نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد!
توفیق الٰہی سے حضرت مسیح الامت وحضرت حاذق الامتؒ اور پیر ومرشد حضرت حبیب الامت نور اللہ مرقدہ کی برکتوں سے عرض کرتا ہوں کہ: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایاکہ اللہ سے ڈرو میں تم لوگوں کو خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، اس لئے کہ اللہ سے ڈرنا ہر چیز کا نعم البدل ہے اور ڈرنے سے زیادہ کوئی کام اچھا نہیں، جو کچھ عمل کرو وہ آخرت کے لئے کرو۔
اس لئے کہ جو شخص آخرت کے لئے عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا میں اس بندہ کی کفالت کرتے ہیں اور آخرت میں اس کا بہترین صلہ دیتے ہیں، جو اپنے باطن کو درست کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو درست کردیتے ہیں، موت کو زیادہ یاد کیا کرو بلکہ موت کے لئے ہر وقت تیار رہو اس لئے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں، پتہ نہیں کب اچانک آجائے، اس لئے کہ موت ہی ایسی چیز ہے جو تمام لذتوں کو مکدر کردیتی ہے وغیرہ وغیرہ۔
اتنی تقریر کرنے کے بعد آپ منبر سے اتر کر دارالخلافہ کے اندر آگئے، آپ نے پردوں کے بارے میں فرمایا کہ انہیں اتار دیا جائے اور ان قیمتی بستروں کو ہٹادیا جائے، مزید فرمایا کہ انہیں فروخت کرکے ان کی قیمت بیت المال میں داخل کردی جائے۔ یہ کہہ کر آپ قیلولہ کرنے کے لئے گھر تشریف لے گئے۔
اتنے میں ان کے صاحبزادے عبدالملک حاضر خدمت ہوئے اور کہنے لگے: والد محترم! آپ اس وقت کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ بیٹے! قیلولہ کرنے کا ارادہ ہے، بیٹے نے کہا کہ آپ قیلولہ کا ارادہ کر رہے ہیں جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔
فرمایا: میرے پیارے بیٹے! گذشتہ رات تمہارے چچا سلیمان کی تجہیز وتکفین میں لگا رہا، ساری رات جاگنا پڑا، ظہر کی نماز ادا کرکے مظالم دور کرنے کی کوشش کروں گا، بیٹے نے کہا: اے امیر المومنین! ظہر تک چین وسکون کی نیند کیا آپ کے لئے ان حالات میں جائز ہے؟ اتنے میں آپ نے فرمایا: بیٹے میرے قریب ہوجا، چنانچہ وہ قریب ہوگئے، بیٹے کی پیشانی کا بوسہ لیا اور فرمایا۔
ظلم کے خلاف اعلانِ عام
خدا کا شکر ہے جس نے میرے صلب سے ایسے کو نکالا جو دین میں میری مدد کرتا ہے، پھر آپ بغیر قیلولہ کئے ہوئے گھر سے نکل پڑے، منادی کو بلاکر یہ ہدایت کی کہ تم لوگوں میں یہ اعلان کرادو کہ جس پر بھی کسی قسم کا ظلم ہورہا ہو تو وہ دربار میں حاضر ہوکر بیان کردے، دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
تھوڑی دیر بعد عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں حمص کے ایک ذمی نے فریاد رسی کی، کہا عالی جاہ امیر المومنین! بندہ حضور والا کی خدمت میں کتاب اللہ کے بارے میں ایک سوال کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ہے، آپ نے فرمایا کہ وہ کیا ہے سوال کرو۔
ذمی نے کہا کہ شہزادہ عباس بن الولید نے میری زمین پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے، شہزادہ بھی اس وقت حاضر ہیں، تصدیق کرلی جائے، آپ نے فرمایا: عباس کیا یہ دعویٰ تمہارے خلاف صحیح ہے، عباس نے کہا: امیر المومنین! مجھے تو الولید خلیفہ نے یہ زمین عنایت کی تھی، چنانچہ میرے پاس ان کی یہ تحریر بھی موجود ہے، آپ نے ذمی کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ ذمی اب تم کیا جواب دیتے ہو؟ بات ان کی بھی درست معلوم ہوتی ہے۔
ذمی نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کی کتاب قرآنِ کریم کیا فیصلہ کرتی ہے؟ یہ سن کر امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ کتاب اللہ کتابِ مقدس ہے جو ولید کی تحریر سے زیادہ حق اور اتباع کے لائق ہے۔
پھر عباس کی طرف متوجہ ہوئے، فرمایا کہ عباس تم اس آدمی کی زمین واپس کردو، چنانچہ واپس کردی گئی۔ پھر اس کے بعد کوئی بھی شاہی خاندان ان کے خلاف مقدمہ دائر کرتا تو آپ فوراً اس کو رفع کرنے کی کوشش کرتے، ہر تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرتے، غریبوں کی فریادرسی کرتے۔
(ماخوذ از انوار طریقت جلد دوم مولفہ حضرت حبیب الامت صفحہ: ۳۳۷تا۳۳۸) ٭



