سیاسی و مذہبی مضامین

باطل گروہ کو اپنا رازدار نہ بنائو ✍️مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا،دوسروں کو اپنا راز دار نہ بنائو۔ وہ تمہیں تکلیف پہنچانے کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے، تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکل پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں ،اگر تم عقل رکھتے ہو ( تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے)

تم ان سے محبت رکھتے ہو۔ مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کتب آسمانی کو مانتے ہو، جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیںکہ ہم نے بھی ( تمہارے رسول تمہاری کتاب کو) مان لیا ہے مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیط و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ ان سے کہدو کہ اپنے غصے میں آپ جل مرو، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔(سورۃآل عمران آیات 118 تا 119)

ایک اہم راز کا افشاء

اللہ رب العزت مذکورہ بالا آیات مبارکہ کے ذریعہ یہودیوں اور منافقین کی شرارتوں اور ان کے دل کی کیفیات کو کھول کر بیان فرما رہے ہیں۔ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ پر نازل کردہ کتاب اور اہل ایمان کے متعلق ان کی دشمنی اور بغض و عداوت کو واضح فرما یا جارہا ہے ،اللہ تبارک و تعالیٰ سارے عالم کا پیدا کرنے والا ہے اور اس کے ذرہ ذرہ سے پوری طرح باخبر ہے اور اسی طرح انسانوں کے دلوں میں جوراز پوشیدہ ہیں ان تک سے اچھی طرح واقف ہے۔

ٹھیک اسی طریقے سے منکرین حق ’’یہود و منافقین‘‘کے دلوں میںجو راز چھپے ہوئے ہوتے ہیں یعنی مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے ان کے دلوں میں جوچیز پرورش پارہی ہیں اور جس طرح کی نا مسعود حکمت عملیاں یہ اختیار کئے ہوئے ہیں ان ساری باتوں کو اللہ رب العالمین اپنے پیارے بندوں ( ایمان والوں ) کے علم میں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ )لارہے ہیں تا کہ اسلامی تحریک کے کارکن ہمیشہ احتیاط کو ملحوظ رکھیں۔

اہل ایمان کو تاکید

فرمایا اے مسلمانوں تم اہل ایمان کے سوا کسی اور کو اپنا راز دار نہ بنائو کیونکہ یہ تمہارے دین کیلئے اور ساری ملت کیلئے خطرہ کا باعث ہے۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہونی چاہئے کہ آیات مبارکہ میں یہ کہا گیا ہے کہ اپنی جماعت کے سوا کسی اور کو اپنا راز دار نہ بنایا جائے لیکن بحیثیت اولاد آدم بہر حال ان سے تعلق کو برقرار رکھا جائے گا کیونکہ اسلام کی تعلیم اور انسانی ہمدردی کا عین تقاضا یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی تکلیف دکھ درد کا خیال رکھے ،لیکن منکرین حق (یہود و نصاری)مشرکین و منافقین کو کسی بھی طرح سے اہل ایمان اپنا راز دار نہیں بناسکتے کیونکہ یہ لوگ اہل ایمان کی تباہی و بربادی کیلئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں اور جب کبھی بھی موقع ہاتھ آتا ہے تو مسلمانوں کو زک پہنچانے کا سامان فراہم کردیتے ہیں۔ لہذا احتیاط برتنی چاہئے۔

دل کی بات زبان پر

اس سلسلہ میں دوسری بات یہ بتائی جارہی ہے کہ اہل ایمان و ملت اسلامیہ کے خلاف ان کی زبان سے جو الفاظ نکل پڑتے ہیں یہ تو ان کی دشمنی کا ایک ہلکا سا اظہار ہے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جو آگ بھڑک رہی ہے وہ تو بہت شدید ہے لہذا تمہیں چاہئے کہ ہر وقت عقلمندی و دانشمندی سے کام کیا کرو ( بحیثیت اولاد آدم وہ تمہارے بھائی ہیں،تمہارا تعلق ان سے ہوسکتا ہے ) لیکن دین کے معاملات میں اور تمہاری اسلامی اجتماعیت کے اعتبار سے تم ان کو اپنا ہمراز نہ بنائو۔

مسلمان اور کتب سابق

تیسری بات یہ بیان ہورہی ہے یعنی اہل کتاب کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہورہا ہے کہ تم ان اہل کتاب سے محبت اس بناء پر رکھتے ہو کہ ان کے اور تمہارے درمیان قدیم تعلقات چلتے آرہے تھے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ (اہل کتاب ہیں) لیکن یہ (یہودی لوگ ) تم سے محبت والفت نہیںرکھتے اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنا ہادی و رہنما مان لیا اور آپ پر نازل کردہ کتاب (الفرقان) کو دستور حیات تسلیم کرلیا ہے۔

حقیقت میں ملامت کے مستحق تو اصل میں (اہل کتاب ) کے وہ لوگ ہیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری رسول کی حیثیت سے تشریف لانے کی خبر انہیںکتاب کے ذریعہ دی جاچکی پھر بھی انکارکی روش اختیارکئے ہوئے ہیں جبکہ مسلمانو ںکا حال اور ان کی محبت و ایمان کا عالم یہ ہے کہ یہ ساری کتب آسمانی پر ایمان لاتے ہیں جواللہ کی طرف سے گذشتہ انبیاء علیہ السلام پر نازل ہوچکی تھیں جیسے کہ زبور،تورات،انجیل علاوہ ازیں ان تمام کتابو ںکی تصدیق کرنے والی آخری کتاب (قرآن مجید ) پر بھی ان کا کامل ایمان ہے۔

سابق انبیاء کا احترام اور مسلمان

مسلمانوں کا انبیاء علیہ السلام کے متعلق معاملہ یہ ہے کہ جس طرح امام الانبیاء اور اللہ کے آخری نبی و رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام کرتے ہیں اور آپ کی شان مبارک میں تھوڑی بھی گستاخی کو نا قابل معافی جرم تصور کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح گذشتہ انبیاء علیہ السلام کی توہین کو بھی گناہ تصور کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام و عیسی علیہ السلام کے علاوہ جن جن پیغمبروں کا ذکر قرآن میں موجود ہے اور جن انبیاء کی طرف اشارہ کیاگیاہے یہ سب کے سب حضرات? پر مسلمانوں کا ایقان ہے کیونکہ کسی ایک پیغمبر کا انکار سارے پیغمبروں کا انکار ہے۔

منافقین کی حالت

ان آیات مبارکہ کے ختم پر منافقین کی ایک اور کیفیت کو یوں بیان فرمایا جارہا ہے کہ اے مسلمانوں، یہ جو یہودی و منافقین ہیں در حقیقت یہ تمہارے دوست نہیں ہیں،بظاہر یہ تم سے دوستی کا ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں یعنی جب یہ تم سے ملتے ہیں تو دوستی کا دم بھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم نے تمہارے رسول کو مان لیا ہے ، جب تمہارے پاس سے جدا ہوتے ہیں تو ان کے دلوں میں تمہارے خلاف اور تمہارے دین کی مخالفت میں نفرت کی آگ بھڑکتی ہے۔

اس طرح ان کی یہ روش اسلام کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی بلکہ یہ لوگ خود اپنی نفرت کی آگ میں جل کر تباہ ہوجائیں گے یعنی دنیا میں ان کی ذلت ہوگی اور آخرت کا انجام بھی بڑا دردناک ہونے والا ہے ،یہ منافقین اہل ایمان کو دھوکہ دیکر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت کامیابی پالی ہے لیکن ان لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوجانا چاہئے کہ یہ جو راز اہل حق کے خلاف اپنے سینوں میں چھپائے رکھتے ہیں اللہ اس سے بخوبی واقف ہے اور وہ اہل ایمان کو ان ساری چیزوں سے باخبر کرتے رہتا ہے۔

حالات حاضرہ اور یہود

موجودہ دور میں بھی یہی سب کچھ  ہورہا ہے یعنی صیہونی طاقتوں نے مسلمانوں کے خلاف اور اسلام کی بنیادوں کو کمزور کرنے کیلئے ہمیشہ زہر پھیلایا ہے مذہب اسلام اور اس پر عمل پیرا لوگوں کو نیچا دکھانے کیلئے نئے نئے طریقے اپنائے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ان لوگوں نے بنیاد پرستی کی اصطلاح کو وجود میں لایا ہے دوسری جانب تعلیمی اداروں میں کچھ اس طرح کا نصاب داخل کیا ہے جس کے پڑھنے سے نوجوان نسل دین اسلام سے متنفر ہوسکے اور ان کی ایک سازش یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے مسلمانوں کی صفوں میں کچھ اس طرح کے عناصر کو داخل کردیا ہے جس کی بدولت ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے اس طرح مسلمانوں کی صفوں میں شامل یہ منافقین ملت اسلامیہ میں ایک انتشار اور فتنہ برپا کرتے رہتے ہیں۔

حاصل کلام:الغرض مذکورہ آیات جو مضمون کے آغاز میں پیش کی گئی ہیں ان کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ملت اسلامیہ اپنی صفوں کی اصلاح کرلے اور اللہ کے باغیوں کو نہ اپنا ہمراز بنائیںاور نہ ہی اپنا مشیر بنائیں اور نہ ہی ان پر تکیہ کریں۔ ملت اسلامیہ ایسے عناصر سے ہمیشہ چوکناو ہوشیار رہے جو مسلمانوں کو دین سے دور کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں اور انھیں اپنے مقصد حیات سے غافل رکھنے کے لئے مختلف سامانِ تعیشات کو پیش کرتے ہوئے روحانی مریض بنانے کے علاوہ جسمانی طور پر بیمار بنانے کی مقدور بھر کوشش کررہے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

اپنا سمجھ رہے ہو ہر اک شخص کو مگر
یہ شہر بے وفا ہے میاں ! دیکھ کر چلو

متعلقہ خبریں

Back to top button