سیاسی و مذہبی مضامین

بھارت کی پہلی مسلم معلمہ فاطمہ شیخ

بھارتی سماج میں لڑکیوں کی تعلیم شروع کرنے والی پہلی خاتون معلمہ جسے آج ہم نے بھلادیا ہے۔

بھارتی سماج میں لڑکیوں کی تعلیم شروع کرنے والی پہلی خاتون معلمہ جسے آج ہم نے بھلادیا ہے۔

فاطمہ شیخ و عظیم شخصیت ہے جنھوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے پہل کی۔ جوایک ہندوستانی ماہر تعلیم اور سماجی مصلح تھیں ۔انھوں نے ساوتری بائی پھلے اور جیوتی با پھلے کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر تعلیمی کام انجام دیا۔ انھیں پہلی مسلم خاتون معلمہ کے نام سے بھی جاناجاتا ہے۔ انھوں نے ایسے وقت میں لڑکیوں اور عورتوں کی تعلیم کی اصلاحات کی جب سماج میں تعلیم اعلی ذات کے مردوں کے لئے مخصوص تھی اور خواتین اساتذہ کے بارے میں سنانہیں جاتا تھا۔

فاطمہ شیخ کی پیدائش ریاست مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد میں ۹؍ جنوری ۱۸۳۱ء؁ کو ہوئی وہ میاں عثمان شیخ کی ہمشیرہ تھیں ۔میاں عثمان شیخ جن کے گھر میں جیوتی رائو پھلے نے رہائش اختیار کی اور میاں عثمان کے گھر ہی جیوتی رائو پھلے نے سب سے پہلے اسکول شروع کیا یا یوں کہا جائیے تو اچھا ہوگا کہ جیوتی رائو پھلے کو اسکول شروع کرنے کے لئے ابتدا میں میاں عثمان شیخ نے ہی مدد کی اور اپنا گھر میں اسکول شروع کروایا۔جن کو ساتھ فاطمہ شیخ نے بھی دیا۔

چھوٹی عمر سے ہی فاطمہ شیخ کو سیکھنے کا کافی شوق تھا ان کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے۔۱۹۴۸ء؁ میں فاطمہ شیخ اور ساتری بائی پھلے نے اکی امریکی مشنری کے زیر انتظام اساتذہ کے تربیتی ادارے میں داخلہ لیا۔دونوں نے وہاں تربیت مکمل کی اور جیوتی رئو پھلے کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔فاطمہ شیخ نے پسماندہ برادریوں میں تعلیم پھیلانے کا ذمہ لیا۔ جدید ہندوستان کی پہلی مسلم خواتین اساتذہ میں سے ایک رہی۔فاطمہ شیخ نے پھلے کے اسکول میں بہوجن بچوں کو پڑھانا شروع کیا ۔ فاطمہ شیخ نے پھلے کے ان پانچوں اسکولوں میں پڑھانا شروع کیا جنہیں پھلے نے قائم کئے تھے۔فاطمہ شیخ نے تمام مذاہب اور ذاتوں کے بچوں کو تعلیم دی۔فاطمہ شیخ نے ممبئی (بمبئی) شہر میں بھی اسکول قائم کرنے میں حصہ لیا۔

پسماندہ طبقات کے لوگوں کے بچوں کو تعلیم دینے کی فاطمہ شیخ کی کوئی حد نہیں تھیں۔مختلف ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے رضامندی ہی اسے اپنے وقت کی ایک غیر معمولی سماجی مصلح بناتی ہے۔وہ ذات پات اور مذہب کی رکاوٹوں کو توڑنے اور ان لوگوں تک تعلیم پہنچانے کے لیے پر عزم تھی۔

فاطمہ شیخ عورتوں کی تعلیم اور انھیں با اختیار بنانے کے لئے پر عزم تھیں ۔ان کا ماننا تھا کہ تعلیم خواتین کی صلاحیتوں کو کھولنے اور ان کی زندگیوں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں ان کی مدد کرنے کی کلید ہے۔ خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے ان کی انتھک کوششوں اور لگن نے(خاص طور پر پسماندہ طبقہ سے) ہندوستان میں خواتین کے حقوق کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کیااور آنے والی نسلوں کے لیے راہ ہموار کرنے میں مدد کی۔

خواتین کو تعلیم دینا اور انھیں با اختیار بنانے کیلئے اپنے کام کے علاوہ ’’ فاطمہ شیخ نے اپنا وقت اور توانائی ہندوستان میں دیگر پسماندہ طبقہ کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے وقف کی‘‘انھوں نے دلت سماج کے ساتھ ان کے حالات زندگی کو بہتر بنانے تعلیم تک رسائی کے لئے کام کیا اور ہندوستان کی تحریک آزادی کی ابتدائی حامی تھیں ۔

ساوتری بائی نے جیوتی رائو کو لکھے اپنے خطوط میں فاطمہ شیخ کا ذکر بڑی تعریف اور احترام کے ساتھ لیا۔اپنے بھائی کے علاوہ صرف وہ لوگ جن سے اس کا تعلق تھا وہ پھلے اور ایک خاتون سگونا بائی جنہوں نے بظاہر فاطمہ شیخ اور ساوتری بائی کو پڑھانے میں مدد کی ۔

ساوتری بائی پھلے اورجیوتی رائوپھلے ذات پات کے نظام اور مردانہ تعلیم نظام کی اجارہ داری کے خلاف جدوجہدکافی مشکل تھی۔، لیکن اس حقیقت پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے کہ ان کے اس مشن میں فاطمہ شیخ جیسی خاتون نے شمولیت اختیار کی ،جسے دونوں کو مسلمان ہونے کے دہرے بدنماداغ کا سامنا کرنا پڑا، اور عورت ۔ یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ اس نے بطور اقلیت دیگر مذاہب کے بچوں کو بھی تعلیم دی۔

تقر یباً دوصدیاں گزر چکی ہیں جب فاطمہ شیخ نے جمود کو چیلنج کیا تھا۔تاکہ اس بات کو یقینی بنا سکے کہ تمام بچوں کو تعلیم تک رسائی حاصل ہو، خواہ ان کی ذات ، جنس یامذہب کچھ بھی ہو۔یہ ایک چھوٹی سی تسلی ہے کہ آج مہاراشٹرکے کچھ چھوٹے بچے اسکول کی نصابی کتاب میں اسکے یعنی فاطمہ شیخ کے نام سے ٹھوکر کھاسکتے ہیں ۔اور امید ہے کہ فاطمہ شیخ نے ان کے لیے یہ تحفہ بنانے میں جو کردار ادا کیا وہی اسے پہچانیں۔

(ویکیپیڈیا)
محمد معروف خان جالنہ 
9960265862

متعلقہ خبریں

Back to top button