
کینسر کی دوائیں سستی کرنے کی تیاری، حکومت منافع کی حد مقرر کرے گی
کینسر کی دواؤں کی قیمتوں پر کنٹرول کی تیاری، مریضوں کو راحت ملنے کی امید۔،
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کینسر کے علاج پر اٹھنے والے بھاری اخراجات سے پریشان مریضوں کو راحت ملنے کی امید ہے۔ مرکزی حکومت کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی دواؤں پر تاجروں کے منافع کی حد مقرر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ حکومت ایسی دواؤں کی فہرست جاری کرے گی جن پر زیادہ سے زیادہ تجارتی منافع کی حد لاگو ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد دواؤں کی قیمتوں میں غیر معمولی فرق کو کم کرنا اور مریضوں پر علاج کا مالی بوجھ گھٹانا ہے۔
حکومت کی بات سننے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ دواؤں کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے صرف کینسر کی ادویات تک محدود رہنا کافی نہیں ہوگا۔ عدالت کے مطابق دوسری دواؤں کے معاملے میں بھی ایسی ہی پالیسی پر غور کیا جانا چاہیے، تاکہ مریضوں کو غیر ضروری طور پر زیادہ قیمت ادا نہ کرنی پڑے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 27 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔
اس سے قبل 29 ستمبر کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دواؤں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت، یعنی ایم آر پی (MRP)، اور ریٹیلر کو فراہم کی جانے والی قیمت، یعنی پی ٹی آر (PTR)، کے درمیان بڑے فرق پر سوال اٹھائے تھے۔ عدالت نے تجویز دی تھی کہ ان دونوں قیمتوں کے درمیان فرق 16 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ججوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ جب ضروری دواؤں پر ریٹیلر کے منافع کی حد مقرر کی جا سکتی ہے تو دوسری دواؤں کے لیے بھی ایسا انتظام کیوں نہیں کیا جا سکتا۔
22 ستمبر کو جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے کینسر کی ایک دوا کی مثال دیتے ہوئے قیمتوں کے فرق پر سخت تشویش ظاہر کی تھی۔ عدالت کے سامنے بتایا گیا کہ ایک دوا کی ریٹیلر قیمت تقریباً 2,700 روپے ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت 27,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ ججوں نے اس فرق کو مریضوں کے ساتھ ’دن دہاڑے ڈکیتی‘ اور ’وصولی‘ جیسا قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ میں دائر عرضیوں میں ڈرگس پرائس کنٹرول آرڈر (DPCO)، 2013 کے موجودہ نظام پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ عرضی گزار کشور چند جین اور سنجے کلشریشٹھا کے مطابق، اس نظام کے تحت قیمتوں پر کنٹرول بنیادی طور پر مقررہ فہرست میں شامل ضروری دواؤں تک محدود ہے، جبکہ اس فہرست سے باہر کی دواؤں کی ابتدائی قیمتوں پر حکومت کا مؤثر کنٹرول نہیں ہے۔ عرضی گزاروں کا دعویٰ ہے کہ بازار میں دستیاب مجموعی دواؤں میں سے تقریباً 17 فیصد ہی اس مقررہ فہرست میں شامل ہیں۔
29 ستمبر کی سماعت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی تسلیم کیا تھا کہ دواؤں کی قیمتوں میں نمایاں فرق کی شکایت کو مکمل طور پر غلط نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اس فرق کا براہ راست فائدہ صرف دوا ساز کمپنیوں کو پہنچتا ہے، اس نتیجے پر وہ متفق نہیں ہیں۔ حکومت نے اس معاملے میں تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
اب حکومت کی جانب سے کینسر کی دواؤں کے لیے تجارتی منافع کی حد مقرر کرنے کی تجویز پر سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، مریضوں کو حقیقی راحت کتنی ملے گی، اس کا انحصار مجوزہ فہرست، منافع کی مقررہ حد اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر ہوگا۔



