سیاسی و مذہبی مضامین

جذبہ ابراہیمی اور ہم!-محمد محفوظ قادری

یہ واقعہ قربانی ہمارے لئے نصیحت ہے اور اس واقعہ کی ایک ایک بات ہمارے لئے ہدایت کا سامان ہے

اللہ رب العز ت کا کرم اور اس کا احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں ایک بار پھر ماہ ذی الحجہ عطا فرمایا،یہ مہینہ اسلامی سال (سن ہجری)کا آخری مہینہ ہے ۔یہ ماہ مقدس بہت ہی عظمت و برکت والا ہے ۔اس کے پہلے عشرہ کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ اللہ کی عبادت کیلئے عشرئہ ذی الحجہ سے بہتر کو ئی زمانہ نہیں ،اس (عشرہ)میں ایک دن کے روزہ کا ثواب ایک سال کے برابر اور ایک رات کی عبادت کرناشب قدر کی عبادت کے برابر ہے ۔اسی مہینے میں اسلام کے پانچویں رکن حج کو ادا کیا جاتا ہے،یعنی حج کا بین الاقوامی اجتماع اسی مہینے میں منعقد ہوتاہے ۔ اسی مہینے میں دس ذی الحجہ کو عیدالاضحی جیسا مقدس تہوار بھی منایا جاتا ہے ۔عید الاضحی کے مقدس موقع پر مسلمان اللہ رب العزت کی بار گاہ میں اپنی قربانیاں(ذبیحہ) پیش کرتے ہیں ۔

یہ واقعہ قربانی ہمارے لئے نصیحت ہے اور اس واقعہ کی ایک ایک بات ہمارے لئے ہدایت کا سامان ہے وہ یہ ہے کہ بندئہ مومن اللہ کی محبت میں اللہ کے ہر حکم کو پورا کرنے لئے تیار ہو جاتا ہے ،اور مال تو اس کی نظر میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا ہے کہ مال کی قربانی اس کے لئے دشوار ہو بلکہ بندئہ مومن اپنے رب کے حکم کو پورا کرنے کیلئے اپنی لاڈلی اور پیاری اولاد کو بھی اس کے نام پر قربان کر نے کیلئے تیاررہتا ہے اور اس کو فکر ہو تی ہے کہ میرا رب مجھ سے راضی ہو جا ئے قربانی کا واقعہ در اصل اسی محبت خداوندی کا مظاہرہ ہے ۔بہر حال جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اللہ کی محبت کا حق ادا کرنے کی کو شش کی اسی طرح ہم کو بھی چاہئے کہ ہم بھی اپنے پالنہار اللہ رب العزت کی محبت میں اس کے تمام احکام کی اطاعت کیلئے تیار رہیں اور اس کیلئے ہر طرح کی قربانی دیں یہ جذبئہ ایمانی وہ چیز ہے کہ جس نے مذہب اسلام کو ہر دور میں زندہ رکھا ہے اور ساتھ ہی قوت بخشی ہے۔

یہی وہ مبارک جذبہ ہے جس نے ہر دور میں اسلام دشمن طاقتوں کوحیران وپریشان کیا ہے کہ اسلا م کی اس قدر مخالفت وسازشوں کے جال بچھائے جا نے کے با وجود مذہب اسلام آج نہ صرف زندہ ہے بلکہ دن بدن ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ لہٰذا قربانی کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ جذئبہ ابراہیمی اور محبت خداوندی کے ساتھ اپنی قربانیاں اپنے رب کی بارگاہ پیش کریں،جیسا کہ اللہ رب العزت کلام عظیم میں ارشاد فرماتا ہے’’کہ ہماری بار گاہ میں تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا ہے بلکہ تمہارا تقویٰ ہماری بار گاہ میں قبول ہو جاتا ہے ‘‘(قرآن)

اسی قربانی کے متعلق صحابہ کرام عرض کرتے ہیں یارسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے ؟آپ نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم کی سنت ہے ،پھر عرض کرتے ہیں اے اللہ کے رسول !اس میں ثواب کتنا ہے ؟آپ نے ارشاد فرمایا ہر ہر بال کے بدلے خداایک ایک نیکی عطافرماتا ہے ،پھر عرض کرتے ہیں یارسول اللہ !بھیڑ بکری وغیرہ کی اون یعنی ان کے بالوں کے بارے میں کیا ارشاد ہے ؟آپ نے پھریہی فرمایا کہ اس کے بدلے بھی اللہ اپنے بندے کو ایک ایک نیکی عطا فرماتا ہے۔(حدیث)قربانی کے دن کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے‘‘(حدیث)دوسری روایت میں آتا ہے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قربانی کے دن بنی آدم کا کوئی بھی عمل اللہ کی بارگاہ میں (قربانی کی نیت سے)جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے،اور یہ(قربانی کا)جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں،بالوں اور کھروں سمیت آئے گا،(قربانی جانور کا خون)یقینا زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کی بارگا میں قبول ہو جاتی ہے،

(اے اہل ایمان)تم خوش دلی کے ساتھ اپنی قربانیاں اپنے رب کی بار گاہ میں پیش کرو۔(حدیث) قربانی کرنے والے کو چاہئے کہ قربانی کے وقت اپنے جانور کے پا حاضر رہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایااپنی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہ ’’قربانی کے وقت اپنی قربانی کے پاس حاضر رہو‘‘جانور کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے،جن کا تم نے ارتکاب کیا ہے ۔اور یہ الفاظ کہو قربانی کے وقت’’ان صلاتی ونسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمین‘‘(قرآن )بیشک میری نماز اور میری قربانی میری زندگی اور میری موت اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ خوبصورت اور طاقتور جانور کی قربانی کرو یہ جانور قیامت کے دن تمہاری سواریا ں بنیں گے ۔دوسرے مقام پر تنبیہ کرتے ہوئے حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایاکہ جس شخص کے پاس قربانی کی وسعت ہو پھر وہ قربانی کے دنوں میںقربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے ۔

قربانی کس پر واجب ہے

قربانی اسلام کا عظیم شعار اور بندے کی طرف سے مالی عبادت ہے جو ہر اُس عاقل و بالغ مقیم مسلمان پرواجب ہے جو عیدالاضحی کے ایام (12,11,10ذی الحجہ )میں نصاب کا مالک ہو یا اس کی ملکیت میں ضرورت اصلیہ سے زائد اتنا سامان ہوجس کی مالیت نصاب کے برابر ہو،اور نصاب شرعی سے مرادکسی شخص کا ساڑے باون تولہ چاندی یا ساڑے سات تولہ سونا یا اس کی رائج الوقت بازاری قیمت کے برابر مال کا مالک ہونا ہے۔قربانے کے وجوب کیلئے صرف مالک نصاب ہونا کافی ہے ،زکوٰۃکی طرح نصاب پر پوراسال گزرنا شرط نہی ہے۔یااس کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ قربانی اس پر واجب ہے جس پر صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔

قربانی کے جانور کی عمر

چھوٹے جانوروں میں بکرا،بکری بھیڑایک سال سے کم کے نہ ہوں،البتہ وہ دنبہ جو دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو اس کی قربانی بھی جائز ہے جیسا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کیلئے عمر والا جانور ذبح کرو ،ہاں اگر ایسا جانور میسر نہ ہو تو پھر چھ ماہ کا دنبہ ذبح کرو جو دیکھنے میں سال کا لگتا ہو۔(مسلم شریف) یہ جانور ایک ہی انسان کی طرف سے کافی ہونگیں۔بڑے جانوروں میںاونٹ ،اونٹنی یہ پانچ سال سے کم کے نہ ہوں ۔ان میں سات آدمی شامل ہو سکتے ہیں اور کم بھی ۔اسی طرح بھینس،بھینسا وغیرہ دو سال سے کم کے نہ ہوں ان میںبھی سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور کم بھی جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر نکلے تو آپ نے حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہو جائیں ۔اسی طرح دوسری روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ ہم نے حدیبیہ والے سال حضور علیہ السلام کے ساتھ قربانی کی چنانچہ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے قربان کی (صحیح مسلم )

قربانی کے جانور کا عیب سے پاک ہونا لازمی ہے :

جانور میں کسی بھی طرح کا عیب نہیں ہونا چاہئے جیسے اندھاہونا، کانا ہونا،ایسا لنگڑا ہو کہ ذبح کی جگہ تک نہ جا سکے،آدھے سے زیادہ کان کا کٹا ہوا ہونایا پیدائشی طور پرایک یا دونوں کا نوں کانہ ہونا ،دم کا کٹا ہوا ہونا،جڑسے سینگ کا اکھڑاہونا(ہاں اگر سینگ اُپر سے ٹوٹ گیا ہے تو اس کی قربانی جائز ہے )،سب دانت گر گئے ہوںیا ٹوٹ گئے ہوں جس سے وہ چارہ نہ کھا سکے ،بہت زیادہ کمزور ہو ،ظاہری طور پر بیمار ہوان تمام عیبوں سے قربانی کیلئے جانور کا پاک و صاف ہونا لازمی و ضروری ہے۔

قربانی کے آداب :

قربانی کے جانور کو چندروز پہلے خریدنا اور اس کو اپنے ہاتھوں سے پالنا افضل ہے ،اسی طرح خصی جانور کی قربانی کرنا جائز وافضل ہے ،قربانی کے جانور کا دودھ نکالنا یا اس کے بال کاٹنا جائز نہیں ہے اگر کسی نے ایسا کیا تو اس دودھ کو اور بال یا ان کی قیمت کو صدقہ کرنا واجب ہے،قربانی سے پہلے چھری کو خوب تیز کرلیں اور یہ عمل جانور کے سامنے نہ کریں جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے ہر چیز میں احسان کو ضروری قرار دیا ہے لہٰذا اگر تم قتل کرتو اچھی طرح قتل کرو اور ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو(ذبح کرتے وقت زیادہ دیر نہیں لگانا چاہئے تیزی کے ساتھ فوراً ذبح کردیں)،ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کریں ،جانور کے پیر پکڑ کر ذبح کرنے کی جگہ تک کھینچ کر لیکر جانا جس سے جانور کو تکلیف پہنچے یا اور کوئی عمل تکلیف کا جانور کے ساتھ کرنا ان باتوں سے بچنا ضروری ہے۔

قربانی کے گوشت کا استعمال

جس جانور میں کئی حصہ دار ہوں توگوشت کو وزن کرکے تقسیم کریں اندازہ سے تقسیم نہ کریں۔پھر ان میں سے ہر ایک کیلئے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے ایک حصہ غرباء ،فقراء اور مسا کین کو دے دیا جائے۔دوسرا حصہ اعزو اقرباء دوست احباب کو دیا جائے۔تیسرا حصہ اپنے استعمال میں خود لے لے ،اگر اہل وعیال تعددا میں زیادہ ہوں تو کل گوشت کا استعمال خود بھی کر سکتا ہے ۔لیکن فروخت کرنے کی سخت ممانعت ہے۔

قربانی کے جانور کی کھال کا حکم

قربانی کی کھال کو باقی رکھتے ہوئے نشانی کے طور پرمثلاًمصلیٰ بنالیا جائے یا چمڑے کی کوئی چیز ڈول ،مشکیزہ وغیرہ بنوالیا جائے اس صورت میں قربانی کی کھال کو اپنے استعمال میںلینا جائز ہے ۔کھال کو فروخت کرکے قیمت کو اپنے خرچ میں لینا جائزنہیں ہے،اُ س قیمت کو فوراً صدقہ کردینا چاہئے۔اسی طرح قصاب کو ذبح کرنے کی اجرت میں دینا بھی جائزنہیں ہے۔

قربانی کرنے کا طریقہ و دعا

قربانی کے جانور کو ذبح کرنے سے پہلے اس کو کعبہ کے رخ لٹا کریہ دعا پڑھیں ’’انی وجھت وجھی للذی فطرالسمٰوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین۰ان صلاتی ونسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمین۰لا شریک لہ وبذٰ لک امرت وانامن السلمین‘‘ جانور کی گردن کے قریب پہلو پر اپنا سیدھا پائوں رکھکر’’اللہم لک ومنک بسم اللہ ،اللہ اکبر‘‘پڑھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کردیں ،ذبح کرنے کے بعد قربانی اپنی طرف سے ہو تو یہ دعا پڑ ھیں’’اللہم تقبل منی کما تقبلت من خلیک ابراہیم علیہ السلام و حبیبک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘اور اگر دوسرے کی طرف سے قربانی کریں تو منی کے بجائے من کہہ کر اس کا نام لیجئے گا۔نیک نیتی اور خوش دلی کے ساتھ اپنی قربانی اللہ کی بارگا ہ میں پیش کریں ،ایسی قربانی خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کی بارگا ہ میں قبو ل ہو جا تی ہے ۔یہ بات بھی انسان کے پیش نظر رہنا چاہئے کہ قربانی کا اصل مقصدنفسانی خواہشات کوکچل کر،رضائے الٰہی اور تقویٰ حاصل کرنا ہے اور اس کے ذریعہ پیارے رسول کی اتباع کرتے ہوئے دیگر انبیائے کرام سے محبت، خلوص اور ایثار کے جذبہ کو پروان چڑھانا ہے۔

نماز عید کی نیت و طریقہ

پہلے نیت کرنی چاہئے،نیت اصل میں دل کے ارادے کا نام ہے ۔زبان سے کہنا بہتر ہے،اگر کوئی زبان سے نہ کہہ سکا تو دل سے ارادا کر لینا ہی کافی ہوگا۔نیت اس طرح کرے ،نیت کی میں نے دو رکعت نماز عید الاضحی ساتھ زائد چھ تکبیروں کے،واسطے اللہ کے پیچھے اس امام کے منھ میرا کعبہ شریف کو اللہ اکبر،کہہ کر امام کے ساتھ نیت باندھ لے ناف کے نیچے۔نیت کے بعد ثنا پڑھے،پھر امام کی اقتدا میں تین تکبیریں کہے،شروع کی دو تکبیروں میں ہاتھ اٹھاکر امام کے ساتھ چھوڑ دے اور تیسری تکبیر کہہ کر ہاتھ باند ھ لے۔پھر خاموشی کے ساتھ امام کی قراء ت سنے ،قراء ت کے بعد رکوع اور سجدوں کے ساتھ ایک رکعت مکمل ہو جا ئے گی۔پھر دوسری رکعت میں امام کی قراء ت سماعت کرے،قراء ت کے بعد،رکوع سے پہلے،امام صاحب کی اقتدا میں تین تکبیریں کہے اور تینوں پر ہاتھ اٹھاکر چھوڑ دے،اور چوتھی تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں آجائے ،رکوع ،سجدے،قعدہ مع سلام کے ساتھ نماز مکمل ہو جائے گی۔اس کے بعد خطبہ سنیں اور خطبہ کے بعد اجتماعی دعا میں شریک ہو کر تمام عالم انسانیت اور باالخصوص تمام عالم اسلام کیلئے امن و امان کی دعا کریں ۔

ہدایات

جن جانوروں کی قربانی سے منع کیا گیا ہے ان سے اجتناب کریں ،قربانی کے وقت صفائی کا خاص خیال رکھیں ،خون کو نالیوں میں نہ بہائیں بلکہ گڈھے میں دفن کردیں،جانور کے وہ اعضاء جو کھانے کے قابل نہیں ہو تے ان کو کھلے میں نہ ڈالیں بلکہ کہیں دفنا دیں، قربانی کی کسی بھی طرح کی کوئی بھی ویڈیو وائرل نہ کریں جس سے برادران وطن کی دل آزاری ہو ۔اللہ نے ہمیں خیر امت بنا کر پیدا کیا ہے اپنے ہر عمل سے یہ ثابت کریں کہ کسی کو کو ئی تکلیف نہ پہنچے اور ہمارے نبی نے جو ہمیں تعلیم دی ہے اس کے مطابق زندگی گزاریں ، جیسا کہ ہم اللہ سے قربانی کے وقت وعدہ کریںگے کہ میری نمازمیری قربانی اور میری زندگی اور موت سب اللہ کیلئے ہے ،جو تمام عالموں کا رب ہے اسی وعدے کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں ۔جھوٹ ،مکروفریب ،حسد ،بغض، کینہ، عداوت ونفرت اور چغل خوری سے دور رہیں ،سچائی و خیر خواہی کو اپنی عادت بنائیں ،غرباء ،فقراء ،مساکین کا خاص خیال رکھیں، دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حجاج کرام کے حج کو تمام ارکان کی ادائیگی کے ساتھ حج مبرور بناکر قبول فرمائے ،ساتھ ہی ہماری قربانیوں اور تمام اعمال صالحہ کو قبول فرماکر عید الاضحی کی خوشیاں تمام عالم اسلام کو نصیب فرما ئے۔آمین

متعلقہ خبریں

Back to top button