سیاسی و مذہبی مضامین

فیض کا مجموعہ نقش فریادی✍️ ڈاکٹر سیماہ شاہ پرنسپل وسیم ترکی پی۔جی کالج،امروہہ یوپی

سہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے میں لاکھ آرزوئیں

Faiz Ahmed Faiz فیض احمد فیض کا اصل نام ’’فیض احمد خان‘‘ تھا فیض احمد فیض کی پیدائش سیالکوٹ 13فروری 1911ء کو ہوئی ۔والد کانام خان بہادر سلطان احمد خان تھا۔غالب اور اقبال کے بعد اردو کے سب سے عظیم شاعر ہیں ۔اپنے پہلے مجموعہ کلام ’’نقش فریادی‘‘کے سرنامے کے طور پرفیض نے غالب کا یہ شعر رقم کیا ہے۔گویا 49 تخلیقات پر مشتمل فیض کا یہ پہلا مجموعہ کلام’’نسخہ ہائے وفا‘‘کی تالیف معلوم ہوتا ہے یوں بھی اگر اس مجموعے کی تخلیقات کا بیک نگاہ مطالعہ کیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ بیشتر تخلیقات غالب کے شعر کا مصداق معلوم ہوتی ہیں ان تخلیقوں پر گفتگو کرنے سے قبل اگر ان کے عنوانات اور مطلعوں پر نظر کی جائے تو اس بات کا ثبوت از خود مل جائے گا مثلاً ’’حسن مرہون جوش باد وتاز‘‘۔’’عشق منت کش قرار نہیں‘‘۔’’آخری خط‘‘۔’’میری جاں اب بھی ‘‘۔’’انتظار‘‘۔’’یاس ‘‘۔’’دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے ‘‘۔اگر ان تخلیقات کا فرداً فرداً جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ فیض عشق رومان کی فضاؤں میں گھرے ہوئے ہیں ۔نقش فریادی کا آغاز ہی اس نوع کے شعر سے ہوتا ہے ۔

ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
اداسی میں ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں
محبت کی دنیا پہ شام آچکی ہے
سہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں
مچلتی ہیں سینے میں لاکھ آرزوئیں
تڑپتی ہیں آنکھوں سے لاکھ التجا ئیں
ادائے حسن کی معصومیت کو کم کردے
گناہ گار نظر کو حجاب آتا ہے

کھوئی یاد کا واپس آناہر نفس کا تشنہ ہونا غم دوست کے نہ ہونے سے محفل ہستی کا ویران ہونا سب عشقیہ جذبوں سے عبارت ہے دوسری نظم ’’خدا وہ وقت نہ لائے ‘‘ان میں بھی اسی جذبے کی فراوانی ہے اس کے مجموعے کی غزل …

سوزشیں درد دل کسے معلوم !
کون جانے کسی کے عشق کا راز
میری خاموشیوں میں لرزاں ہے
میرے نالوں کی گمشدہ آواز
ہوچکا عشق اب ہوس ہی سہی
کیا کریں ، فرض ہے ادائے نماز

ان اشعار میں بھی عشق اور اس کے منسلکات کی باز گشت موجود ہے ۔’’انجام ‘‘اور حسن ’’سرود شبانہ ‘‘بھی اسی کیفیت کی عکاسی کرتی ہیں ۔

عشق مِنت کش قرار نہیں
حسن مجبور ا نتظار نہیں
تیری رنجش کی انتہا معلوم
حسرتوں کا میری شمار نہیں
اپنی تکمیل کررہا ہوں میں
ورنہ تجھ سے تو مجھ کو پیار نہیں

ان میں بھی یہی جذبہ کار فرماہے ’’آخری خط‘‘،’’حسینئہ خیال سے ‘‘،’’میری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو ‘‘،’’انتظار‘‘،’’تہہ نجوم ‘‘،’’یاس‘‘،’’ایک رہ گزرپر‘‘۔۔۔۔۔۔یہ ساری نظمیں بھی عشقیہ کیفیات سے مملو ہیں ۔لیکن نقش فریادی کے بظاہر دوسرے حصے میں جس کا آغاز ’’مجھ سے پہلی سی محبت‘‘سے ہوتا ہے فیض ان رومان پرور فضاؤں سے نکلنے کی کو شش کرتے ہوئے آتے ہیں ۔اس نظم سے پہلی کی نظموں میں فیض کے یہاں محبوب سے وہی شکوہ شکایت ،تغافل ،سخن پوشی،بے نیازی نظر آتی ہے جو ہماری روایتی شاعری کا طرئہ امتیاز ہے ۔

لیکن اس خواہش کی تکمیل نہیں ہوتی اور اس لئے فیض کو یہ کہنا پڑتا ہے محبتیں جو فناہوگئیں میرے ندیم ۔۔۔۔۔اور اس کے بعد فوراً وہ نظم شروع ہوتی ہے جس میں ایک طرح سے ترک محبت کا اعلان کیا گیا ہے ۔

اب فیض عشق اور رومان کی فضاؤ ں سے نکلتے ہیں بلکہ نکلنا ضروری سمجھتے ہیں اور اسی لئے’’پہلی محبت‘‘کو ضروری نہیں سمجھتے ۔اس لئے کہ اب ’’اور بھی دکھ ہیںزمانے میں محبت کے سوا‘‘۔اب فیض کو محبت کے محبوب دائرے سے نکل کر صدیوں کے بہیمانہ طلسم ، کوچہ وبازار میں جابجابکتے ہوئے جسم نظر آنے لگتے ہیں ۔یعنی فیض اب سماجی مسائل کی طرف بھی متوجہ ہوتے ہیں اس لئے اس نظم کے فوراً بعد کی غزل میں فیض کے یہاں عشق اور عشق سے بیزاری دونوں ہی قسم کے احساسات نظر آتے ہیں ۔

ویران ہے مے کدہ خم وساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کی روٹھ گئے دن بہار کے
دنیا نے تیری یاد سے بے گانہ کردیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روز گار کے
میرا دل غمگین ہے توکیا
غمگین یہ دنیا ساری ہے

اس طرح فیض کی ذات کا غم کائنات کا غم بنتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔کہیں یہ دونوں غم ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں اور کہیں الگ الگ۔فیض کو بہر حال دونوں عزیز ہیں وہ ذات کے غم کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہتے اور کائنات کے غم کی طرف سے بھی آنکھیں نہیں چرانہ چاہتے اس لئے ان کے یہاں اس طرح کے شعر نظر آتے ہیں

نہ جانے کس لئے امیدوار بیٹھا ہوں
ایک ایسی راہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں
عہد ترک محبت ہے کس لئے آخر
سکون قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button