میری پیدائش سے پہلے میرے والد کی وفات ہوگئی۔ میرے دنیا میں آنے کے بعد میری ماں کو ہم پانچ بچوں کی پرورش کرنی تھی۔ انہوں نے بہت محنت کی اور اپنے پانچ بچوں کو بڑا کیا۔ ماں کہتی تھی کہ جو بھی کام کرو دل لگاکر کیا کرو۔ بچپن میں ہی میری ماں نے مجھے چاول کے کیک بنانا سکھادیا۔ جب بڑی ہوئی تو میں نے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانے کے لیے اپنا کام جاری رکھا۔ مجھے چاول کے کیک بنانے میں مہارت حاصل ہوگئی تھی۔
اب میرے بچے بڑے ہوئے تب بھی میں نے اپنا کام کرنا جاری رکھا۔ میں روزانہ 130 سے 150 کیک بناتی ہوں۔ پھر ان کیکس کو پتوں میں پیاک کر کے فروخت کرتی ہوں۔ایک دن مجھے میرے بیٹے نے بتایا کہ اس کی بیوی یعنی میری بہو کو کینسر ہوگیا ہے۔ مجھے دکھ ہوا لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد میرے بیٹے کو بھی کینسر کی تشخیص ہوگئی۔اب ان دونوں کا خیال میں ہی رکھ رہی ہوں۔
راتوں میں دیر تک جاگ کر کام کرتی ہوں تاکہ اگلے دن کے کیک تیار کرسکوں۔ میرے سارے کیک ہاتھ سے بنے ہوتے ہیں۔ بڑی محنت لگتی ہے۔ میں بھی تھکن محسوس کرتی ہوں۔ لیکن مجھے جیسے ہی اپنے بیٹے اور بہو کا خیال آتا ہے کہ وہ بیمار ہیں ان کا علاج کرنا ہے میں اپنے کام میں جٹ جاتی ہوں۔ کبھی کبھی میں سونچتی ہوں کہ کاش اوپر والا کینسر کی بیماری میرے بیٹے اور بہو کے بجائے مجھے دیتا تو اچھا ہوتا۔
آگے زندگی میں کیا رکھا ہے نہیں معلوم لیکن میں جب تک زندہ رہوں گی محنت کروں گی۔ اپنے بچوں کی خدمت کروں گی۔ میرے ہاتھ سے بنائے ہوئے Cake کا نام Mochi کیک ہے۔ ایک سال کے دوران میں اوسطاً 50 ہزار کیک بنالیتی ہوں۔ مجھے روزانہ 15 ڈالر کی کمائی ہوجاتی ہے۔
میرا نام کوٹاساوہ ہے۔ میری عمر 93 سال ہے اور میں جاپان کی رہنے والی ہوں۔ (بحوالہ NHK ڈاٹ کام کی رپورٹ 18؍ ستمبر 2021) قارئین کرام اس معمر جاپانی خاتون کی جدو جہد سے بھری زندگی ہم سب کے لیے ایک خاص پیغام دیتی ہے۔پال ٹاسز کی عمر 64 برس تھی۔ اس کو اپنے آفس کی ایک اہم میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ وہ کمپنی میں بطور ڈائرکٹر آپریشن کام کرتا تھا۔
اس میٹنگ میں شرکت کے بعد پال کو معلوم ہوا کہ اس کی چھٹی کردی گئی ہے۔ اب وہ اگلے دن سے بے روزگار ہے۔ 64 سال کی عمر میں نوکری سے چھٹی کا مطلب اب پال کو اپنی بقیہ زندگی ریٹائرمنٹ میں گذارنی تھی۔ لیکن کام کرنے اور محنت کرنے کی لگن پال میں اتنی زیادہ تھی کہ وہ اپنے ریٹائرمنٹ کو قبول کرنے تیار نہیں ہوا۔
اس کے مطابق میں نے 40 سال تک مینوفیکچرنگ، پیاکیجنگ اور ڈسٹری بیوشن کی فیلڈ میں کام کیا ہے۔ میرا اتنا طویل تجربہ اور تعلقات ہیں۔ میں ان سب کو ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔برطانیہ کے اخبار The Guardian میں شائع 17؍ ستمبر 2021ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پال نے اپنے ریٹائرمنٹ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے لیے نئی نوکری اور نئی مصروفیات تلاش کرنا شروع کیا۔
لوگوں سے بات کی۔ اپنے کان، اپنی آنکھ کھلی رکھی اور پھر سال 2011ء میں پال نے Pulp Work کے نام سے ایک نئی کمپنی شروع کی جس میں بے کار کی کچرہ چیزوں سے نئی مصنوعات تیار کی جاتی تھیں۔ پال نے TEDTalk میں بھی حصہ لیا اور خود کی دوبارہ کھوج کیسے کریں کے موضوع پر ویڈیو بنایا جس کو 20 لاکھ لوگوں نے دیکھا اور پسند کیا۔
پال کی عمر اب 75برس ہے۔ وہ خود اپنی کمپنی کا مالک ہے اور فخریہ طور پر اظہار کرتا ہے کہ ہاں میری عمر 70 سال سے زائد ہے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ابواب کو دلچسپ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ اور اپنی ساری توانائیاں صرف کر کے ہر دن کو دلچسپ بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ (بحوالہ The Guardian اخبار 17؍ ستمبر 2021 کی رپورٹ)
نتن گڈکری کا تعلق مہاراشٹرا سے ہے وہ ایک مرکزی وزیر اور بی جے پی کے اہم قائد ہیں۔ ان کی عمر 64 سال ہے۔ سیاست اور وزارت پر فائز رہتے ہوئے ان کو علیحدہ سے کچھ کرنے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن مارچ 2019 ء سے لگائے گئے لاک ڈائون کے دوران سب کی طرح نتن گڈکری کی روزانہ کی مصروفیات بھی متاثر ہوئیں۔ وہ زیادہ تر گھر پر ہی کام کرتے رہے۔
نتن گڈکری نے خود بتلایا کہ ’’کرونا لاک ڈائون کے دوران گھر پر رہتے ہوئے میں نے پکوان شروع کیا اور ایک باورچی بن گیا تھا۔ میں گھر میں نہ صرف پکوان کرنے لگا بلکہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ آن لائن لیکچرز دینے لگا۔‘‘ ان کے مطابق انہوں نے اس عرصے کے دوران 950 سے زائد لیکچرز دیئے جس میں فارن یونیورسٹیز کے طلبہ کو دیئے جانے والے #لیکچرز بھی شامل تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے تمام لیکچرز کو ریکارڈ کر کے Youtube پر اپ لوڈ بھی کردیا۔
نتن گڈکری نے سال 2015ء میں یوٹیوب میں شمولیت اختیار کی۔ جہاں پر ان کے صارفین کی تعداد دوکھ اکتیس ہزار ہے اور صرف یوٹیوب پر اپنے لیکچرز کی بدولت ہی نتن گڈکری کو ماہانہ 4 لاکھ روپیوں کی رائلٹی مل رہی ہے۔ کیسے کیسے لوگ محنت کر رہے ہیں اور کمارہے ہیں ان کی محنت ان کی کمائی ہمیں ترغیب دلاتی ہے کہ محنت کے راستے پر چل کر ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔
قارئین مثالیں ایک دو نہیں بے شمار ہیں۔ اپنے کالم کے لیے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ حالیہ عرصے کی اور تازہ ترین مثالیں دی جائیں۔ مثالیں چیزوں کو سمجھانے کے لیے دی جاتی ہیں۔ برابری کے لیے نہیں۔اے رجنی کا تعلق ورنگل سے ہے۔ اس خاتون نے ایم ایس سی آرگیانک کیمسٹری سے پاس کیا اور وہ بھی اول درجہ سے۔
اس کے بعد رجنی کو باوقار حیدرآباد سنٹرل یونیوررسٹی میں ڈاکٹورل پروگرام (Ph.D.) کے داخلہ امتحان میں کامیابی مل گئی۔ لیکن اس دوران رجنی کی ایک ایڈوکیٹ سے شادی طئے ہوگئی اور وہ حیدرآباد شفٹ ہوگئی۔
سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ رجنی کو اولاد کی شکل میں اللہ نے دو لڑکیوں سے بھی نوازا۔ ساتھ ہی رجنی نے سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے مختلف امتحانات کی تیاریوں کو بھی جاری رکھا۔ لیکن پھر رجنی کی زندگی کی کایا پلٹ ہوگئی۔ پہلے تو اس کا شوہر بیمار پڑا اور پھر بیماری نے ایسا طول پکڑا کہ رجنی کا شوہر بستر تک محدود ہوگیا۔
رجنی نے ہمت نہیں ہاری۔ اپنے شوہر کا علاج کرنے کی ٹھانی اور اپنے گھر میں بچوں اور ساس کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ترکاری فروخت کرنا شروع کیا۔ لیکن کاروبار سے رجنی کو بمشکل آمدنی ہو رہی تھی۔ تب آخرکار رجنی نے GHMC میں کنٹراکٹ کی بنیادوں پر کام کرنا شروع کیا۔
قارئین کرام نوٹ کریں رجنی نے کیا کام کرنا شروع کیا اور اس کی تعلیمی قابلیت کیا ہے۔ رجنی نے بلدیہ میں جو نوکری اختیار کی وہ جھاڑو لگانے کی تھی۔ رجنی اب جھاوڑو لگاکر ماہانہ 10 ہزار روپئے کمانے لگی تھی۔پھر ایک دن ہوا یوں کہ تلگو کے ایک اخبار ایناڈو نے رجنی کی اسٹوری اپنے اخبار میں شائع کی جس کے بعد تلنگانہ کے وزیر بلدی امور کے ٹی آر نے رجنی کو مدد کرنے کا اعلان کیا۔ اب رجنی بلدیہ میں کام کرنے لگی لیکن جھاڑو لگانے کا نہیں بلکہ اس کو باضابطہ طور پر بلدیہ میں Assistant Entomologist کے طور پر تقرر کیا گیا۔ (بحوالہ TNM.com ۔ 21؍ ستمبر 2021ء کی رپورٹ)
قارئین کرام ذرا غور کیجئے گا شریعت اسلامی میں نہ تو سڑکوں پر جھاڑو لگانے کے کام سے ممانعت کی گئی ہے اور نہ ہی محنت کر کے کمانے سے منع کیا گیا۔ لیکن امت مسلمہ کا سب سے بڑا چیالنج کہہ لیں یا مسئلہ کہہ لیں آج مسلم معاشرے میں محنت کر کے کمانے والوں کو کوئی قدر نہیں اور ایسے احباب اور افراد کو عزت و توقیر دی جارہی ہے جن کے پاس مال و دولت ہے لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ یہ مال و دولت حلال ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں یا حرام ذارئع سے۔
ہمارے ایک شناسا نے بتلایا کہ ایک نوجوان انجینئر کا حالیہ عرصے میں رشتہ اس لیے ٹوٹ گیا کہ لڑکی والوں نے شادی سے پہلے لڑکے کے متعلق دریافت کیا تو پتہ چلا کہ موجودہ نوکری ملنے سے پہلے لڑکا اپنی تعلیم کے زمانے میں ڈیلیوری بوائے کے طور پر بھی کام کرتا تھا تاکہ اپنے تعلیمی اخراجات کا کچھ بوجھ خود اٹھا سکے۔
کیا ڈیلیوری بوائے کے طور پر کام کرنا حرام ہے۔ کیا ٹھیلہ بنڈی پر یا فٹ پاتھ پر کاروبار کرنا حرام ہے۔ کیا پان ڈبہ چلانا حرام ہے۔ نہیں تو پھر لوگ رشتے طئے کرتے وقت اپنی مصروفیات کو چھپانے کے لیے کیوں مجبور ہیں۔ ذرا سونچئے۔ دنیا میں مسائل سب کو ہیں۔ لوگ 93 سال کی عمر میں کام کر رہے ہیں۔
ایم ایس سی کی ڈگری رکھنے کے باوجود بھی جھاڑو لگانے کے کام کو قبول کر رہے ہیں اور ہم وہ قوم ہے جس کو اکل حلال کی تلقین اور تعلیم دی گئی ہے اور ہمارا یہ عالم ہے کہ ہم محنت سے دور اور قرضوں کے دلدل میں حلال طریقوں کو چھوڑ کر دیگر راستوں پر چل رہے ہیں۔ آخر کیوں سونچئے اور اپنی ذات سے حل ڈھونڈ ئے۔
کم سے کم اپنی زبان سے محنت کر کے حلال روزی کمانے والے کا تمسخر تو نہ اڑایئے۔ ہمارے نوجوان ہماری قوم کے افراد اگر چوری اور جرائم کی طرف راغب ہو رہے ہیں تو کہیں ہم اور ہماری زبان بھی اس کے لیے ذمہ دار نہیں۔ غور کیجئے گا اپنی زندگی کا اپنے زندہ ضمیر ہونے کا ثبوت دیجئے گا انشاء اللہ یہی شروعات ہوگی۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



