مسلمانوں کی چار شادیاں اور پچیس بچے؟-محمد مصطفی علی سروری
گنیس بک آف ورلڈ ریکارڈ نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے ایسے شخص کی نشاندہی کی جس نے اپنی زندگی میں 105 خواتین کے ساتھ شادیاں کی
مسلمان چار شادیاں کرتا ہے اور پچیس بچے پیدا کرتا ے۔ اسلاموفوبیا کا شکار میڈیا عرصے دراز سے بس اسی بات کا پروپیگنڈہ کرتا آرہا ہے اور دنیا بھر میں بہت سارے لوگ ہیں جو اس نقطہ نظر کو صحیح تسلیم کر تے جارہے ہیں۔ لیکن جب ہم اپنے اطراف و اکناف میں دیکھتے ہیں تو ہمیں ایسے مسلمان دور دور تک نظر نہیں آتے جنہوں نے چار چار شادیاں کی ہوں اور ساتھ ہی پچیس بچے پیدا کیے ہوں۔
قارئین کرام اسی اپریل 2023 کے دوران گنیس بک آف ورلڈ ریکارڈ نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے ایسے شخص کی نشاندہی کی جس نے اپنی زندگی میں 105 خواتین کے ساتھ شادیاں کی اور ان میں سے کسی کو بھی طلاق نہیں دیا۔ سب سے اہم بات اس رپورٹ کی یہ تھی کہ سب سے زیادہ شادیاں کرنے والا یہ شخص مسلمان نہیں تھا اور نہ ہی کسی اسلامی ملک سے تعلق رکھتا تھا۔
5؍ اپریل 2023 کو جاری کردہ گنیس بک آف ریکارڈ کی اس رپورٹ میں Sani Atwal لکھتے ہیں کہ 1949ء تا 1981ء کے درمیان امریکہ میں ایک شخص رہتا تھا جس نے 104 یا 105 خواتین سے شادی رچائی تھی۔ ان میں سے ایک بھی خاتون دوسری خاتون کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی بلکہ جس شخص نے یہ شادیاں رچائی اس کے بارے میں بھی ان خواتین کو زیادہ کچھ نہیں معلوم تھا۔
رپورٹ کے مطابق Giovanni Vigilitto نامی اس امریکی نے امریکہ کے 27 مختلف ریاستوں اور 14 مختلف ملکوں کی عورتوں سے جعلی شناخت اور فرضی ناموں کے ساتھ شادیاں کیں۔
Vigilitto اس شخص کا اصل نام نہیں تھا بلکہ یہ وہ نام ہے جو اس نے دھوکہ دے کر آخری خاتون سے شادی کے لیے استعمال کیا تھا۔ وگلیٹو اپنی زیادہ تر ہونے والی بیویوں سے کاروباری مارکٹ میں ملاکرتا تھا اور اکثر اپنی پہلی ہی ملاقات میں خواتین کو شادی کی پیشکش کردیتا تھا۔ جلد ہی شادی ہوجاتی اور ہر شادی کے بعد یہ دھوکہ باز اپنی بیوی کی مال و دولت اور رقم لے کر فرار ہوجاتا تھا۔ شادی کے کچھ دن بعد وہ اپنی بیویوں کو اپنا سامان باندھ لینے کو کہتا تھا تاکہ اس مقام کو سفر کرسکے جہاں وہ رہتا تھا۔ جب بیویاں اپنا سارا سامان پیاک کرلیتی تو وہ بیوی کو چھوڑ کر سارا سامان لے کر چلتا بنتا تھا۔
نئی جگہ جاکر یہ شخص اپنے ساتھ لایا پچھلی بیوی کا سامان فروخت کرتا اور اسی بازار سے اپنی نئی بیوی کا انتخاب بھی کرلیتا تھا۔
اس دھوکہ باز کے خلاف متعدد شکایات کے باوجود وہ حکام کی گرفت سے بچتا رہا۔
شارون کلاک اس دھوکہ باز کا نشانہ بننے والی ایک خاتون ہیں۔ شارون نے اپنے ساتھ ہونے والے دھوکہ کے بعد دھوکہ باز کو ڈھونڈ نکالنے کا فیصلہ کیا اور بالآخر فلوریڈی میں شاطر دھوکہ باز کو پولیس کے ہاتھوں 28؍ دسمبر 1981 کو پکڑ اکر دم لیا۔
امریکی عدالت میں اس شخص کے خلاف 28؍ مارچ 1983ء تک مقدمہ کی سماعت چلی اور پھر عدالت نے اس شخص کو 34 برس کی قید کی سزاء سنائی Viglitto نے آٹھ برس جیل میں گذارے تھے۔61 برس کی عمر میں اری زونا کی جیل میں برین ہیمرج سے 1991ء میں یہ شخص فوت ہوگیا۔(بحوالہ گنیس بک آف ریکارڈ ڈاٹ کام۔ 5؍ اپریل 2023ء کی رپورٹ)
To this day, nobody is sure of the real name of ‘Giovanni Vigliotto’ – the man who conned women and got married over 100 times. pic.twitter.com/MVFujTws5o
— Guinness World Records (@GWR) April 5, 2023
قارئین ایسی کئی اور مثالیں ہیں جہاں پر غیر مسلم حضرات نے دھوکہ دے کر ایک سے زائد شادیاں کی لیکن کسی بھی واقعہ میں ملوث فرد کے متعلق رپورٹنگ کے دوران میڈیا اس کے مذہب کا ذرا سا بھی ذکر نہیں کرتا اور بات مسلمانوں کی آتی ہے تو مبالغہ آرائی پر اتر آتا ہے۔
جتندر کمار مینا دہلی میں نارتھ ویسٹ کے ڈی سی پی ہیں۔ ان کے مطابق بلیان کی عمر 26 برس ہے۔ مظفر نگر کا یہ نوجوان ایم بی اے کا کامیاب ہے۔ سال 2021 تک یہ گروگام کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ہیومن ریسورس شعبہ میں کام کرتا تھا۔ اس ملازمت سے جب بلیان کو فارغ کردیا گیا تو اس نے اپنا ایک ریسٹورنٹ کھولا لیکن کویڈ کی دوسری لہر میں لگائی گئی پابندیوں کے دوران یہ ریسٹورنٹ بھی بند ہوگیا۔ بلیان کی آمدنی کے ذرائع تو بند ہوگئے تھے لیکن اپنی پر تعیش زندگی کے لیے اس نے میٹرومونی ویب سائٹ کے ذریعہ خواتین کو دھوکہ دے کر پیسے کمانے کا سلسلہ شروع کیا۔ بلیان نے وشال رگھونشی کے فرضی نام کے ساتھ شادی کے لیے ویب سائٹ پر رجسٹریشن کروایا۔ اپنی تنخواہ ساٹھ سے ستر لاکھ بتلاکر اس نے گروگرام کی ہی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرنے والی ایک خاتون کو رشتہ بھیجا۔ جلد ہی دونوںکے درمیان واٹس ایپ نمبرس کا تبادلہ ہوا اور وہ لوگ راست رابطہ میں آگئے۔
بلیان لڑکی کو مرعوب کرنے کے لیے مہنگی پر تعیش کاروں کی تصاویر بھیجنے لگا اور لڑکی سے دریافت کیا کہ وہ کیا مشورہ دے گی اسے کونسی کار خریدنا چاہیے۔ اس دوران بلیان نے رینٹ اے کار کے تحت روزآنہ ڈھائی ہزار کرایہ دے کر ٹاٹا نکسان گاڑی حاصل کر کے لڑکی کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوگیا کہ اس کے پاس پہلے ہی سے گاڑی ہے۔ لیکن اب وہ مزید مہنگی کار خریدنے کا خواہش مند ہے۔ جب بلیان کی دولت سے لڑکی مرعوب ہوگئی تو اس نے لڑکی کو بتلایا کہ اس کے والدین نہیں ہیں بلکہ دادا دادی ہیں جو امریکہ میں رہتے ہیں اور اگر لڑکی چاہے تو وہ سستے میں اس کے رشتہ داروں کو آئی فون منگواکر دے سکتا ہے۔
لڑکی تو پہلے ہی بلیان سے مرعوب ہوچکی تھی۔ سو اس نے اپنے لیے اور اپنے رشتہ داروں کے لیے امریکہ سے سستے فون منگوانے کے لیے بلیان کو تین لاکھ سے زائد کی رقم ٹرانسفر کرتی ہے۔ تین لاکھ روپئے لینے کے بعد بلیان نے لڑکی سے سارے تعلقات ختم کرلیے اور بتلایا کہ اس کا حادثہ ہوگیا ہے اور وہ جئے پور کے ایک دواخانہ میں شریک ہے۔
جب لڑکی کو احساس ہوا کہ بلیان نے اسے دھوکہ دیا ہے تب لڑکی پولیس سے رجوع ہوئی اور بتلایا کہ بلیان کا پروفائل Matrimonial ویب سائٹ پر ابھی تک موجود ہے۔ اب پولیس نے ایک دوسری خاتون کو تربیت دے کر بلیان کے پروفائل میں دلچسپی دکھانے کو کہا جلد ہی بلیان نے اس نئی لڑکی سے رابطہ کرلیا اور اپنے آپ کو امیر کبیر دکھاکر لڑکی سے ملنے کے لیے پہنچا تو وہاں پر دہلی پولیس اس کی منتظر تھی۔ یوں بلیان کی گرفتاری کے ساتھ ایک دھوکہ باز نوجوان کا پردہ فاش ہوگیا۔ (بحوالہ اخبار ہندوستان ٹائمز 14؍ اپریل 2023ء شیوشکتی کی رپورٹ)
پانڈو ساگر کی عمر 54 برس ہے۔ وہ وویک نگر رامنتا پور ، حیدرآباد کا رہنے والا ہے۔ پانڈو ساگر کی پہلی بیوی سے اس کو تین اولادیں ہیں۔ چار برس قبل پانڈو ساگر نے پیرزادی گوڑہ کی رہنے والی ایک دوسری خاتون کے ساتھ شادی کرلی۔ حالیہ عرصے میں پانڈو اپنا زیادہ تر وقت اپنی دوسری بیوی کے ساتھ ہی گزارنے لگا تھا اور اپنی پہلی بیوی کو نظر انداز کرنے لگا تھا۔ ساگر کی پہلی بیوی کا لڑکا پون اپنے باپ کے اس رویے سے سخت ناراض تھا۔
10؍ اپریل 2023ء کو پون اپنے باپ سے ملنے کے لیے جاتا ہے۔ جہاں پر اس کا اپنے باپ کے ساتھ جھگڑا ہوجاتا ہے کہ وہ اس کی ماں یعنی اپنی پہلی بیوی کو نظر انداز کر رہا ہے۔ جھگڑے کے دوران 23سالہ پون غصہ سے اپنے باپ کے سرپر ہتھوڑا مار کر اس کا قتل کردیتا ہے اور راہ فرار اختیار کرلیتا ہے۔
11؍ اپریل کو پولیس نے پون کو گرفتار کر کے قتل کا مقدمہ درج کرلیتی ہے۔ (بحوالہ اخبار ٹائمز آف انڈیا۔ 12؍ اپریل 2023ء کی رپورٹ)
یہ صرف اکا دکا واقعات نہیں بلکہ میڈیا میں ایسی رپورٹیں آئے دن شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ابھی 15؍ اپریل 2023ء کو ہندی کے اخبار دینک بھاسکر نے پانی پت، ہریانہ سے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کیے مطابق ہریانہ کے ضلع چند کی رہنے والی خاتون کی بارہ برس قبل شادی روی کمار کے ساتھ ہوئی۔ ان کو اس دوران تین لڑکیاں پیدا ہوگئیں۔ لڑکیوں کی پیدائش پر پانی پت کی اس خاتون کو سسرال میں ہراساں کیا جانے لگا۔ پھر سال 2022ء میں روی کمار کی پہلی بیوی کو ایک فوٹو ملی جس سے پتہ چلا کہ روی کمار نے پرینکا نامی ایک اور لڑکی کے ساتھ رجسٹرڈ میارج کی ہے۔ سسرال والوں سے پوچھنے پر انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں ہمارے بیٹے نے دوسری شادی کرلی ہے۔ ساتھ ہی روی کمار کے گھر والوں نے پہلی بیوی پر شرط لاگو کی کہ اب اگر اس کو روی کے ساتھ رہنا ہے تو ایک کار اور دو لاکھ روپئے دینا ہوگا۔ لڑائی جھگڑے کے دوران روی کمار نے اپنی پہلی بیوی کو مبینہ طور پر پھانسی دینے کی بھی کوشش کی اور یوں معاملہ پولیس کے ہاں پہنچ گیا۔
قارئین کرام یہ تو صرف پچھلے دس پندرہ دنوں کے دوران شائع ہونے والی وہ خبریں ہیں جو ہماری نظروں سے گذری۔ اگر اس موضوع پر باضابطہ تحقیق کی جائے تو اور بھی صورت حال واضح ہوسکتی ہے کہ ایک سے زائد شادیوں کے لیے مسلمان تو صرف بدنام ہیں۔ ورنہ بہت سارے غیر مسلم ہیں جو چوری چھپے دوسری شادیاں بھی کر رہے ہیں اور خاموشی سے زندگی گذار رہے ہیں۔ ہاں صرف چند ایک غیر مسلم خبروں میں بھی آرہے ہیں جن کی دوسری شادیاں مسائل میں گھر گئی یا مسائل پیدا ہونے کا سبب بن گئی ہیں۔
مسلمان صورت حال کا سامنا کس طرح کریں؟
میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کریں۔ باصلاحیت، ہنرمند ذہن مسلم نوجوانوں کو تربیت دیں۔ زیور تعلیم سے آراستہ کریں اور میدان صحافت کے لیے تیار کریں۔ جن لوگوں نے میڈیا کو صحیح نہیں سمجھا ہے وہ بھی اپنی کم علمی کو دور کرلیں کہ میڈیا میں مسلم نوجوانوں کے آگے آنے کا مطلب ہر خبر کو مسلمانوں کے زاویہ سے یا اسلامی زاویہ سے پیش کرنا ہرگز نہیں۔ خبر ایک امانت ہے اس کو جوں کا توں، جیسے کے ویسے من و عن قارئین تک بالکلیہ غیر جانبداری کے ساتھ پہنچانا ہے۔ امانت داری کا یہ کام ایک مسلمان بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے۔ اگر مسلمان خبروں کو کلمہ پڑھانے لگ جائے گا تو دیگر مذاہب والے بھی خبروں کو پیش کرتے وقت خبروں پر اپنا رنگ چڑھانے لگیں گے۔ ایسے میں خبر خبر نہیں رہے گی۔ کاش کے کوئی سمجھائے میڈیا ایک پروفیشن ہے اور اس کو درپیش چیالنجس کا سامنا پروفیشنل طریقے سے ہی ممکن ہے۔
ساتھ ہی مسلمانوں کی بگڑی ہوئی شبیہہ کو درست کرنے منصوبہ بند انداز میں میڈیا کے ہر پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو میڈیا کی اہمیت سمجھنے اور اس کا مثبت استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین۔ یارب العالمین)




