سیاسی و مذہبی مضامین

دوست دشمن میں تمیز کرو اور احتیاط سے کام لو

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کیلئے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اسے فورا نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے۔ اگر تم دنیوی فائدے چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لئے بہت سے اموال غنیمت ہیں۔ آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو۔ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ،لہذا تحقیق سے کام لو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔(سورہ النساء آیت :94)

سلام کی حقیقت

مختلف مذاہب میں لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو مختلف الفاظ ادا کرتے ہیں لیکن مذہب اسلام اس کے ماننے والے (اہل ایمان )حضرات کو ملاقات کا طریقہ بتایا ہے ’’السلام علیکم‘‘ کے الفاظ ادا کرتے ہوئے ملاقات کی جائے اور اس کا جواب ’’وعلیکم السلام‘‘ سے دیاجائے اس طرح ایک مومن دوسرے مومن بھائی کو جب سلام کرتا ہے تو در حقیقت یہ چند رسمی کلمات نہیں ہیں بلکہ ان الفاظ کے ذریعہ اپنے بھائی کواس بات کا یقین دلا رہا ہے کہ میں تمہارا دوست ہوں اور تمہاری اپنا بھائی ہوں ، تم جس دین حق پر چل رہے ہو میں بھی اسی پر چلتا ہوں بہ الفاظ دیگر میری جانب سے تمہیں کوئی اندیشہ نہ ہونا چاہئے اس طرح سلام کا جواب دینے والا بھی ’’وعلیکم السلام‘‘کے الفاظ ادا کرتے ہوئے صرف ایک رسم کو ادا نہیں کرتا بلکہ اپنے اس جواب کے ذریعہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ تم بھی مجھ سے مطمئن رہو کہ میں بھی تمہاری (اسلامی) برادری کا ایک فرد ہوں کوئی غیر نہیں ہوں، تو یہ رہی سلام سے متعلق مختصر وضاحت۔

مومن کی جان کا تحفظ

آیت مبارکہ پر اچھی طرح نظر ڈالی جائے تو اس کا مرکزی مضمون ہمارے سامنے آتا ہے کہ جنگ کے موقع پر اسلامی مجاہدین سے کوئی ایسی غلطی نہ ہو جس سے ایک مومن کی جان چلی جائے۔

جب حق و باطل کی معرکہ آرائی ہوتی اور مسلمان کسی دشمن اسلام گروہ پر حملہ کرتے تو اس کی لپیٹ میں بعض وقت مسلمان بھی آجاتے یعنی جو لوگ اسلام کو دل سے قبول کرتے ہوئے بھی کفار و مشرکین کے شر سے بچنے کیلئے اس کا اظہار نہ کرتے اور جب ان کا سامنا (ملاقات ) اسلامی مجاہدین سے ہوتا تو اس کااظہار ’’السلام علیکم‘‘ کے الفاظ ادا کرتے ہوئے کرتے لیکن اسلامی فوج کو اس بات پر شبہ ہوتا کہ یہ باطل گروہ سے تعلق رکھتا ہے اور محض اپنی جان بچانے کیلئے السلام علیکم کہہ رہا ہے اور مسلمان ہونے کا ڈھونگ کررہاہے۔

اس طرح شبہ کی بنیاد پر ایسے شخص کا بسا اوقات قتل کردیا جاتا اور اس کا مال غنیمت کے طور پر لے لیا جاتا لہذا آیت مذکور میں شک و شبہ کی بنیاد پر اقدام کرتے ہوئے کسی کو قتل کرنے سے اسلامی فوج کو روکا جارہا ہے اور ہدایت کی جارہی ہے کہ کوئی اجنبی تم کو سلام کرتے ہوئے (جنگ کے موقع پر ) تمہارے سامنے آتا ہو تو ایسی حالت میں احتیاط سے کام لو اور فوراً نہ کہدو کہ تو مومن نہیں ہے اور نہ ہی فوراً اس پر تلوار اٹھادو۔

شان نزول

یہ آیت مرداس بن نہیک کے حق میں نازل ہوئی جو اہل فدک میں سے تھے اور ان کے سوا ان کی قوم کا کوئی شخص اسلام نہ لایا تھا اس قوم کو خبر ملی کہ لشکر اسلام ان کی طرف آرہا ہے ،تو قوم کے سب لوگ بھاگ گئے مگر مرداس ٹھہرے رہے ،جب انہوں نے دور سے لشکر کو دیکھا تو بایں خیال کہ مبادا کوئی غیر مسلم جماعت ہو یہ پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں لے کر چڑھ گئے جب لشکر آیا اور انہوں نے ’’اللہ اکبر‘‘کے نعروں کی آوازیں سنیں تو خود بھی تکبیر پڑھتے ہوئے اتر آئے اور کہنے لگے۔

’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘السلام علیکم مسلمانوں نے خیال کیا کہ اہل فدک تو سب کافر ہیں یہ شخص مغالطہ دینے کیلئے اظہار ایمان کرتا ہے بیں خیال اسامہ بن زید نے ان کو قتل کردیا اور بکریاں لے آئے جب سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوئے تو تمام ماجرا عرض کیا حضور کو نہایت رنج ہوا اور فرمایا تم نے اس کو سامان کے سبب قتل کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کو حکم دیا کہ مقتول کی بکریاں اس کے اہل کو واپس کریں۔ حوالہ کنزالایمان

ایک بہتر غلطی

حضرت علامہ مودودی رحمت اللہ علیہ اس سلسلہ میں یوں لکھتے ہیںکہ ’’آیت کا منشا یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کی حیثیت سے پیش کررہا ہے اس کے متعلق تمہیں سرسری طور پر یہ فیصلہ کردینے کا حق نہیںہے کہ وہ محض جان بچانے کیلئے جھوٹ بول رہا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ سچا ہواور ہوسکتا ہے کہ جھوٹا ہو،حقیقت تو تحقیق ہی سے معلوم ہوسکتی ہے۔

’’مگر یہاں ایک بات خاص طور پر سمجھنے اور یاد رکھنے کی ہے کہ قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے اس کو کافر کہنا یا سمجھنا جائز نہیں اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جب تک اس سے کسی ایسے قول و فعل کا صدور نہ ہو جو کفر کی یقینی علامت ہے اس وقت تک اس کے اقرار اسلام کو صحیح قرار دیکر اس کو مسلمان کہا جائے گا اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے اس کی قلبی کیفیات ،کیفیات اخلاص یا نفاق سے بحث کرنے کا کسی کو حق نہ ہوگا۔ (حوالہ معارف القرآن جلد دوم)
مومن کا مقام ساری دنیا سے بلند

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان کے قتل سے دنیا کا ختم ہوجانا زیادہ بے وقعت ہے۔(حوالہ ترمذی ابواب دیت صفحہ 700)

اس حدیث پر اچھی طرح غور کرنے سے ہمارے سامنے یہ بات آرہی ہے کہ ایک مومن کی جان کے مقابلہ میں ساری دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں۔

لَزَوَالْ الدّْنیَا اَھوَنْ عَلَی اللّٰہِ مِن قَتلِ رَجْلٍ مْسلِمٍ

اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کے ہمیں کسی کے قتل نا حق کے ارتکاب سے بچائے رکھے آمین۔

×××

متعلقہ خبریں

Back to top button