سیاسی و مذہبی مضامین

الْعَیْنُ حَقٌّ-نظر کا لگنا برحق ہے

اور قریب ہے وہ لوگ جنہوں نے کفرکیا آپ کواپنی نگاہوں سے ضرورہی پھسلادیں،جب وہ ذکرسنتے ہیں اورکہتے ہیں: یقینا یہ تو بالکل دیوانہ ہے.(سورہ القلم۔آیت۔51)اُمّ المُومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر (نظر بد لگنے کی وجہ سے) کالے دھبے پڑ گئے تھے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ،اس پر دم کرا دو کیونکہ اسے نظر بد لگ گئی ہے(بخاری، الصحیح، 5: 2167، رقم: 5407۔مسلم، الصحیح، 4: 1725، رقم: 2197)

اُمّ المُومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ، نبی آخر الزماں ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ نظر بد لگ جانے پر مُعَوِّذَتَیُن یعنی (سورۃ الفلق – سورۃ الناس) سے دم کر لیا جائے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا ہے کہ نظر بد لگنے کا دم کیا کرو(بخاری، الصحیح، 5: 2166، رقم: 5406۔مسلم، الصحیح، 4: 1725، رقم: 2195)

رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ،نظر کا لگ جانا حقیقت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا(بخاری، الصحیح، 5: 2167، رقم: 5408، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامۃ۔مسلم، الصحیح، 4: 1719، رقم: 2187، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربی۔احمد بن حنبل،المسند، 2: 319، رقم: 8228، مصر: مؤسسۃ قرطبۃ)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا،نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے (نظر کے علاج کے لیے) غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کر لو(مسلم، الصحیح، 4: 1719، رقم: 2188۔ابن حبان، الصحیح، 13: 473، رقم: 6107، بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ۔اوکما قال ﷺ)

نظر بد کے اثرات۔

اور یعقوب نے کہا: اے میرے بیٹو! تم سب ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونااور میں تم سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے (آنے والی)کسی چیزکو نہیں ہٹاسکتا،حکم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، میں اُسی پر بھروسا کرتا ہوں اور لازم ہے کہ بھروسہ کرنے والے اُسی پر بھروسہ کریں۔(سورہ یوسف آیت۔67)

یہ تاکید حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس خیال سے فرمائی کہ یہ گیارہ کے گیارہ بھائی جو سب ماشا اللہ قد آور اور حسین و جمیل تھے جب ایک ساتھ شہر میں داخل ہوں گے، تو کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔حافظ ابن کثیر سورہ یوسف کی آیات 67-68 کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا کے شہر میں اس کے مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔

ابن کثیر نے مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے روایت کی ہے کہ حضرت یعقوب ؑنے ایسا اس لیے کیا کہ ان کو خدشہ تھا کہ ان کے بیٹوں کو نظر بد نہ لگے۔ ابن کثیر اپنی کتاب تفسیر ابن کثیر کی جلد 6 میں لکھتے ہیں کہ سورہ القلم کی آیت 51 نظر بد سے متعلق ہے۔

نظر بد کی وجہ حسد ہوتا ہے۔عربی زبان میں نظر بد کو عین الحسود کہا جاتا ہے۔نظر بد کی وجہ سے ایک خوش حال اور کامیاب انسان کی زندگی بدقسمتی، صحت کے مسائل،شدید بیماری اور دیگر پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے۔اچانک بغیر ہکسی وجہ سے جسمانی کمزوری محسوس کرتاہے آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔بغیر کسی وجہ سے بھوک لگنا ختم ہو جاتی ہے۔ چہرے کا رنگ ہو جاتا ہے۔

چھوٹی اور معمولی باتوں پربھی پریشانی گھیر لیتی ہے،اور ہمت ختم ہو جاتی ہے۔ سینے میں جکڑن اور بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔جسم پر سُستی طاری ہو جاتی ہے اور کام کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔سر میں مستقل درد رہنا شروع ہو جاتا ہے۔ یا بھاری پن محسوس ہوتا ہے۔صورت میں انسان اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں سے ملنا پسند نہیں کرتا۔

مفتی محمدعاصم عصمہ اللہ تعالی صاحب کے مطابق اس کے علاوہ کچھ اثرات یہ بھی ہیں،خاص کر سر کے درد کا آنکھوں اور کنپٹیوں سے شروع ہو کر سر کی جانب پھیلنا اور پھر کندھوں سے اترتے ہوئے ہاتھ پاوں کے کناروں میں پھیل جاتا ہے۔جسم پر عموما چہرے کمر اور رانوں میں سرخ نیلے دانوں کا بکثرت نکلنا یا دھبے بنتا رہتا ہے۔

بکثرت پیشاب کا آنا اور قضائے حاجت کیلئے جانا۔بہت زیادہ پسینہ آنا خصوصا سر اور کمر میں۔دل کی دھڑکن کا کم یا زیادہ ہونا دل ڈوبتا محسوس ہونا اور موت کا خوف۔چہرے کا زردی مائل ہو جانا۔تلاوت نماز اور دم کے درمیان بکثرت جمائیاں آنا اور آنسوں کا بہنا۔پڑھائی اور کام سے دل کا اچاٹ ہو جانا حافظے کا کمزور ہونا اور بے توجھگی رہنا۔مسلسل تھوک بہنا جھاگ کی مانند یا سفید بلغم۔

سوتے میں یا دم کے درمیان آنکھیں دیکھنا یا کسی کو ٹکٹکی باندھ کر اپنی طرف دیکھنا۔جسم میں خارش اور چیونٹیاں رینگتی محسوس کرنا۔آنکھوں کا شدت سے پھڑپھڑانا جھپکنا۔ہاتھ اور پاؤں کے کناروں میں سوئیاں چبھنا اور ٹھنڈا رہنا۔جسم بہت زیادہ گرم رہتا ہے۔انسان کا اپنے آپ سے لاپرواہ ہو جانا خصوصا عورتوں کا اپنی آرائش و زیبائش سے بے نیاز ہو جانا۔بچوں کا ماں کا دودھ نہ پینا بہت زیادہ رونا۔آنکھوں میں عجیب سی تیز چمک ہوتا ہے۔جوڑوں میں بوجھ محسوس ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں قضا و قدر کے بعد اکثر موت نظر لگنے سے ہوگی۔ نیز آپﷺ نے فرمایا نظر انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہانڈی تک میری امت کی اکثر ہلاکت اسی میں ہے(تفسیر ابن کثیر) (جمع الجوامع ، 5/204، (حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سہل ابن حنیف کہتے ہیں کہ (ایک دن) عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (میرے والد) سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہاتے ہوئے دیکھا۔ تو کہنے لگے کہ اللہ کی قسم (سہل کے جسم اور ان کے رنگ و روپ کے کیا کہنے) میں نے تو آج کے دن کی طرح (کوئی خوب صورت بدن کبھی) نہیں دیکھا۔ اور پردہ نشین کی بھی کھال (سہل کی کھال جیسی نازک وخوش رنگ) نہیں دیکھی۔

ابوامامہ کہتے ہیں کہ (عامر کا) یہ کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا (جیسے) سہل کو گرا دیا گیا (یعنی ان کو عامر کی ایسی نظر لگی کہ وہ فوراً غش کھا کر گر پڑے) چنانچہ ان کو اٹھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور عرض کیا گیا کہ ” یا رسول اللہﷺ! آپ سہل کے علاج کے لیے کیا تجویز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم یہ تو اپنا سر بھی اٹھانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ نبی کریم ﷺ نے سہل کی حالت دیکھ کر فرمایا کہ کیا کسی شخص کے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ اس نے ان کو نظر لگائی ہے؟

لوگوں نے عرض کیا کہ (جی ہاں) عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ہمارا گمان ہے کہ انہوں نے نظر لگائی ہے، راوی فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے (یہ سن کر) عامر کو بلایا اور ان کو سخت سست کہا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں مار ڈالنا چاہتا ہے! تم نے سہل کو برکت کی دعا کیوں نہیں دی (یعنی اگر تمہاری نظر میں سہل کا بدن اور جسمانی نشوونما اچھا لگا تھا تو تم نے یہ الفاظ کیوں نہ کہے ”بارک اللہ علیک” تاکہ ان پر تمہاری نظر کا اثر نہ ہوتا) پھر آپ ﷺ نے حضرت عامر کو حکم دیا کہ (تم سہل کے لیے اپنے اعضاء کو) دھوؤ اور اس پانی کو اس پر ڈال دو، چناں چہ عامر نے ایک برتن میں اپنا منہ ہاتھ کہنیاں گھٹنے دونوں پاؤں کی انگلیوں کے پورے اور زیر ناف جسم (یعنی ستر اور کولھوں) کو دھویا اور پھر وہ پانی جس سے عامر نے یہ تمام اعضاء دھوئے تھے سہل پر ڈالا گیا، اس کا اثر یہ ہوا کہ سہل فوراً اچھے ہو گئے اور اٹھ کر لوگوں کے ساتھ اس طرح چل پڑے جیسے ان کو کچھ ہوا ہی نہیں تھا (اوکما قال ﷺ، ابن ماجہ۔شرح السنتہ مؤطا امام مالک)

امیر المومنین حضرت علیؓ فرماتے ہیں: نظر بد کا لگنا حق ہے اور اس کے دفع کرنے کے لئے دعا و تعویذ سے علاج بھی حق ہے۔(نہج البلاغہ ص 934) امام جعفر صادقؒ سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص ایسی زینت کرے کہ جس پر نظر بد کا خوف ہو تو گھر سے نکلتے وقت سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم کرے(تحفہ العوام ص 566)

اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اللہ کے رسول! جعفر کے بیٹوں(یعنی میرے بیٹوں) کو نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی‘‘ (او کما قال ﷺ۔حسن۔الطیالسی تخ الحکیم البزار الضیاء،عن جابر. الصحیحۃ 747۔امام ترمذی نے اسے صحیح کہا۔

تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 17(2059)، (تحفۃ الا?شراف: 15757)، وقد اخرجہ، مسند احمد (6/438۔صحیح،، دوسرے مقام پر یوں رقم ہے۔علامہ ابن حجر فرماتے ہیں،ترجمہ۔اگر کسی چیز میں اتنی قوت ہوتی کہ وہ تقدیر کو بھی پیچھے چھوڑدیتی،تو یقیناً نظر ہوتی،لیکن وہ بھی تقدیر سے سبقت نہیں لے سکتی۔نظر بد انسان کو قبر تک اور اونٹ کو ہانڈی تک پہنچادیتی ہے۔نظر بد حق ہے شیاطین اسے حاضر کرتے ہیں،ایساکرنے کی ان کی وجہ بنی آدم سے حسد ہے۔

نظر بد کا علاج

مریض پر سورہ فلق اور سورہ الناس پڑھ کر دم کر دیں یا پانی میں دم کر کے پلا دیں۔سورہ ن القلم پارہ۔29 کی آخری دو آیات پڑھ کر بھی دم کر سکتے ہیں۔ خیال رہے سورہ یا آیات کو پڑھنے سے قبل 3 بار 5 بار یا 7بار درود ابراہیمی شروع اور آخر میں ضرور پڑھ لیں۔(کوئی بھی درود شریف پڑھا جا سکتا ہے)یا 3 مرتبہ سورہ الفاتحہ،پھر3 مرتبہ آیت الکرسی۔3 مرتبہ سورہ قریش۔1مرتبہ سورہ فلق 1 مرتبہ سورہ ناس پھر 3 مرتبہ سورہ القلم کی آخری 2 آیات اور آخر میں درود ابراہیمی پڑھ کر جس کو نظر لگی ہو اسے دم کر سکتے ہیں اور دعا بھی کریں۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام رسول اللہﷺ کو دم کرتے ہوئے درج ذیل کلمات پڑھا کرتے تھے۔باسم اللہ ارقیک من کل شیء یؤذیک من شر حسد،اللہ یشفیک باسم اللہ ارقیط(صحیح مسلم،الطب:2186)

‘‘اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے اورہر انسان کی شرارت حسد کرنے والی آنکھ سے،اللہ آپ کو شفادے،میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔\نظر بدکا اس طرح سے بھی علاج ہوسکتا ہے

(1)جسے نظر بد لگی ہے اسے دم کیاجائے

(2)نظرلگانے والے کو چاہیے کہ خود کو دھوئے،پھر اس پانی کو مریض پر ڈال دیا جائے،نظر بد سے بچنے کیلیے پیشگی احتیاطی تدابیر بھی کی جاسکتی ہیں۔ رسول اللہﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو مندرجہ ذیل کلمات کے ساتھ دم کیا کرتے تھے۔

اعیذ کمابکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ و من کل عین لامۃ‘‘میں تمہیں اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں دیتا ہوں،ہر شیطان اور زہریلی بلاکے ڈر سے اور ہر لگنے والی نظر بد سے(ابن ماجہ،الطب:3525)

رسول اللہﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو اسی طرح دم کیا کرتے تھے(صحیح بخاری،احادیث الانبیاء:3371)

نوٹ۔درود ابراہیمی یا کوئی بھی درود شریف اوّل آخر ضرور پڑھیں اور اگر وقت ہو تو درود پاک کی تعداد جتنا زیادہ ہو اتنا ہی بہتر ہے۔قضائے الہی کے ساتھ سب سے زیادہ اموات نظر لگنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عبداللہ بن موہب ؒسے روایت ہے کہ میرے گھر والوں نے مجھے پیالہ دے کر اُمُّ المومنین حضرت اُمُّ سلمہ ؓکے پاس بھیجا،( جب کسی آدمی کو نظریا کوئی شے لگ جاتی تو ان کے پاس سے کوئی چیز لانے بھیجتے تھے،جس سے مریض کا علاج ہو سکے) حضرت ام سلمہ ؓنے حضورِ اکرم ﷺ کا مُوئے مبارک چاند ی کی کپی (ڈبی)میں رکھا ہوا تھا۔ میں نیکپی میں جھانکا تو چندسرخ بال دیکھے(بخاری، کتاب اللباس، باب ما یذکر فی الشیب۔4 / 76، حدیث: 5896)

متعلقہ خبریں

Back to top button