قومی خبریں

دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جی این سائی بابا کو ملی راحت

بامبے ہائی کورٹ نے جیل سے فوراً رِہا کرنے کا دیا حکم

ممبئی ، 14اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بامبے ہائی کورٹ نے دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جی این سائی بابا کو مبینہ ماؤوادی لنک معاملے میں بڑی راحت دی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے سائی بابا کو بری الذمہ قرار دیا ہے۔ عدالت نے انھیں فوراً جیل سے رِہا کرنے کا حکم بھی صادر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے اس معاملے میں دیگر 5 افراد کو بھی رِہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ان سبھی لوگوں کے خلاف اگر کوئی کیس درج نہیں ہو تو انھیں فوراً جیل سے بری کر دیا جائے۔

واضح رہے کہ ملزمین میں ایک شخص کی پہلے ہی موت ہو چکی ہے۔جسٹس روہت دیو اور انل پانسرے کی بنچ نے جی این سائی بابا کے ذریعہ ذیلی عدالت کے 2017 کے حکم کو چیلنج دینے اور انھیں تاحیات جیل کی سزا دینے کی اپیل کی بھی اجازت دے دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جی این سائی بابا معذور ہیں۔ وہ ہیل چیئر کا سہارا لے کر چلتے ہیں اور ناگپور سنٹرل جیل میں بند ہیں۔واضح رہے کہ مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع کی ایک سیشن عدالت نے مارچ 2017 میں جی این سائی بابا، ایک صحافی اور جے این یو کے ایک طالب علم سمیت دیگر کو ماو?وادی لنک اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سرگرمیوں سے جڑنے کے معاملے میں قصوروار قرار دیا تھا۔

عدالت نے یو اے پی اے اور تعزیرات ہند کے الگ الگ دفعات کے تحت قصوروار ٹھہرایا تھا۔اس سے قبل جی این سائی بابا نے جیل میں بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی دی تھی۔ جیل کی کوٹھری کے اندر سی سی ٹی وی کیمرہ لگانے کی انھوں نے مخالفت کی تھی اور غیر معینہ بھوک ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ سی سی ٹی وی کیمرہ بیت الخلاء کے فوٹیج ریکارڈ کرے گا۔ اس کے بعد ان کی بیوی اور بھائی نے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس کو خط لکھ کر جیل کی کوٹھری سے سی سی ٹی وی کیمرے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button