اُردو شاعری اور فلمی شاعری میں ساحرؔ لدھیانوی کا نام فخر یہ انداز میں لیا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو بروئے کارلاکر ادب کی دنیا میں اپنا مقام بنا لیا ہے ۔ساحرؔ وہ خوش نصیب شاعر ہیں جنھیں اپنی زندگی میں ہی مقبولیت حاصل ہوگئی تھی۔ یہ مقبولیت ان کے گزرجانے کے بعد بھی باقی ہے۔ ساحرؔ کو ہم سے رخصت ہوئے چار دہوں سے زائد عرصہ ہوچکا ہے لیکن ان کی ادبی اور فلمی شاعری پورے برّصغیر میں مقبولِ عام ہے۔
ساحرؔ لدھیانوی کا اصل نام عبد الحئی تھا۔ وہ ۸ مارچ ۱۹۲۱ء کو لدھیانہ پنجاب میں زمیندار چودھری فضل محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ چودھری فضل محمد کو اولادِ نرینہ نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے متعدد شادیاں کیں۔ ساحرؔ کی والدہ سردار بیگم آخری بیوی تھیں جن کے بطن سے ساحرؔ کا جنم ہوا۔ چند سالوں بعد ساحرؔ کی والد اور والدہ کے درمیان گھریلو اختلافات شروع ہوئے۔ اس وقت ساحرؔ کی عمر سات سال تھی۔ ساحرؔ کی والدہ نے اپنے گھریلو جھگڑوں سے تنگ ہوکر اپنے بیٹے کے ساتھ میکے چلی گئیں۔ ساحرؔ کے والد نے اپنے بیٹے کو اپنی سرپرستی میں لینے کے لیے بہت کوششیں کیں۔ یہاں تک کہ بات عدالت تک پہنچی۔ جج نے فیصلہ سناتے ہوئے ساحرؔ سے پوچھا کہ تم کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہو؟ تو ساحرؔ نے اپنی ماں لے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔
ساحرؔ لدھیانوی کی ابتدائی تعلیم خالصہ ہائی اسکول، پنجاب میں ہوئی۔ ۱۹۳۷ء میں میٹرک کامیاب کرنے کے بعد انھوں نے ۱۹۳۸ء میںتیش چندردھون گورنمنٹ کالج فار بوائز سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۱۹۴۰ء میں گورنمنٹ ڈگری کالج، لدھیانہ میں داخلہ لیا۔ یہیں انھیں شعروشاعری کا ذوق پیدا ہوا۔ یہیں سے ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کے علاوہ سیاسی سرگرمیاں بھی بڑھتی گئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں تحریکِ جدوجہد آزادی کی لہر تیز ہوچلی تھی۔ ساحرؔ انگریز حکومت کی بربریت کے خلاف باغیانہ نظمیں لکھنے لگے۔
ایک طرف ان کی شاعری پروان چڑھ رہی تھی تو دوسری طرف ساحرؔ کو کالج کے پرنسپل کی لڑکی سے عشق ہوگیا جس کی وجہ سے انھیں کالج سے بے دخل کر دیاگیا تو ان کی گریجویشن کی تعلیم ادھوری رہ گئی اور وہ لدھیانہ چھوڑ کر لاہور منتقل ہوگئے۔ یہاں انھوں نے خالصہ دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا۔ یہاں بھی انھوں نے سیاسی و ادبی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔ اسٹوڈنٹس یونین فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔ اس دوران ساحرؔ نے ۱۹۴۴ء میں اپنا اولین شعری مجموعہ ’تلخیاں‘ منظر عام پر لایا۔ یہیں سے وہ اُبھرتے ہوئے نوجوان شاعر کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ ان کا مجموعہ کلام اتنا مقبول عام ہوا کہ تقریباً ۵۰ سے زیادہ جائزو ناجائز ایڈیشن چھپ چکے تھے۔ ’تلخیاں‘ مجموعہ کلام کے بعد ساحرؔ کے تین شعری تصانیف ’پرچھائیاں‘، ’گاتا جائے بنجارا‘ اور ’آؤ کوئی خواب ُبنیں‘ منظر عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔
ساحرؔ لدھیانوی لاہور میں قیام کے دوران مکتبہ اُردو، لاہور کے ادبِ لطیف ادارے میں چالیس روپئے ماہانہ مشاہرہ پر ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ انھیں ماہنامہ ’سویرا‘ اور ’شاہکار‘ رسالوں کی اِدارت کی بھی ذمہ داری سونپی گئی۔ ساحرؔ لدھیانوی زیادہ سالوں تک لاہور میں مقیم نہیں رہے۔ ۱۹۴۶ء میں وہ ممبئی چلے آئے۔ انہی دنوں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑک اُٹھی۔ ان فسادات میں ساحرؔ کی والدہ کھو گئیں۔ ساحرؔ بہت پریشان رہے۔
کافی تگ ودو کے بعد آخرکار ان کی والدہ مل گئیں تو انھیں لے کر لاہور چلے گئے۔ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان آزاد ہوا اورچند دن گزرے بھی نہیں کہ ہندوستان دو ملکوں میں تقسیم ہوکر رہ گیا۔ ساحرؔ ۱۹۴۸ء میں پھر لاہور سے دہلی منتقل ہوگئے۔ یہاں ساحرؔ حالی پبلشنگ سے وابستہ ہوئے۔ وہ قریب ایک سال تک رہے۔ پھر انھوں نے ماہنامہ ’شاہراہ‘ کا اجراء کیا اور بعد میں ’پریت ماہنامہ‘ کے مدیر بھی رہے۔
ساحرؔ نے اپنے قلم کے ذ ریعے گیتوں میں اپنے الفاظ کے پیکر سے عشق و محبت کے سانچوں میں دلکش انداز کا اظہار کیا ہے۔ ان کی شاعری محض زلف و رخسار کی ترجمان نہیں ہے بلکہ دل و دماغ کو بھی راحت دیتی ہے۔ ساحرؔ نے اپنے گیتوں میں کبھی کبھی اپنی زندگی کی حقیقت کی عکاسی کی ہے۔
ساحرؔ لدھیانوی کا کمالِ فن ہے کہ انھوں نے مصرعوں اور شعروں اور فلمی نغمات میں شگفتہ وسلیس انداز میں حکمت و دانائی کے راز کھولے ہیں۔ ان کے کلام کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو ساحرؔ کی زندگی کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی میں سماج اور زمانے کی روایات سے بغاوت کرتے ہوئے حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔’ خوبصورت موڑ‘ نظم میں اس کی پوری عکاسی کی گئی ہے۔
ساحرؔ کی نظموں میں شعری انتخاب اور ترتیب میں سلجھا ہوا انداز پایا جاتا ہے۔ ان کا نرم و نازک لہجہ، الفاظ کی شرینی، پیکر تراشی، رنگینی اور رعنائی کی کیفیات کاکھل کر اظہار ہوتا ہے۔ ان میں شاعری منفرد رنگِ سخن، خوبصورت لب ولہجہ، نغمگی اور لطیف و نازک مصّوری کی مرقع کشی سے فلمی و سیاسی نظموں سے قطع نظر ان کی تمام نظمیں دلکش و خوبصورت اندازمیں احساسات کی ترجمانی کرتی ہے۔ ساحرؔ کی چند مشہور نظموں ’خوبصورت موڑ‘، ’انتظار‘، ’تیری آواز‘، ’ ردِّعمل‘، ’ایک تصور متاعِ عزیز‘ اور ’کبھی کبھی‘قابلِ ذکر ہیں۔ساحرؔ نے اپنی شاعری میں تشبیہات اور استعارات کا بڑی عمدگی سے فلمی و ادبی نظموں میں بحسن و خوبی برتا ہے۔
تشبیہات کے ذریعے منظر کشی کی ہے وہ بہت ہی دلکش ہیں۔ ’پرچھائیاں‘ مجموعہ کلام میں اس کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ ڈاکٹر انور ظہیر انصاری اپنے مضمون ’ساحر ؔلدھیانوی :شاعر آشفتہ مزاج‘ میں لکھتے ہیں :
’’شاعری الفاظ کی جادوگری بھی ہے اور جذبات و خیالات کا ذریعہ بھی۔ ساحرؔ نے اپنے الفاظ سے دونوں کام لیے۔ لفظوں کے فنکارانہ استعمال سے پیکر سازی کی ہے۔ وہ بے جان جسم کو قوت کا حسن بھی بخشا ہے۔ ساحرؔ نے اپنی متخیّلہ اور فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف زندہ و متحرک کر دیا بلکہ ان کے مظاہرات کے ذریعے نظموں میں نئی فضاء بھی پیدا کی اور زندگی کی روح بھی بھر دی۔‘‘
ساحرؔ ایک رومانی، ترقی پسند، محب وطن اور انقلابی شاعر تھے۔ ان کا مذہب انسانیت وعشق تھا۔ ان کی زندگی اور شاعری ایک روح تھی جو آج بھی ادبی فلمی نغمات کی خوشبوبن کر مہک رہی ہے اور مہکتی رہے گی۔ ساحرؔ نے اپنی زندگی اور شخصیت کی عکاسی کرتے ہوئے کہا تھا:ساحرؔ لدھیانوی فلمی وادبی دنیامیں بیحد مقبولِ عام رہے۔ زندگی میں دولت و شہرت ان کے قدم چومتی رہی لیکن وہ اپنی نجی وخانگی زندگی سے بے حدبیزار رہے۔ اپنی مسلسل مصروفیت کی وجہ سے گھر بسانے کا خیال ہی نہیں رہاجس کی وجہ سے وہ آخر دم تک مجرّد رہے۔ یہ پل دو پل کا شاعر ۲۵؍اکتوبر ۱۹۸۰ء کی شب ورسووا ممبئی میں حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گیا۔



