نئی دہلی، 9 جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی پولیس نے مبینہ اشتعال انگیز تقریر کو لے کر ایک بڑی کارروائی کے دوران رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے خلاف ایف آئی آردرج کیا ہے۔ یہ ایف آئی آر سوشل میڈیا پر دیئے گئے اشتعال انگیز بیان سے متعلق ہے، اسے دہلی پولیس کی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشن‘ (IFSO) برانچ نے درج کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنے متنازعہ بیانات کو لے کر بحث میں رہنے والے نرسمہانند کا نام بھی اس ایف آئی آر میں ہے۔
ایف آئی آر پر دہلی پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ سوشل میڈیا کے تجزیہ کے بعد دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جو مسلسل امن عامہ کے خلاف پیغامات پوسٹ اور شیئر کر رہے تھے اور اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے لوگوں کو اُکسا رہے تھے۔دونوں ایف آئی آر آئی پی سی کی دفعہ 153، 295 اور 505 کے تحت درج کی گئی ہیں۔
ایک ایف آئی آر نوپور شرما کے خلاف ہے جب کہ دوسری ایف آئی آر میں نوین کمار جندل، شاداب چوہان، صبا نقوی، مولانا مفتی ندیم، عبدالرحمان، گلزار انصاری، انیل کمار مینا، پوجا شکون، اسد الدین اویسی اور نرسمہانند کے نام بھی درج ہیں۔دہلی پولیس کا الزام ہے کہ تمام ملزمان مبینہ طور پر نفرت انگیز پیغامات پھیلا رہے تھے، مختلف گروپوں کو اکسا رہے تھے اور ایسی صورتحال پیدا کر رہے تھے جو امن کی بحالی کے لیے نقصان دہ ہے۔



