سیاسی و مذہبی مضامین

دینی تعلیم کاحصول وقت کی بنیادی ضرورت

ہر مسلمان مرد و عورت پرعلم دین سیکھنا فرض ہے -

دینی تعلیم کاحصول وقت کی بنیادی ضرورت

تحریر محمدمدثرحسین اشرفی پورنوی,خطیب وامام رضائے مصطفٰے مسجدگیورائی ضلع بیڑ مہاراشٹرا

 تمام ادیان میں دین اسلام ہی وہ واحددین ہے جواللہ تعالٰی کو محبوب اور پسندیدہ ہے،  جیسا کہ رب تعالٰی کاارشادمقدس ہے:اِنَّ الدّینَ عِندَاللہِ الاِسلَام (پ۳سورہ اٰل عمران)

ترجمہ: بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے -(کنزالایمان)

دین اسلام اپنے ماننے والوں کوزندگی کے ہرموڑ پر کامیابی کے راستے پر چلنے کی تلقین کرتا ہے، بندوں پر رب تعالٰی کے بے شمار احسانات ہیں، اس نے اپنے بندوں کو اتنی کثیر نعمتیں عطا کی ہیں جسے شمار کرنا انسان کے بس کی بات نہیں -چنانچہ اللہ تعالٰی کافرمان ہے:

وَاِن تَعُدُّونِعمَتَ اللّٰہِ لَاتُحصُوھَا (پ ۱۳ سورہ ابراھیم)

ترجمہ: اور اگر اللّٰہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے – (کنزالایمان)

آمدم برسر مطلب! وہ مشہور حدیث شریف آپ جانتے ہی ہوں گے یا پھر کسی عالم دین سے ضرور سنے ہوں گے کہ رسول اللّہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم  نے ارشادفرمایا "طَلَب العِلمِ فَرِیضَةٌ عَلٰی کُلّ مُسلِمٍ وَمُسلِمَہ "

ترجمہ: ہر مسلمان مرد و عورت پرعلم دین سیکھنا فرض ہے –

تمام عبادتوں میں سب سے اہم عبادت "نماز "ہے جس کی پابندی کرنے والا برائیوں سے دورہوجاتاہے -قرآن عظیم میں ہے : اِنّ‌َالصَّلٰوةَ تَنھٰی عَنِ الفَحشَآءِ وَالمُنکَر (پ ۲۱سورہ عنکبوت)

ترجمہ: بیشک نمازمنع کرتی ہے بے حیائی اوربری بات سے – (کنزالایمان)

اس آیت کی تفسیرمیں صدرالافاضل حضرت مولانا نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ "خزائن العرفان "میں فرماتے ہیں:

جو شخص نماز کا پابند ہوتا ہے اوراس کواچھی طرح اداکرتاہے نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ایک نہ ایک دن وہ ان برائیوں کو ترک کردیتا ہے جن میں مبتلا تھا -حضرت انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری جوان سیدعالم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا اور بہت سے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتا تھا، حضور سے اس کی شکایت کی گئی فرمایا: اس کی نماز کسی روز اس کو ان باتوں سے روک دےگی چنانچہ بہت ہی قریب زمانہ میں اس نے توبہ کی اور اس کا حال بہتر ہوگیا -حضرت حسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جس کی نماز اس کو بے حیائی اور ممنوعات نہ روکے وہ نماز ہی نہیں – 

 نمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ نمازکےمسائل سے کامل واقف ہو، نماز کے فرائض، شرائط، واجبات، سنتیں ان چیزوں کا جاننا ازحد ضروری ہے، وہی نماز مقبول بارگاہ الٰہی ہوگی جس میں شریعت کی مکمل پاسداری کی گئی ہو -ورنہ بہرے والا قصہ ہوجائے گا جسے مولانارومی  نے اپنی کتاب "مثنوی شریف "میں بیان کیاہے –

مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ایک بہرہ تھا -اس کا پڑوسی بیمار ہوگیا تو بہرے نے سوچا کہ پڑوسی کی بیمارپرسی کے لئے جاناچاہئے -مگرکیا کروں -میں بہرہ ہوں اور وہ بیمار ہے -بیماری کی وجہ سے وہ کمزور آواز میں بولےگا اور میں سن نہ سکوں گا -میں پوچھوں گا تو خدا جانے وہ کیاجواب دےگا -پھر اس نے دل میں خودہی کچھ سوال وجواب گھڑلیے اور سوچا کہ میں کچھ پوچھوں گا تو اس کے لب ہلیں گے تو میں خود ہی اپنی فراست سے بطور قیاس سمجھ لوں گا کہ اس نے یہ بات کہی ہے –

چنانچہ اس نے پہلا سوال وجواب یہ سوچا کہ میں سب سے پہلے اس سے پوچھوں گا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو وہ ضرور کہے گا کہ میں اچھا ہوں اور نسبتاً آرام ہے -کیونکہ عموماً یونہی کہا جاتا ہے -میں کہہ دوں گا -الحمدللہ -پھر میں پوچھوں گا، کہ علاج کس کا جاری ہے؟ تو وہ اچھے طبیب ہی کانام لےگا –

میں کہہ دوں گا بڑا اچھا طبیب ہے -اس کا علاج نہ چھوڑنا -پھر میں پوچھوں گا غذا کیا ہے؟ تو وہ کسی نرم غذاہی کا ذکر کرے گا -تو میں کہہ دوں گا -بڑی اچھی غذا ہے -اسی کا استعمال جاری رکھنا –

چنانچہ وہ بہرا اس بیمارپڑوسی کے پاس پہنچا اور بیمار سے پوچھا فرمائیے کیا حال ہے؟ بیماربولا "-مررہاہوں "- بہرابولا -الحمدللہ! یہ سن کربیمارکوبڑاغصہ آیا کہ یہ میرادشمن کہاں سے آگیا جومیری تکلیف پر الحمدللہ کہہ رہاہے – بہرے نے پھر پوچھا کہ خوراک کیا ہے؟ بیماربولا- "خوراک میری زہرہے – "بہرا بولا -بڑی اچھی غذا ہے -یہی چیز کھایا کرو -اسے مت چھوڑنا -اب توبیماراوربھی غصہ میں آگیا -بہرے نے پھرپوچھا  -کہ طبیب کونسا ہے جو تمہارا علاج کرنے کے لئے آتا ہے؟ بیمار نےجواب دیا -طبیب میرا حضرت عزرائیل علیہ السلام یعنی ملک الموت ہے -بہرہ بولا -مبارک ہو -یہ بڑا اچھا طبیب ہے -اس کا علاج نہ چھوڑنا  – 

 یہ کہہ کر بہرہ یہ سوچ کرگھرواپس آگیا کہ میں اپنے پڑوس بیمارکوخوش کرکے آیاہوں -حالانکہ وہ بیمارکوناخوش کرکے آیاتھا –

میرے بھائیو! اسی طرح جب کہ غافل مسلمان مسجدمیں آتا تو نماز پڑھنے کے لئے، رب تعالٰی کوراضی کرنے کے لئے  -مگر غلط سلط نماز پڑھ کر الٹا خدا کو ناراض کرکے مسجدسے نکلتاہے -بھائیو نماز کی پابندی ضرور کیجئے،  اورساتھ ساتھ نماز کے مسائل بھی یاد کرلیجئے اس سے آپ کی نماز صحیح ادا ہوگی –

متعلقہ خبریں

Back to top button