے خطاب:

(۱) آیت: ۱۴ (اے ایمان والو! میدان جنگ میں کفار کے مقابلے سے پیٹھ نہ پھیرنا)

(۲) آیت: ۲۰ (اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو)

(۳) آیت: ۲۴ (اے ایمان والو! اللہ اور رسول جب کسی کام کے لیے بلائیں تو ان کا حکم قبول کرو)

(۴) آیت: ۲۷ (اے ایمان والو! نہ اللہ اور رسول سے خیانت کرو نہ اپنی امانتوں میں)
(۵) آیت: ۲۹ (اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھیں ممتاز کردے گا اور تمھارے گناہ معاف کردے گا)

(۶) آیت: ۴۵ (اے ایمان والو! دشمن سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو)


دسواں پارہ (سورۃ الانفال 41 – سورۃ التوبہ 92 تک)

اس پارے میں دو حصے ہیں:
۱۔ سورۂ انفال کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ توبہ کا ابتدائی حصہ

(۱) سورۂ انفال کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں یہ ہیں:

۱۔ مال غنیمت کا حکم
۲۔ غزوۂ بدر کے حالات
۳۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب
۴۔ جنگ سے متعلق ہدایات
۵۔ ہجرت اور نصرے کے فضائل

۱۔ مال غنیمت کا حکم:

مال غنیمت کا حکم یہ بیان ہوا کہ خمس نبی علیہ السلام آپ کے اقرباء یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور باقی چار حصے مجاہدین کے لیے ہیں۔

۲۔ غزوۂ بدر کے حالات:

(۱) کفار مسلمانوں کو اور مسلمان کفار کو تعداد میں کم سمجھے اور ایسا اس لیے ہوا کہ اس جنگ کا ہونا اللہ کے ہاں طے ہوچکا تھا۔
(۲) شیطان مشرکین کے سامنے ان کے اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا رہا دوسری طرف مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے نازل ہوئے۔
(۳) قریش غزوۂ بدر میں ذلیل و خوار ہوئے۔

۳۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب:
(۱) میدان جنگ میں ثابت قدمی۔
(۲) اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے۔
(۳) اختلاف اور لڑائی سے بچ کر رہنا۔
(۴) مقابلے میں نا موافق امور پر صبر۔

۴۔ جنگ سے متعلق ہدایات:

(۱) دشمنوں سے مقابلے کے لیے مادی، عسکری اور روحانی تینوں اعتبار سے تیاری مکمل رکھیں۔
(۲) اگر کافر صلح کی طرف مائل ہوں تو صلح کرلو۔

۵۔ ہجرت اور نصرت کے فضائل:

(۱) مہاجرین و انصار سچے مومنین ہیں (۲) گناہوں کی مغفرت (۳) رزق کریم کا وعدہ

(۲) سورۂ توبہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ جہاد
مشرکین سے جو معاہدے ہوئے تھے ان سے براءت کا اعلان ہے، مشرکین کو حج بیت اللہ تعالیٰ سے منع کردیا گیا، اہل کتاب کے ساتھ قتال کی اجازت دی گئی۔

۲۔ مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز

منافقوں اور مسلمانوں میں امتیاز کرنے والی بنیادی چیز غزوۂ تبوک بنی، رومیوں کے ساتھ مقابلہ جو وقت کے سپر پاور تھے اور شدید گرمی اور فقر و فاقہ کے موقع پر پھل پکے ہوئے تھے، مسلمان سوائے چند کے سب چلے گئے، جبکہ منافقین نے بہانے تراشنے شروع کردیے، پارے کے آخر تک منافقین کی مذمت ہے، قدرت کے باوجود میدان جہاد سے بھاگے اور جھوٹے بہانے تراشے، وہ مسلمانوں کے لیے دل میں بغض و حسد رکھتے، مسلمانوں کی خوشی و کامیابی پر غمزدہ ہوتے اور مسلمانوں کے نقصان پر خوش ہوتے،

دوسری طرف مسلمانوں کو قسمیں کھا کر اپنا ہونے کا یقین دلاتے، ہمیشہ مال کے طلب گار رہتے، بخل ان کی فطرت تھی، ہمیشہ آپصلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نازیبا کلمات کہتے۔ ان کے لیے فرمادیا کہ اے پیغمبر! آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں تو بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا اور اگر ان میں کسی کا انتقال ہوجائے تو اپ اس کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھیے گا، پھر ان مسلمانوں کا بھی ذکر ہے جو کسی عذر کی وجہ سے اس غزوے میں نہ جاسکے۔

یہ خلاصہ تراویح میں تلاوت کیے جانے والے حصے کی ایک جھلک پیش کرتا ہے، جس سے قرآن کے اہم موضوعات اور پیغامات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

پہلے پارے میں سورۃ الفاتحہ کی ہدایت کی دعا اور سورۃ البقرہ میں ایمان، کفر، تخلیق آدم اور بنی اسرائیل کی تاریخ کا ذکر ہے۔

دوسرے پارے میں قبلہ کی تبدیلی، روزہ، حج اور سود کی ممانعت جیسے موضوعات شامل ہیں۔

تیسرے پارے میں آیت الکرسی، اللہ کی قدرت و علم، اور غزوہ اُحد کا بیان کیا گیا ہے۔

چوتھے پارے میں یتیموں کے حقوق، وراثت کے احکام اور نکاح و طلاق کے مسائل بیان ہوئے ہیں، جبکہ

پانچویں پارے میں ازدواجی زندگی کے اصول، نماز اور عدل و انصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔

چھٹے پارے میں حرام و حلال کھانے، عہد کی پاسداری اور یہود و نصاریٰ کی سازشوں کا ذکر ملتا ہے۔

ساتویں پارے میں حضرت عیسیٰؑ کی نبوت اور سورۃ الانعام میں توحید کی دعوت اور انبیاء کا ذکر شامل ہے۔

آٹھویں پارے میں رسولوں کی تکذیب، عذابِ الٰہی اور حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔

نویں پارے میں اصحابِ سبت کا ذکر اور سورۃ الانفال میں جنگِ بدر اور جہاد کی تعلیمات شامل ہیں۔

دسویں پارے میں مالِ غنیمت، جہاد، نفاق اور غزوہ تبوک کا بیان ہے۔

یہ تمام موضوعات قرآن کے بنیادی پیغامات کو اجاگر کرتے ہیں اور مسلمانوں کو ہدایت، عدل، صبر اور نیکی کی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔


متعلقہ خبریں

Back to top button