دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی کامیاب ازدواجی زندگی-ڈاکٹرسید فرحان غنی
دلیپ کمار: ایک لازوال فنکار اور انسان
دلیپ کمار (یوسف خان) 11 دسمبر 1922ء کو پشاور کے محلہ خدا داد میں لالہ غلام سرور اعوان کے یہاں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ 1938ء میں بمبئی (ممبئی) کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے۔ اداکاری سے قبل دلیپ کمار پھلوں کی تجارت کرتے تھے اور انہوں نے پونا کی فوجی کینٹین میں پھلوں کی ایک دکان لگا رکھی تھی۔ دلیپ کمار نے 1944 ء میں فلم جوار بھاٹا سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا تھا۔ وہ ایک ہندوستانی اداکار، فلم پروڈیوسر اور ساتھ ہی ساتھ ایک بہترین انسان بھی تھے۔
دلیپ کمار کا فلم انڈسٹری میں قدم
دلیپ کمار جب فلم انڈسٹری میں آئے تو مصلحتاً ان کو اپنا نام محمد یوسف خان سے دلیپ کمار رکھنا پڑا کیونکہ شرفاء کے یہاں فلم میں کام کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا اور ان کے والد بھی فلم میں کام کرنے کے خلاف تھے چنانچہ محمد یوسف خان نے اپنا نام بدل کر دلیپ کمار رکھ لیا تھا تاکہ ان کے والد کو ان کے فلم میں کام کرنے کے بارے میں معلوم نہ ہو سکے۔
دلیپ کمار کی اردو زبان سے محبت
دلیپ کمار کو اردو زبان و ادب سے کافی شغف تھا۔ وہ عام بول چال میں بلند پایہ اردو زبان استعمال کرتے تھے اور نفیس اردو بولتے تھے۔ وہ اردو کے محسن و خمخوار تھے۔ ان کو اردو زبان پر عبور حاصل تھا۔ دلیپ کمار فلمی پارٹیوں میں کم لیکن مشاعروں اور اردو زبان کے ثقافتی پروگراموں میں زیادہ شامل ہوتے تھے۔ جب وہ ایسے پروگراموں میں شریک ہوتے تو کسی ادیب جیسی تقریر کرتے اور اردو کے اشعار بھی پیش کیا کرتے تھے۔
دلیپ کمار کا مشاعرہ اور ان کے اشعار
کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کے اعزاز میں ’’جشن سحر‘‘ کے عنوان سے ایک مشاعرہ ہواتھا جس میں ملک و بیرون ملک کے بڑے بڑے شعرا نے شرکت کی تھی۔ اس میں دلیپ کمار بھی اپنی بیگم سائرہ بانو کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ انہیں مائک پر بلایا گیا تو انہیں دیکھنے اور سننے کے لئے مجمع بے خود ہواتھا۔ وہ مائک پر آئے اور ان اشعار کے ساتھ تقریر شروع کی تھی:
"سکون دل کے لئے کچھ تو اہتمام کروں
ذرا نظر جو ملے پھر انہیں سلام کروں
مجھے تو ہوش نہیں آپ مشورہ دیجئے
کہاں سے چھیڑوں فسانہ کہاں تمام کروں”
آگے کی تقریر بھی خالص ادبی تھی اور انہوں نے درمیان تقریر اشعار پڑھ کر خوب داد وصول کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا:
"ہندوستان کے معاشرے کو اردو زبان نے بہت حسن بخشا ہے، بہت زینت بخشی ہے”۔
دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی لازوال محبت
دلیپ کمار کی شادی سائرہ بانو سے 11 اکتوبر 1966 کو ہوئی تھی۔ اس وقت دلیپ کمار 44 سال کے جب کہ سائرہ بانو صرف 22 سال کی تھیں۔ ان دونوں کی عمر کا فرق کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ یہ شادی طویل عرصے تک جاری نہیں رہ پائے گی، لیکن ان دونوں نے کامیاب ازدواجی زندگی گزاری۔ فیصل فاروقی (دلیپ کمار کے ترجمان) کا کہنا ہے کہ سائرہ باجی نے اپنے شوہر سے بے لوث اور لازوال محبت کی تھی۔
دلیپ کمار کی بے مثال محبت اور عہد
فیصل فاروقی کے مطابق ’’صاحب کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں مگر بیماری کے دوران سائرہ باجی خود صاحب کا خیال رکھتی تھیں۔ وہ بیک وقت صاحب کی ڈاکٹر، نرس، دوست، بیوی اور محبوبہ بھی تھیں‘‘۔ سائرہ بانو کہتی تھیں کہ ’’اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ صاحب کی طویل العمری کا راز کیا ہے تو وہ ایک ہی ہے جو ساری دنیا جانتی ہے صاحب کی سائرہ بانو سے محبت، یہ محبت ان کو کئی مرتبہ موت کے منہ سے کھینچ لائی تھی‘‘۔ دلیپ کمار کو ’’ٹریجڈی کنگ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
دلیپ کمار کی انڈسٹری میں خدمات
دلیپ کمار فلم انڈسٹری کے قدآوار فن کار تھے۔ اداکاری ان کا شوق تھا۔ انہوں نے کبھی پیسوں کی خاطر اپنے جذبات کا سودہ نہیں کیا۔ انہیں شہنشاہ جذبات بھی کہا جاتا تھا۔ ان کے فن کا لوہا فلم انڈسٹری کے سارے اداکار مانتے تھے۔ امیتابھ بچن کہتے ہیں کہ ’’دلیپ کمار سے بڑا فنکار کوئی ہے ہی نہیں‘‘۔ شاہ رخ خان کا کہنا ہے کہ ’’دلیپ کمار کی نقل کوئی کر ہی نہیں سکتا‘‘۔
دلیپ کمار کے انتقال پر ادبی تاثرات
دلیپ کمار کے انتقال پر بالی ووڈ اداکار سنیل شیٹی نے کہا تھا کہ ’’آج ایک دور کا اختتام ہوا اور ہم نے انڈین سنیما کے سب سے چمکدار ستارے کو کھو دیا۔ آپ ہمارے دلوں میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے دلیپ صاحب‘‘۔ دلیپ کمار سب سے زیادہ اعزازات اور انعامات حاصل کرنے والے اداکار تھے۔ دلیپ کمار کو فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں پدما بھوشن ایوارڈ اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈ حکومت ہند نے دیا تھا۔ دلیپ کمار کو پاکستان کے اعلیٰ ترین شہری ایوارڈ نشان امتیاز سے بھی نوازا جا چکا تھا۔
دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی جوڑی
بہر حال دلیپ کمار اور سائرہ بانو کو شادی کے بعد کئی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا، جن میں سے ایک سائرہ بانو کی صحت کا تھا۔ سائرہ بانو حاملہ تو ہوئیں لیکن طبی مسائل کے سبب وہ بچے کو جنم نہ دے سکیں اور دوبارہ وہ کبھی ماں بھی نہ بن سکیں۔ 2012 میں دلیپ کمار نے ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں بے اولاد ہونے پر کوئی افسوس نہیں ہے، اگر ہمارے اپنے بچے ہوتے تو یہ بہت اچھا ہوتا، ہمیں کوئی افسوس نہیں ہے ہم دونوں خدا کی مرضی کے تحت ہیں۔ اسی سوچ کی وجہ سے ان دونوں کے ازدواجی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا اور اولاد کی محرومی کے باوجود دونوں کبھی ایک دوسرے سے دور نہیں ہوئے۔
دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی ازدواجی زندگی کی مثال
فلم انڈسٹری میں دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی جوڑی ایک اٹوٹ جوڑی تھی۔ ایسی جوڑی فلم انڈسٹری میں پیدا ہوئی ہے اور نہ شاید کبھی پیدا ہوگی کیونکہ یہاں جوڑیاں فلمی انداز میں بنتی اور ٹوٹتی ہیں، لیکن ان دونوں نے اداکاری کے میدان میں بھی خوب نام کمایا اور جب شادی ہوگئی تو انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کو اپنی فنی زندگی پر فوقیت دی۔ سائرہ بانو اپنے فلمی کیرئیر کے دوران خود ایک مقبول اداکارہ تھیں لیکن دلیپ کمار سے شادی کے بعد انہوں نے اپنی پوری زندگی شوہر کے نام کردی۔ وہ شوہر کے سکھ اور دکھ میں سائے کی طرح ان کے ساتھ رہیں۔ اسے کہتے ہیں میاں بیوی کی بے لوث محبت۔
دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی لازوال جوڑی
یہ ان لڑکیوں کے لئے ایک زندہ جاوید مثال ہے جو اپنی کیریئر کو اپنی ازدواجی زندگی پر ترجیح دیتی ہیں۔ آج کی لڑکیاں تو اپنے شوہر کو چھوڑ دیں گی لیکن معمولی سی نوکری چھوڑنا ان کو منظور نہیں۔ دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی جوڑی 55 برس تک رہی۔ دلیپ کمار کے انتقال کے بعد یہ جوڑی ٹوٹ ضرور گئی لیکن دنیا میں شوہر اور بیوی کی لازوال جوڑی کے روپ میں ایک مثال چھوڑ گئی۔ ندا فاضلی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:
"ہوش والوں کو خبر کیا ہے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجئے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے”
منفی کردار ساہوکار کو بخوبی ادا کرنے والے،کنہیا لال-سلام بن عثمان


