ٹیلر کوہن سان فرانسسکو میں رہتے ہیں۔ روزگار کی تلاش میں انہوں نے سب سے پہلے 25؍ اگست 2019ء کو گوگل کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست داخل کی تھی۔ لیکن ٹیلر کو کامیابی نہیں ملی۔ قارئین کرام یوں تو ملازمت کے حصول کے لیے لاکھوں، کروڑ وں نوجوان ہر سال درخواستیں داخل کرتے ہیں اور بہت سارے نوجوان ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں اور ان سب سے زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں ملازمت نہیں ملتی اور آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لیکن سان فرانسسکو کے ٹیلر کوہن کی کہانی عجیب بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ اس نوجوان نے گوگل کمپنی میں ملازمت کے حصول کے لیے ایک دو ایک مرتبہ نہیں بلکہ 40 مرتبہ درخواستیں داخل کیں اور 39 ویں مرتبہ اس کی درخواست کو رد کردینے کے بعد 40 ویں مرتبہ کمپنی نے اس کو خوش خبری دی کہ اس کا بالآخر انتخاب عمل میں آیا ہے۔
اخبار ہندوستان ٹائمز میں 27؍ جولائی 2022ء کو شائع خبر کے مطابق اس نوجوان کی جہد مسلسل کی کہانی وائرل ہوگئی۔ After 39 rejections, man is hired by Google on 40th attempt. His story is viral اس سرخی کے تحت شائع رپورٹ کے مطابق 25؍ اگست 2019ء سے ٹیلر کوہن مسلسل درخواستیں داخل کرتا رہا اور 19؍ جولائی 2022ء کو اس نوجوان کو کمپنی کی جانب سے منتخب کرنے کی خوشخبری مل گئی۔
کیا جہد مسلسل کی یہ کوئی اکلوتی مثال ہے۔ اس سوال کا جواب ہے کہ نہیں۔ عملی زندگی میں ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جس میں نوجوانوں نے مسلسل محنت کر کے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ثابت کیا کہ منزل پانے کی تمنا اگر سچی ہے تو محنت سے کترانا بالکل بھی درست نہیں ہے۔
برطانیہ کے شہر برمنگھم میں سال 2022ء کے کامن ویلتھ کھیلوں کا انعقاد عمل میں آرہا ہے۔ ان مقابلوں میں ویٹ لفٹر اچنتا شیولی نے ہندوستان کے لیے تیسرا گولڈ میڈل جیت کر ایک تاریخ رقم کی ہے۔ اچنتا کی عمر 20 برس ہے اور اگر ہم اس نوجوان کھلاڑی کی پرسنل لائف پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ یہ نوجوان کس طرح زندگی کے ہر قدم پر جدو جہد کرتا رہا اور بالآخر اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اچنتا کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ اس کے والد رکشہ چلاتے تھے لیکن رکشہ چلاکر بھی وہ اپنے گھر کی ضروریات کو پورا نہیں کرپاتے تھے۔تو انہوں نے ساتھ ہی مزدوری بھی شروع کی۔
سال 2013ء میں اچنتا کے والد کا انتقال ہوگیا۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے اچنتا کی ماں نے لوگوں کے کپڑے سینے شروع کردیا۔ اس کے گائوں میں زری کا کام مشہور تھا تو ماں اور اس کے بھائی زری کا کام کرنے لگے۔ صبح 6:30 سے لے کر رات دیر گئے تک یہ لوگ زری کا کام ایک کنٹراکٹر کے لیے کرتے تھے۔ لیکن اچنتا کے لیے خاص غذاء کی ضرورت تھی۔ کیونکہ وہ ویٹ لفٹنگ کے میدان میں پریکٹس کر رہا تھا۔ اچنتا کے بھائی نے خود محنت کر کے اپنی پڑھائی کو روک کر اپنے چھوٹے بھائی کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔
ساتھ اچنتا کو ماہانہ 600 تا 700 کا جیب خرچ دیا جاتا تھا تاکہ وہ ویٹ لفٹنگ کے میدان میں اپنی ٹریننگ جاری رکھ سکے۔اچنتا کے کوچ نے کہا کہ میرے پاس ایسے کئی کھلاڑی ہیں جو جسمانی اعتبار سے اس سے کہیں بہتر ہیں لیکن کسی کے پاس بھی کھیل کود کی وہ بھوک نہیں جو اچنتا کے پاس ہے۔ سال 2014ء میں اچنتا کا بطور حوالدار ہندوستانی آرمی میں انتخاب عمل میں آیا۔ 2019ء میں اچنتا نے 18 برس کی عمر میں قومی سطح پر گولڈ میڈل جیتا اور پھر کامن ویلتھ گیمس میں پورے ملک کا نام روشن کیا۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے یکم؍ اگست 2022ء کی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اچنتا کی ماں جب لوگوں کا زری کا کام کرتی تھی تو وہ اپنی ماں کا ہاتھ بٹایا کرتا تھا۔ اور ماں کے ساتھ جاکر لوگوں کو ان کے کپڑے واپس پہنچایا کرتا تھا۔ محنت کے اس راستے سے گزر کر اور آگے بڑھ کر اچنتا نے ثابت کیا کہ رکشہ چلانے والے کا لڑکا ہونا بری بات نہیں ہے اور نہ ہی کسی کی ماں زری کا کام کرتی ہے تو اس کام میں خامی ہے۔
ہاں اگر خامی ہے تو خالی رہنے میں اور محنت سے جی چرانے میں ہے۔
صرف ہمارے ملک ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں لوگوں کے لیے پہلی ترجیح روزگار اور ملازمت کا حصول ہے۔ کویڈ 19 کے بحران نے ملازمت کو ایک مشکل امر بنادیا ہے۔ ایسا ہی حال سنگاپور کا بھی ہے۔
مسٹر ونسن گبرئیل کی عمر 50 برس ہے۔ کرونا کے بحران میں ان کی نوکری چلی گئی۔ 10 مہینوں تک وہ بے روزگار رہے۔ اس سارے عرصے کے دوران انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں تیز کردیں۔ اپنا بائیو ڈاٹا بہتر بنایا۔ نیٹ ورکنگ کی صلاحیتوں کو سیکھا۔ سوشیل میڈیا کی مارکٹنگ کے گن سیکھے اور پھر 10 مہینوں کے بعد ان کو ایک نئی ملازمت مل گئی۔ (بحوالہ ٹوڈے آن لائن ڈاٹ کام)
مسٹر گبرئیل کے مطابق انہیں پہلے تو ڈر تھا کہ 50 سال کی عمر میں ان کے لیے ایک نئی ملازمت حاصل کرنا مسئلہ ہے۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مارکٹ میں کیا ڈیمانڈ ہے اس کا پتہ چلایا اور پھر اپنی صلاحیتوں کو مارکٹ کے حساب سے اپ گریڈ کیا اور 10 مہینوں میں ہی ایک نئی نوکری حاصل کر کے ثابت کیا کہ سیکھنے کے لیے بھی عمر کی کوئی قید نہیں اور 50 سال کی عمر میں بھی ایک نئی نوکری حاصل کی جاسکتی ہے۔
مسٹر گبرئیل نے اپنے تجربے کو بڑے ہی اچھے انداز میں بیان کیا۔ ان کے مطابق میں بحران سے گزرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس بحران کے دوران بھی اپنے آپ کو بہتر بنانے کا خواہشمند تھا۔
10 مہینے کی بے روزگاری کے دوران میں تقریباً 90 جگہوں پر ملازمت کی درخواستیں داخل کی۔ شروع کے چار مہینوں میں تو میں جہاں بھی موقع ملتا نوکری کی درخواست دیتا اور پھر مجھے منفی جواب ملتا۔ ایک مرحلے پر تو منفی جواب سن کر میرے ذہن میں منفی خیالات جڑ پکڑنے لگے تھے۔ لیکن میں نے پھر اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دی۔ Add on کورسز سیکھے۔ میری بیوی بھی برے وقت میں میرے ساتھ کھڑی تھی۔
وہ بار بار میرا حوصلہ بڑھاتی تھی۔ حالانکہ اس کو اپنے کام بھی کرنے ہوتے تھے۔ لیکن وہ میرے لیے مثبت باتیں اور مثبت سونچ لے کر آتی۔ پھر میں نے آن لائن سمینار میں شرکت شروع کی۔ نوکریوں کے تلاش کے نئے طریقے ڈھونڈے۔ اب میں نوکری کی درخواست پہلے سے بہتر بنانے لگا تھا۔ یوں 10 مہینے کے انتظار کے بعد مسٹر گبرئیل کو بالآخر ملازمت مل گئی۔
یہ تو 50 سال کے شخص کی جدو جہد تھی جس نے عمر کے اس حصے میں دوبارہ ملازمت حاصل کر کے ثابت کیا کہ عزم اگر پکا ہو تو آگے بڑھنے کے راستے نکل آتے ہیں۔
گورکھپور کے رہنے والے نمت سنگھ نے انا ملائی یونیورسٹی سے سال 2014ء میں بی ٹیک میکانیکل کی ڈگری حاصل کی۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد بھی ملازمت کا حصول مشکل ہے۔ اس لیے نمت نے اپنا خود کا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ نمت کے والد ایک ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے بچے کی ہمت افزائی کی۔ نمت نے کاروبار شروع کرنے سے پہلے مختلف ریاستوں میں جاکر وہاں پر چلائے جانے والے شہد کے کاروبار کا مطالعہ کیا اور پھر خود اپنا شہد کا کاروبار شروع کیا۔
شہد کے کاروبار کے مطالعہ کرے ہوئے انہوں نے (MBA) کا کورس بھی مکمل کیا وار پھر 50 ڈبوں کے ساتھ سال 2016ء میں اتر پردیش حکومت سے 10 لاکھ کا قرضہ لے کر نمت نے اپنے شہد کے کاروبار کو بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اپنے کاروبار میں محنت کر کے نمت نے 10 لاکھ قرضہ و اپس کردیا اور آگے بڑھتے گئے۔ سینکڑوں شہد کے کاروباریوں کے درمیان رہ کر بھی نمت نے اپنے شہد کی انفرادیت کو برقرار رکھنے محنت کی۔ اپنا خود کا لیاب قائم کیا۔ شہد کی کوالٹی کو برقرار رکھنے، ٹسٹنگ کو لازمی کردیا۔
سال 2014ء میں شروع کردہ نمت کے کاروبار نے جلد ہی اتنی ترقی کرلی کہ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ان کے کاروبار کی مالیت اب 2 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان کے ہاں 700 لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ وہ نئے نوجوانوں کو شہد کی مکھیوں کی افزائش کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔
نمت سنگھ کی محنت اور کامیابی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو توجہ بھی حاصل کرلی اور حالیہ عرصے میں وزیر اعظم نے اپنے ریڈیو پروگرام من کی بات میں نمت کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے مثال دی کہ نوجوانوں کو اس شہد کے کامیاب کاروباری سے سیکھنا چاہیے کہ والد کے ڈاکٹری پیشے کو چھوڑ کر نوجوان پہلے تو انجینئرنگ کی ڈگری کی اور پھر ایم بی اے کو ساتھ ساتھ شہد کے کاروبار کی عملی تربیت اور تعلیم حاصل کی اور جلد ہی کامیابی حاصل کرلی۔ بحوالہ اخبار نیو انڈین ایکسپریس۔ 3؍اگست 2022ء کی رپورٹ)
اللہ رب العزت کی پاک ذات کو رزاق ماننے والے نوجوانوں کو ان کی محنت کے ساتھ ساتھ ایمانی حرارت بھی آگے بڑھنے کی توانائی فراہم کرتی ہے۔ ایسے میں کیا مایوسی درست ہے۔ سونچئے۔ غور کیجئے اور آگے بڑھنے کے راستے تلاش کیجئے۔
کام کچھ تو کیجئے اپنی بقاء کے واسطے
انقلابی نام سے تو انقلاب آتا نہیں
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



