دہلی کے ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی، 21 افراد جاں بحق، غیر ملکی شہری بھی شامل
مالویہ نگر کی یہ آتشزدگی حالیہ برسوں کے مہلک ترین حادثات میں شمار کی جا رہی ہے۔
نئی دہلی 03 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)قومی راجدھانی دہلی کے مالویہ نگر علاقے کے حوض رانی میں واقع ایک ہوٹل میں بدھ کی صبح لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 40 سے زائد افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں متعدد غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں جو علاج کی غرض سے دہلی آئے ہوئے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ صبح تقریباً آٹھ بج کر پچاس منٹ پر ’’فلورش اسٹے‘‘ نامی ہوٹل کے تہہ خانے میں قائم ریسٹورینٹ میں بھڑکی۔ دیکھتے ہی دیکھتے شعلے پوری عمارت میں پھیل گئے اور ساتھ واقع ایک دوسرے ہوٹل ’’مائیکاسا اِن‘‘ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
فائر بریگیڈ کو اطلاع ملتے ہی متعدد گاڑیاں، پانی کے ٹینکر، فوری امدادی گاڑیاں اور دیگر عملہ موقع پر روانہ کیا گیا۔ تنگ گلیوں اور گنجان آبادی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم فائر بریگیڈ اہلکاروں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی افراد نے جان بچانے کے لیے عمارت کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر نیچے چھلانگ لگا دی۔ بعض افراد گرنے کے باعث زخمی بھی ہوئے۔ مقامی لوگوں نے نیچے گدّے بچھا کر متاثرین کو بچانے کی کوشش کی۔
اطلاعات کے مطابق ہوٹل میں تقریباً 25 کمرے تھے اور آتشزدگی کے وقت 40 سے زیادہ مہمان موجود تھے۔ زیادہ تر افراد سو رہے تھے جب آگ نے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ابتدائی تحقیقات میں قواعد و ضوابط کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے اشارے ملے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہوٹل کو بستر و ناشتے (بی اینڈ بی) اسکیم کے تحت صرف چھ کمروں کے ساتھ چلانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن وہاں مبینہ طور پر 25 کمرے استعمال میں تھے، جن میں تہہ خانے میں قائم کمرے بھی شامل تھے۔
حکام یہ بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا ہوٹل نے آگ سے تحفظ کے لیے فائر این او سی سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا یا نہیں۔ مزید یہ کہ عمارت میں داخلے اور باہر نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ موجود تھا، جس نے حادثے کی شدت میں اضافہ کیا۔
دوسرے متاثرہ ہوٹل میں کام کرنے والے ایک باورچی نے بتایا کہ صبح کے وقت برقی چولہا چلانے کی کوشش کے دوران اسے صورتحال کا اندازہ ہوا۔ اس کے مطابق چند ہی لمحوں میں معلوم ہوا کہ آگ پوری عمارت میں پھیل چکی ہے، جس کے بعد اس نے فوری طور پر ساتھیوں کو خبردار کیا۔
پولیس، فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ اداروں نے حادثے کی وجوہات اور ممکنہ لاپروائیوں کی تفصیلی جانچ شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔



