حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمیؒ،عالم بنگلور
وَلاَ یضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ۔اور مسلمان عورتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے پاؤں زمین پر اس طرح نہ ماریں کہ انہوں نے جو زینت چھپا رکھی ہے، معلوم ہوجائے۔
آیت مذکورہ جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں عورتوں کو صرف پاؤں زور سے زمین پرمارنے سے منع نہیں کیا بلکہ ان تمام چیزوں سے روکا گیا ہے جو نامحرموں کو توجہ کا مرکز بنا دے بھڑکیلے لباس پہن کر تیز خوشبو لگا کر مجمع عام میں عورت کیلئے جانا جائزنہیں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنه نے ایک عورت کو دیکھا کہ مسجد سے آرہی ہے اور اس سے خوشبو پھوٹ رہی ہے تو پوچھا کہ تو مسجد سے آرہی ہے اس نے کہا ہاں پھر پوچھا کیا خوشبو لگارکھی ہے اسنے کہا ہاں تو حضرت ابوہریرہ رضی الله عنه نے فرمایا : سَمِعْتُ حَبِیْبِیْ اَبَا الْقَاسِمِ یَقُولُ لاَ یَقْبَلُ اللّٰہُ صَلٰوۃَ اِمْرَأۃٍ طَیِّبَۃٍ لِھٰذَا لْمَسْجِدِ حَتّٰی تَرْجِعَ فَتَغْسِلَ عَسْلَھَا مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ ’’میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ اس عورت کی نماز قبول نہیں فرماتا جو مسجد میں تیز خوشبو لگا کر جائے جب تک کہ وہ گھر لوٹ کر غسل جنابت نہ کرے‘‘۔ اس کے علاوہ متعدد حدیثوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عورتوں کو زرق و برق لباس پہن کر گھر سے باہر نکلنے سے منع فرمایا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ عورتیں
فرمایا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اس عورت کو جو اپنے شوہر سے تو محبت کرے اور غیر مرد سے اپنی حفاظت کرے۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی عورت کو اپنے گھر میں گھر گرہستی کا کام کرنا جہاد کے رتبے کو پہنچاتا ہے ۔فرمایا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تمہاری بیبیوں میں سب سے اچھی وہ عورت ہے جو اپنی آبرو کے بارے میں پارسا ہو، اپنے خاوند پرعاشق ہو۔
لیکن افسوس صد افسوس حقوق نسواں کے ان ٹھیکیداروں اور آزادی نسواں کے علم برداروں کے سرابی دعوؤں اور نعروں کے باوجود خواتین کی حالت روز بروز خراب ہوتی ہی چلی جارہی ہے ۔ آزادی نسواں اور حقوق کی بحالی کے نام پر معاشرے میں فساد ،عیاشی ، فحاشی اور عریانیت کا بازار گرم ہے ۔ آزادی کے نام پر عورتوں کوان کے محفوظ گھروں سے نکال کر ہوٹلوں، پارکوں ،سڑکوں ،سینماگھروں اور نہ جانے کتنے مقامات پر پہنچادیا گیا ہے ۔ ان کے جسم سے مہذب وباوقار لباس نوچ کر لباس کے نام پر چند چیندیاں پہنادی گئی ہیں۔ ان کے سرکی چادر جو عفت مآبی اور عصمت کی دلیل تھی تار تار کرکے پالتوں کتوں جیسا پٹہ ان کے گلے میں لٹکا دیاگیا ہے۔عریانیت اور بے لباسی آج کی عزت دار کہلانے والی خواتین کا طرہ امتیاز بن گئی ہے ۔
نیک بخت عورت سب سے اچھا خزانہ ہے
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا جو حمل گرجائے وہ بھی اپنی ماں کو گھسیٹ کر بہشت میں لے جائے گا جبکہ ثواب سمجھ کر صبر کرے۔اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ سب سے اچھا خزانہ نیک بخت عورت ہے کہ خاوند اس کے دیکھنے سے خوش ہوجائے اور جب خاوند کوئی کام اس کو بتائے تو حکم بجالائے اور جب خاوند گھر پر نہ ہو تو عزت وآبرو کی حفاظت کرے۔
آج خود انحصاری اورسلف ڈپنڈنٹ ہونے کے رحجان نے خواتین کے دل سے خاندان اورگھر کی اہمیت ختم کردی ، خود کفیل ہوجانے والی اکثر خواتین ازدواجی زندگی کو مصیبت تصور کرنے لگیں ہیں اورایک خاندان کی تشکیل سے گھبرانے لگی ہیں ۔ کھاؤ پیو مست رہو، عیش اور عیاشی کرو کے نظریئے پر زندگی گزارنے کو ترجیح دینے لگی ہیںجس کی وجہ سے اپنے فطری و صنفی فرائض کی ادائیگی سے منھ موڑنے لگیں اورمغربی تہذیب وتمدن کے سایہ عاطفت میںپناہ ڈھونڈنے لگی ہیں۔ آزادی کی اس بے مہاردوڑ میں ہمارے اکثر مسلم گھرانوں کی خواتین بھی شامل ہوچکی ہیں ، اپنے اسلامی تشخص واقدار کو اولڈ فیشن سمجھ کر کہیںکونے میں ڈال دیا ہے اور حضور پاک eکے بتائے ہوئے پاک طریقوں کو اپنی زندگی کے ہر شعبے سے نکال کر مغربی تہذیب وتمدن کے علم برداروں کو اپناخدا اور رہبر اعظم بنا لیا ہے ۔
چارچیزیں دنیا وآخرت کی بڑی نعمت
فرمایا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جس شحص کو چار چیزیں نصیب ہوگئیں اس کو دنیا اور آخرت کی دولت مل گئی ۔ ایک تودل ایسا کہ نعمت کاشکر ادا کرتا ہو۔دوسری زبان ایسی جس سے خدا کا نام لے ۔ تیسرے بدن ایسا کہ بلا ومصیبت پر صبر کرے۔چوتھے بیوی ایسی کہ اپنی آبرو اور خاوند کے مال میں دغا وفریب نہ کرے۔عریانیت و بے حیائی کی اس عام فــضا میں معاشرہ کا ہرشعبہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہا ہے ۔ ہر تاجر خواتین کی عریانیت سے اپنی دکان چمکا رہا ہے۔ تجارت کے فروغ میں عورت کا وجود ایک خاص ہتھکنڈہ ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ آج عورت کا وجود اتنا بے وقار اور بے بضاعت ہوکر رہ گیا ہے کہ عورتوں کو ہر ہر قدم پر اپنی اس نام نہاد آزادی کا خوب خراج ادا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایک عورت کی بدکاری ہزارمردوں کی بدکاری کے برابر
اپنے گھر میں شان سے حکومت کرنے والی اور اپنے جائز محرم مرد یعنی شوہر کے دل پر راج کرنے والی شریف عورت جب اپنے گھر سے نکل گئی تو اس کا خاص مطمع نظر ہزاروں اجنبی مردوں کے دلوں پر راج کرنابن گیا ۔ انہی کے لئے خود کو سنوارنا اور اپنی بے لباسی و عریانیت کے ذریعہ ،غیر مردوں کو مدہوش کرنا اوران کے جذبات کو برانگیختہ کرنا ، ان کا اہم مقصد حیات بن گیا ۔ بیوٹی پالروں کے چکر اورخود کو حسن کے ہتھیاروں سے لیس کرنافریضہ حیات بن گیا۔فرمایا رسول اللہ eنے اللہ رحمت فرماوے پائجامہ پہننے والی عورتوں پر ۔فرمایا رسول اللہeنے بدکار عورت کی بدکاری ہزار بدکار مردوں کے برابر اورنیک عورت کی نیکو کاری ستر اولیاء کی عبادت کے برابر ہے۔
اجنبی عورت کی پہچان
ایک باعزت اور باعصمت عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کی حفاظت کے لئے اور اپنے مستقبل کی حفاظت کے لئے شرم وحیاکا پیکر بنی رہے۔ اور بے حیائی سے دور رہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب نے مسلم خواتین میں بھی جوبے قیدو بے مہار آزادی کا زہریلا انجکشن لگادیا ہے اسکے زہرنے عورتوں کی پوری حیات کارخ غلط سمت میں موڑدیاہے ۔ پورے معاشرے میں عدم توازن کی فضا عام ہوگئی ہے جس کے زہریلے نتائج ہر لمحہ رونما ہورہے ہیں۔ حالانکہ ہمیں حضور e کے ان ارشادات پر غور کرناچاہئے۔حدیث میں ہے کہ ’’فرمایا رسول اللہ eنے سب عورتوں سے اچھی وہ عورت ہے کہ جب خاوند اس کی طرف نظر کرے تو وہ اس کو مسرور کردے اورجب اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اوراپنی جان اور مال سے اس کو نا خوش کرکے اس کی کوئی مخالفت نہ کرے۔
مغربی تہذیب نے بدکاری وحرام کاری کی فضا پیدا کردی
ذرا انصاف سے غور کرکے بتاؤ کہ کیا یہی تمہاری آزادی ہے اور یہی تمہاری اعلیٰ تعلیم وتہذیب کا معیار ہے، یہی تمہاری ترقی ہے، ہاں اگر اس نام نہاد ترقی کا نام فنون لطیفہ ،رقص وموسیقی، عریانیت وبے حیائی ہے توبلاشبہ آج خواتین بام عروج پر جاپہنچی ہیں، مگر اس ترقی کے حصول کیلئے اپنی قیمتی ونایاب اشیاء کو قربان کرنا پڑاہے اوراس ترقی کا کیا نتیجہ برآمد ہوا ؟ عورتوں اور مردوں کے آزادانہ اختلاط نے جنسی آوارگی کا رجحان پیدا کردیا ، بدکاری اورحرام کاری کی فضا عام ہوگئی۔اللہ تعالیٰ تمام عورتوں کی خصوصاً مسلم خواتین کی حفاظت فرمائے اور شریعت کے مطابق زندگی گذارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین! ٭



