✍️حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئی
سماج کو درپیش مسائل میں اسوقت رشتوں کا انتخاب باالخصوص لڑکیوں کی شادی ایک بہت اہم مسئلہ بن چکا ہے کئی والدین چاہتے ہوئے بھی اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہیں کرپارہے ہیں یہ بڑی دکھ کی بات ہے ہم سب جانتے ہیں کہ غیراسلامی اور غیر انسانی رسم ورواج کی وجہ سے غریبوں کی بیٹیاں بے بسی کی چادر اوڑھے چاردیواری میں بیٹھی ہوئی بوڑھی ہو رہی ہیں اس بات سے ہم بخوبی واقف ہیں کہ لڑکی کا دنیا میں پہلا روپ ہی رحمت ہے جو بیٹی بن کر دلوں پر راج کرتی ہے بھائی کی سچی اور مخلص دوست اور ماں کا بازو بن کر رہ جاتی ہے بیوی ہوتی ہے تو ایک پختہ اور ہمیشہ ساتھ نبھانے والی عورت اور ماں ہوتی ہے تو اس کے قدموں میں جنت ڈال دیتا ہے۔
اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ آج ایسی ہزار لڑکیاں موجود ہیں جن کے والدین اچھے اور مناسب رشتے کی راہ تکتے ہیں لیکن جو رشتے آتے ہیں ان کے معیار اتنے بلند ہوتے ہیں کہ وہ ان پر پورا اترنے کی سکت نہیں رکھتےاس صورت حال میں ان والدین کی حالت قابل رحم ہوتی ہے جن کی بیٹیاں ہاتھ پیلےھونے کے انتظار se میں گھر بیٹھی بوڑھی ہورہی ہیں افسوس کہ ہم اپنے بیٹوں کے لیے رشتہِ تلاش کرتے ہیں تو لڑکی اور اس کے گھر والوں کے لیے ایک بلند معیار قائم کر لیتے ہیں لیکن جب خود اپنی بیٹی کے لیے آنے والے رشتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی سے لڑکے والے صرف شرافت اور سیرت کی بنیاد پر رشتہ کرلیں۔
سچ یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کا معیار بہت ہی تلخ ہوچکا ہےاکثر ماں باپ خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہیں اس لیے رشتہ ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف مشکل سےمشکل ترہوتاجارہا ہے اور جس کی وجہ سے سماج میں برائیاں آسان اور نکاح مشکل ہوتا جارہا ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ برائیوں کی آندھیاں تیز سے تیز ترہوتی جا رہی ہے نکاح کو مشکل بنانے کی وجہ سے معاشرہ برائیوں کے دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے لیکن ہمیں کسی بات کا ہوش نہیں ہے۔
ہماری بیشتر نوجوان نسل شادی میں تاخیر کیوجہ سے گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ بنانےکی روش اپنارہی ہے اس لئے میری درد مندانہ اپیل ہے خدارا نکاح کو پہاڑ جیسا بوجھ مت بنائیں بلکہ آسان بنائیں کیونکہ انسان جن چیزوں کا متلاشی رہتا ہے ان میں ایک سکون بھی ہےاور یہ جائز سکون انسان کو کنبہ اور خاندان کو وجود میں لانے سے ملتی ہے اور یہ نکاح کے ذریعے ہی ممکن ہے اس لیے نکاح کو ہلکا پھلکا بنائیے تاکہ غریب بچوں کی بھی شادی ہوسکے،معاشرے کو برائی سے بچائیےآسان نکاح کوفروغ دیجیے اسکے ذریعے ہی معاشرے سے زنا جیسی مذموم برائی کا دروازہ ہمیشہ ہمیشں کیلئےبند کیاجاسکتا ہے۔



