قومی خبریں

آن لائن بیٹنگ اور سائبر فراڈ کے خلاف ای ڈی کی کارروائی، پانچ شہروں میں 20 مقامات پر چھاپے

آن لائن بیٹنگ اور سائبر فراڈ معاملہ

ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آن لائن بیٹنگ، گیمنگ اور سائبر فراڈ سے متعلق مبینہ مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کارروائی کرتے ہوئے ممبئی، پونے، مہسانہ، سورت اور حیدرآباد میں 20 مقامات پر تلاشی لی۔ ایجنسی کے مطابق، اس کارروائی کے دوران مشتبہ مالی لین دین سے متعلق دستاویزات، ڈیجیٹل آلات اور دیگر اہم شواہد ضبط کیے گئے ہیں۔

ای ڈی کے ممبئی زون-2 نے 13 اکتوبر کو یہ تلاشی مہم چلائی تھی۔ ایجنسی کے بیان کے مطابق، تحقیقات کے دوران جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کو مختلف ذرائع سے منتقل کرنے اور اس کی اصل شناخت چھپانے سے متعلق شواہد جمع کیے گئے ہیں۔ اس معاملے سے وابستہ بعض اداروں اور افراد کے متعدد بینک اکاؤنٹس کو بھی انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (PMLA)، 2002 کے تحت منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

اس معاملے میں ای ڈی اس سے قبل پونے، ممبئی اور بنگلورو کے مختلف مقامات پر بھی تلاشی لے چکی ہے۔ کارروائی کے دوران ایڈسوم فن ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ (Edsom Fintech Private Limited) کے بانی رام یو رامدھانی کو گرفتار کیا گیا تھا، جو ایجنسی کے مطابق فی الحال عدالتی تحویل میں ہیں۔

ای ڈی کی تحقیقات دو بنیادی مقدمات سے شروع ہوئیں، جن کا تعلق ’آل پینل ایکسچینج‘ (All Panel Exchange) اور ’MGM91‘ نامی آن لائن گیمنگ اور بیٹنگ پلیٹ فارمز سے بتایا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق، ان پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو رقم جمع کرانے کی ترغیب دی گئی اور بعد میں مبینہ طور پر ان کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی۔

تحقیقات میں ای ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرین سے حاصل ہونے والی رقم مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل ہوتی ہوئی پونے میں قائم ایک ادارے کے کھاتوں تک پہنچی، جسے رام یو رامدھانی نے قائم کیا تھا۔ ایجنسی کے مطابق، اس رقم کی منتقلی کے لیے متعدد اداروں اور مالیاتی ذرائع کا استعمال کیا گیا تاکہ اصل لین دین اور رقم کے حقیقی مستفید ہونے والوں کی شناخت چھپائی جا سکے۔

ای ڈی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈسوم نے ’آئی پیسا‘ (iPaisa) کے نام سے ایک داخلی ادائیگی کا پلیٹ فارم تیار کیا تھا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے 200 سے زیادہ مبینہ شیل یا فرنٹ کمپنیوں کو شامل کیا گیا تھا، جنہیں اندرونی طور پر ’مرچنٹس‘ کہا جاتا تھا۔ ایجنسی کے مطابق، یہ ادارے آن لائن گیمنگ، بیٹنگ اور سائبر فراڈ سے وابستہ آپریٹروں اور ان کے ایجنٹوں کے لیے ادائیگیوں کی منتقلی میں استعمال ہوتے تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ متاثرین کی رقم متعدد ایسے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی جاتی تھی جنہیں مبینہ طور پر غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ ای ڈی کے مطابق، بیٹنگ پلیٹ فارمز کو چلانے والے افراد، رقم کی منتقلی میں استعمال ہونے والی کمپنیوں اور متعلقہ مالیاتی نیٹ ورک سے وابستہ عناصر کی شناخت کی گئی ہے۔

ایجنسی نے مزید بتایا کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ متعدد افراد کو دبئی میں موجود بعض لوگوں کی جانب سے ہدایات دیے جانے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ کوآپریٹو بینکوں کے مالیاتی ڈھانچے کو مبینہ طور پر غیر قانونی رقم جمع کرنے اور مختلف مراحل میں منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

ای ڈی کے مطابق، اس نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی رقم کو مبینہ طور پر بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے تین اہم طریقے اختیار کیے گئے۔ ان میں تجارتی لین دین ظاہر کرکے زیادہ مالیت کے انوائسز کے ذریعے رقم بیرون ملک بھیجنا، زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹی (APMC) سے وابستہ اکائیوں کے نام پر کھولے گئے اکاؤنٹس سے نقد رقم نکالنا اور کرپٹو کرنسی میں رقم تبدیل کرکے اسے ہندوستان سے باہر منتقل کرنا شامل ہے۔

ای ڈی اس معاملے میں مالی لین دین، متعلقہ اداروں اور مبینہ طور پر رقم کی منتقلی میں ملوث افراد کے کردار کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ایجنسی کے الزامات تحقیقات کا حصہ ہیں اور متعلقہ افراد کی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین قانونی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button