سیاسی و مذہبی مضامین

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے-✍️ محمد مصطفی علی سروری

جنوری کے مہینے کی نسبتاً سرد رات تھی۔ شہر حیدرآباد میں رات گیارہ بجے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ درجہ حرارت 16 ڈگری سیلسیس کے آس پاس تھا۔ سڑکوں پر عوام کی اور گاڑیوں کی چہل پہل کم تھی۔ البتہ ہوٹلوں اور سڑک کنارے چائے بیچنے والوں کے ہاں رش دکھائی دے رہا تھا۔ پرانے شہر حیدرآباد کے ایک خانگی دواخانے میں بھی ڈیوٹی ڈاکٹرس آئوٹ پیشنٹ مریضوں سے فارغ ہوکر گھر جانے کا سوچ رہے تھے۔
اچانک دواخانے کی پارکنگ میں شور شرابہ کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ ہٹو ہٹو جلدی چلو ایمرجنسی کیس ہے کے شور شرابے کے دوران ٹو وہیلرس پر آٹھ دس نوجوان وہاں پہنچتے ہیں۔ ان نوجوانوں کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کے کپڑے خون آلودہ ہوچکے تھے۔ ان کے ساتھ نوجوان ان کے زخموں پر ہاتھ لگائے کپڑا باندھے ان کے بہتے خون کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے دواخانہ پہنچتے ہیں۔ ڈاکٹر فوری الرٹ ہوجاتے ہیں۔
ایمرجنسی وارڈ کا عملہ تیار ہوکر سبھی نوجوانوں کو جو زخمی ہیں اندر لے کر باقی کے لوگوں کو باہر جانے کو کہتا ہے لیکن زخمی نوجوانوں کے ساتھی باہر جانے سے انکار کر رہے تھے۔ اس دوران دواخانے کے ڈاکٹر وہاں پہنچ کر دریافت کرتے ہیں کہ یہ چار پانچ نوجوان کون ہیں۔
ان کو زخم کیسے لگا، کہیں یہ پولیس کا کیس تو نہیں وغیرہ۔ چند ایک نوجوان کو فوری ابتدائی طبی امداد پہنچا کر ٹانکے لگوائے جاتے ہیں مگر ایک زخمی نوجوان کو پیٹ پر گہرا زخم تھا اور پیٹ میں اندرونی آنت کے کٹ جانے کا خدشہ تھا۔
ڈاکٹر نے اس مریض کو کسی بڑے دواخانے لے جانے کا مشورہ دیا اور بقیہ نوجوانوں کا علاج کرنے لگے۔ ڈاکٹر جب مریض کی مرہم پٹی کر رہے تھے، زخمی نوجوان اپنے منہ سے اول فول بک رہے تھے۔ ساتھ ہی ان کے منہ سے آنے والی بو صاف پتہ دے رہی تھی کہ ان لوگوں نے نشہ کیا ہوا تھا۔ 

ڈاکٹر صاحب نے جب ایک ذرا سا سمجھدار نظر آنے والے نوجوان کو بازو سے جاکر پوچھا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔

آخر چار پانچ نوجوانوں کو چاقو جیسی شئے سے کیسے زخم آیا۔ قارئین کرام دواخانے کے ڈاکٹر صاحب نے جو تفصیلات بتلائی وہ یقینا بہت سارے احباب کے لیے تکلیف دہ ہوگی۔ واقعہ سچا ہے اور متاثرین امت مسلمہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یقینا ہم مسلمانوں کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اس واقعہ اور اس طرح کے واقعات پر غور کریں۔
مسائل کی تہہ تک پہنچیں اور امت مسلمہ میں اس طرح کے واقعات آئندہ نہ ہوں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ تفصیلات کے مطابق جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے نشاندہی کی شادی کی ایک تقریب تھی جس میں نوشہ کے دوست احباب نے ایک بہت بڑا پھولوں کا ہار نوشہ کو پہنانے کے لیے ایک گاڑی پر لاد کر ناچ گانے کے ساتھ شادی خانہ پہنچے تھے۔
شادی خانے میں داخلہ سے عین پہلے دوستوں کا یہ گروپ پورے جوش میں تھا۔ باجہ اس قدر زور سے بجایا جارہا تھا کہ کسی کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اس دوران تلواروں کے ساتھ رقص شروع ہوا اور جب ایک نوجوان تلوار کے ساتھ رقص کرتے کرتے بے قابو ہوگیا تو اس کی تلوار سے پانچ چھ نوجوان زخمی ہوگئے تھے اور یوں شادی کی تقریب میں بھاگ دوڑ مچ گئی اور پریشانیاں چھا گئیں۔
پھولوں کے ہار باجہ کا خرچہ اپنی جگہ گاڑی جس پر رکھ کر پھولوں  کا ہار لایا گیا وہ الگ سے رہا۔ دوسری جانب سے زخمی نوجوانوں کے علاج کا خرچہ بھی نوشہ کے کاندھوں پر ہی آن پڑا اور پولیس کیس نہ ہوجائے اس کے لیے نوشہ کے والد کو لوگوں کی منت اور سماجت الگ سے کرنی پڑی۔
قارئین یہ کوئی اکلوتا واقعہ نہیں ہے شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کے دوران ہتھیاروں کے ساتھ رقص کا جو چلن ہے وہ بڑا ہی خطرناک اور کسی طرح بھی موزوں نہیں ہے۔ تقاریب کے لیے ایسے پھولوں کے ہار کی تیاری جو کہ چند منٹوں بلکہ لمحوں سے زیادہ پہنا بھی نہیں جاسکتا ہے اس کے پیچھے ہزاروں کا خرچ کیا معنی رکھتا ہے۔
قارئین اس نشے کے بارے میں غور کیجئے گا جس کا استعمال نوشہ کے دوست احباب نے شادی میں پھولوں کا ہار لے جانے کے دوران کیا۔ جی ہاں نشے کی عادات کس طرح اور کس قدر تیزی کے ساتھ ہمارے نوجوانوں میں بڑھتی جارہی ہے کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے؟
ارے بھائی صاحب نہ تو میں نشہ کرتا ہوں اور نہ ہی میرے گھر میں کوئی کرتا ہے پھر میں کیوں فکر کروں؟ اس طرح کا جواب سونچنے والوں کو بتلادوں کہ فکر تو انہی کو کرنی ہے جو نشہ نہیں کرتے کیونکہ نشہ کرنے والے تو ایک دوسرے کی فکر کر رہے ہیں اور اپنا حلقہ اثر بڑھانے کوشاں ہے۔
گانجہ اور دیگر نشیلی اشیاء کے استعمال کرنے والے افراد جب پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں تو ان سے پوچھے گئے سوالات میں ایک سوال ضرور شامل ہوتا ہے کہ نشے کی عادت کیسے پڑی اور پہلی مرتبہ نشہ کس چیزکا کیا، اسے کہاں سے حاصل کیا؟
تو پولیس کے ایک ریٹائرڈ عہدیدار کے مطابق 99 فیصد نوجوان دوستوں کا نام لیتے ہیں جو کہ انہیں پہلی مرتبہ نشہ آور چیزوں کا عادی بناتے ہیں۔ اب ہمارے بچے سونچئے گھر سے باہر نکلتے ہیں، محلے، اسکول، کالج، بازار، بس اسٹانڈ جاتے ہیں تو یہ کن لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں ان کے دوست کون ہوتے ہیں۔
یا ان کے کلاس میٹ کہیں نشے کی عادی تو نہیں۔ بس اسی زاویہ سے سونچئے گا کہ اگر آپ سماج کے دیگر افراد کے نشہ کرنے پر فکر مند ہیں تو آپ کی یہ فکر اللہ نے چاہا تو آپ کے گھر والوں کو بلکہ آپ کے بچوں کو بھی اس مصیبت اور بلا سے محفوظ رکھے گی۔ (انشاء اللہ)
7؍ جنوری 2020ء کو شہر حیدرآباد کے نئے پولیس کمشنر سی وی آنند نے ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران ہم نے منشیات کے سوداگروں کو پکڑا ہے۔ اب ہم اس بات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ منشیات استعمال کرنے والوں کو بھی گرفتار کریں۔
چونکہ صرف سپلائی چین کو کٹ کردینے سے مسئلہ حل نہیں ہوپا رہا ہے۔ اب ہمارے پاس منشیات لینے والوں کی فہرست ہے ۔ پہلے ہم نفسیاتی اور سماجی ماہرین سے بات کریں گے۔ ان کے مشورے سے ہم اپنا اگلا لائحہ عمل طئے کریں گے۔ 
کمشنر سی وی آنند نے کہا کہ پولیس ابھی تک ڈرگس لینے والوں کو گرفتار کرنے سے رکتی رہی تاکہ ان نوجوانوں کا کیریئر خراب نہ ہوجائے۔ ہم نے ڈرگس لینے والوں کے سرپرستوں سے بات کی۔ ان کی کونسلنگ کی تاکہ وہ ان حرکات سے باز آجائیں۔ لیکن اگر ہمیں پتہ چلے کہ ڈرگس کا استعمال کم نہیں ہوا ہے تو ہم سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ جس کے تحت ہم ڈرگس خریدنے والوں کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیں گے۔ 
کمشنر حیدرآباد سٹی پولیس کے مطابق منشیات کا استعمال کرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں جن کی عمریں 18 سے 30برس کے درمیان ریکارڈ کی گئیں۔ ان کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ حیات سے ہے۔ 
حیدرآباد سٹی پولیس نے 12؍ جنوری 2020ء کو ملے پلی میں واقع ایک مشہور تعلیمی ادارے کے قریب سے 9 نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ 19 سے 29 سال کی عمر کے یہ نوجوان مبینہ طور پر منشیات فروخت کر رہے تھے۔ حبیب نگر پولیس نے ان کے قبضے سے منشیات کے آٹھ باکس اور دس موبائل فون برآمد کرلیے۔
پولیس کے حوالے یس اخبارات نے لکھا کہ سعودی عرب میں پڑھ لکھ کر بڑے ہونے والے یہ نوجوان جب اپنے وطن ہندوستان واپس آگئے تو ان لوگوں نے مل کر جلد پیسے کمانے کے لیے منشیات کا سہارا لیا۔ ان میں سے بعض نوجوان نہ صرف خود منشیات استعمال کرنے لگے تھے بلکہ دوسرے نوجوانوں کے ساتھ باضابطہ طور پر منشیات کی تجارت شروع کردی تھی۔
پولیس نے 9 نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جبکہ مزید 2 ملزمان کی تلاش کا کام جاری ہے۔ قارئین گرفتار ملزمین کے علاوہ مفرور ملزمین سبھی کے سبھی مسلمان ہیں۔ یہاں یہ خبر صرف حالیہ عرصے کے حوالے کے طور پر دی جارہی ہے تاکہ مسئلے کی سنگینی کو سمجھایا جاسکے۔ 
اخبار ٹائمز آف انڈیا نے 18؍ جنوری 2022ء کو شائع کی۔ خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ سائبرآباد پولیس نے پانچ ایسے لوگوں کو گرفتار کرلیا جو کہ گانجہ فروخت کر رہے تھے اور ان لوگوں کے قبضہ سے 214 کلو گانجہ برآمد کرلیا گیا۔
قارئین یہ تو وہ گانجہ تھا جو پکڑا گیا۔ معلوم نہیں کتنا گانجہ ایسا ہے جو محفوظ طریقے سے ہمارے بچوں تک پہنچایا جارہا ہے۔ پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ ہم میں سے ہر فرد کو اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔کہیں آنے جانے کی ضرورت نہیں ہے صرف اپنے گھر کے بچوں پر ہی نظر رکھ لیں تو شروعات ہوسکتی ہے۔ 
اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو ہر بری بلا سے محفوظ رکھے اور ہر طرح کے نشے اور نشے کی عادات سے ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین یارب العالمین)

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button