سیاسی و مذہبی مضامین

سرکار اور سرکاری منصب✍️ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان، ممبئی

1948 میں ملک تقسیم ہوا انگریز ملک چھوڑ کر چلے گئے، تاہم نظام حکومت وہی پیچھے چھوڑ گئے، برطانوی سامراج میں قائم نظام آج بھی اسی طرح ملک میں رائج ہیں، بصورت دیگر ملک آج بھی برطانوی طرز حکومت پر گامزن ہے، حکومت و اقتدار میں مسلسل بنے رہنے کے لئے انگریز "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو” اسی ضابطہ کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کرتے تھے۔

بھارت میں آئین کی تشکیل ڈاکٹر بابا صاحب امیڈکر کی سربراہی میں مکمل ہوئی، آئین کی خصوصیات یہ ہیں ہر شہری ملک میں یکساں حقوق رکھتا ہے، قانون کے روبرو ہر شہری برابری کے حقوق کا مصداق و حامل ہے، کسی فرد کو دوسرے فرد پر قانون کی رو سے کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے، رنگ ونسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں۔

ہر مزہب کا پیروکار اپنے طور پر بجا، بشرط یہ کہ اسے عطا کردہ آئینی حقوق کے حدود میں رہ کر اپنے مزہبی امور ادا کریں، ہر فرد کو کسی دوسرے فرد کے مزہبی امور میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں اسے قانونی طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے، بہر کیف آئین کے بانی و روح رواں تاہم اس وقت کے تمام اراکین اسمبلی اب دنیا میں موجود نہیں ہے۔

چند دہائیوں پر مشتمل آئین کا سنہری دور نیز کب کا اختتام پذیر ہو چکا، ١٩٨٤ میں انجہانی اندراگاندھی کو قتل کر دیا گیا انہیں کے محافظوں نے گولیوں سے انہیں چھلنی کر دیا، جس کے بعد سکھ مذہب کے ماننے والوں پر جو آفات و حالات گذرے وہ تاریخ میں رقم ہے دہلی میں خونی فسادات نے سیکڑوں بے گناہ سکھوں کو لقمہ اجل بنا دیا، جس کے زخم آج بھی دلوں میں قائم ہے۔

نفرت کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کا انعقاد کیا گیا، بی جے پی، سیو سینا، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد وغیرہ وغیرہ، آر ایس ایس کی سربراہی و پست پناہی پروان چڑھتے رہے، نیز اب بھی ان پر آر ایس ایس کاسایہ ہے، یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے دہانیاں صرف کی اکثریت فرقہ کی ذہین سازی کرنے پر اسی اثناء ١٩٩٢ میں بابری مسجد شہید کر دی گئی۔

جس نے آئین و دستور کے قلب پر کاری ضرب لگائی، آئین کے قلب پر سیاہ داغ مرتب ہو کر رہ گیا، ملک میں فسادات برپا ہوۓ جس میں ممبئی فسادات نے ہولناک شکل اختیار کرلی کروڑوں روپے کی مالیت کے املاک تباہ کر دیے گئے ہزاروں کے تعداد میں مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا، یک کے بعد دیگر ملک میں آئین شکنی کے متعدد واقعات رونما ہوتے چلے گئے۔

اس سے ملک میں منافرت کی فضاء کو تقویت ملتی چلی گئی، ٢٠٠٢ میں گجرات فسادات کا مرکز بنا جو تقسیم ہند کے وقت ہونے والے فسادات سے زیادہ ہولناک تھا، حال ہی میں دہلی بھی فساد کے زرد میں آچکا تھا، فسادات کا لامتناہی سلسلہ ملک میں ہمیشہ سے جاری رہا، آئین و دستور اپنے ہی شہریوں کو انصاف دلانے حتیٰ کہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

تقسیم ہند کے بعد چند دہائیوں پر مشتمل آئینی سفر اب اپنے آخری مراحل میں اپنی حالت غنودگی میں پہونچ چکا، آئین کی روح کبھی بھی کسی وقت بھی پرواز کر سکتی ہے اس میں حیران کن بات کچھ نہیں ہے۔ملک میں دوبارہ سے وہی صورتحال قائم کی جا رہی ہیں، جو تقسیم ہند کے وقت تھی گزشتہ آٹھ سال سے ملک کی فضاء کو بھگوا تنظیموں نے انتہائی زہر آلودہ کردیا، ملک کے وزیراعظم کی سیاست معاشرے میں نفرت و تفرقہ برپا کرکے حکومت میں بنے رہنے کی رہی ہے، جو انگریزوں کی وراثت ہے۔

موصوف کی سیاسی زندگی تخریب کار عناصر سے لبریز نظر آتی ہے، کسی صورت حکومت میں بنے رہنا آپ کی ترجیح اول ہے، اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہندوؤں کو اس بات کا یقین دلانا اشد ضروری تھا کہ ہندوؤں کا وجود خطرے میں ہے مسلمان اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

اس جھوٹ نیز باطل حربوں کو تواتر سے حسب ضرورت اکثریتی طبقہ میں پیوست کیا گیا، اپنے اغراض ومقاصد کے حصول کی خاطر ملک میں بسے مسلمانوں پر مظالم کا آغاز بتدریج حکومتی سطح پر حکومت کی سرپرستی میں کیا جانے لگا، ہجومی تشدد میں سیکڑوں مسلمانوں کو قتل یا زخمی کیا گیا، مسلم مخالف قانون سازی کی جانے لگی جس سے اقلیتی طبقہ میں حد درجہ تشویش رونما ہوتی چلی گئی۔

ایسے حربے استعمال کرتے ہوئے جناب گجرات کے وزیر اعلیٰ سے ملک کے وزیر اعظم تک رسائی کر گئے، بنگال میں جیوتی باسو بطور وزیر اعلیٰ ٣٤ سال رہے، اس کے بعد یہی وہ شخص ہیں جو گزشتہ ٢٣ سال سے مسلسل حکومت میں بنا ہوا ہے نیز آج آئین کے سب سے اعلیٰ عہدے و مقام پر فائز ہیں، تاہم جس آئین ودستور کی حلف برداری سے جو مقام و رتبہ میسر ہوا اس کی پاسداری حضرت نہ کرسکے مزید اسی آئین کا قلع قمع کرنے کی پہ در پہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جس نے انہیں سہارا دیا اسی کو حضرت نے بے وفائی سے برباد کر دیا، موصوف کے سیاسی استاد ایل کے اڈوانی کی مثال ملک و دنیا نے دیکھی کس طرح شاگرد نے استاد کی پیٹ میں چھرا پیوست کرکے اپنے مفاد کو ترجیح دی۔ حضرت کی رگوں میں دوڑتے خون میں وفا پرستی دیانتداری، ایمانداری، محبت و اخلاص کا کہی گزر نہیں جو استاد کے ساتھ رؤیا تھا۔

وہی ملک کے آئین کے ساتھ بھی رواں دواں ہے آئین شکنی پر مرتب سیاسی سفر آپ کا رہا مزید یہ سفر اب بھی اپنی بھر پور توانائی کے ساتھ جاری و ساری ہے جو حشر استاد کا ہوا وہی کچھ ملک کے آئین و دستور کا بھی ہونا تقریباً طے ہے۔

سرکاری اداروں میں ملازمت کرنے والا سرکاری منصب پر فائز ہو کر کرتا وہی کچھ ہے جو آر ایس ایس کے فرمان ہوتے ہیں، سیاسی حکمران سرکاری اداروں میں تعینات ملازم سے وہی کچھ کرارہے ہیں جس کا راستہ ہندوتوا کی سمت جاتاہے، اعلیٰ اور انتہائی اہم سرکاری منصب پر فائز اراکین ملک کے بقاء کو خطرہ بنتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

پولس اہلکار معصوم بے گناہ افراد پر پرچھی کانٹتے ہوے انہیں فرضی مقدمات میں ملوث کرکے جیل بھیج رہے ہیں، عدالتیں خاموشی سے آئین شکنی پر اتر آئی ہیں، کوئی سماعت نہیں کوئی عدل نہیں، حال ہی میں شری راج ٹھاکرے نے اپنی شعلہ بیانی سے پھر مسلمانوں کو نشانہ بنایا، انہیں مساجد پر اذان کے لئے استعمال ہونے والے لاؤڈ اسپیکر پر اعتراض ہے۔

اشتعال برپا کرنے کے لئے چند غیر مہزیب فقرے ہی کافی ہوتے ہیں، ہنومان چالیساں ان کے مطابق ہر مسجد کے سامنے زور وشور سے بجایا جاۓ گا، اس اعلان کا مکافات عمل ملک کے کہی صوبوں میں نظر آیا، مدھیہ پردیش میں کھرگون میں تشدد پر آمادہ تخریب کاروں نے‌مساجد کی بے حرمتی پولس و انتظامیہ کے ر برو کی کسی قسم کا کوئی معاملہ پولس نے درج نہیں کیا۔

تاہم حکومت نے مسجد و اس اطراف میں بسے مسلم گھروں پر بلڈوذر چلا کر رہایش گاہ کو منہدم کر دیا، متعدد افراد گھر سے بے گھر کر دیے گئے، وفاقی حکومت خاموش، عدالتیں روپوش، کوئی پرسانِ حال نہیں ان بے حال مسلمانوں کا، ایسے بشمار واقعات ملک کے الگ الگ صوبوں میں روزآنہ کا معمول بن چکے ہیں۔

پولیس و عدالتی ادارے کسی قسم کی کوئی قانونی نوٹس لینے سے گریز کررہے ہیں، کرناٹک، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش کے بہت سے اضلاع میں رام نومی کے جلوس میں شامل لوگوں نے مسجدوں میں بلجبر بھگوا پرچم لہرایا، مزید ایک بھگوا پراہین زیب تن کیے ہوئے مسجد کے سامنے ہجوم کے روبرو سرعام اسے نازیبا کلمات کہتے ہوئے پایا گیا اخلاق سے گیرا ہوا درندہ گویا کی انسانی شکل میں نمودار ہوکر کہ رہا تھا مسلم خواتین کی سرعام عصمت دری کی جاے گی۔

اس طرح کی تہذیب و کلچر کو فروغ دینا اب یہی کچھ باقی رہ گیا ہے، خواتین کی عفت و عظمت ہر مزہب کا حصہ ہے، یہ کونسا ہندوتوا ہے جس میں خواتین کی عظمت کو ذاعدار کرنے کا سبق دیا جارہا ہے دھشت زدہ ماحول میں ہر شہری زندگی بسر کررہا ہے۔

سرکاری منصب پر فائز سرکاری عہدے دار اب عوام کے فلاح وبہبود کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ایسے سیاسی جماعت کے حکم پر آمادہ ہیں جن کو ملک کے دستور سے کوئی تعلق نہیں، وہ دن دور نہیں جب ملک سے آئین و دستور کو لپیٹ دیا جائے گا، دوبارہ ملک اسی صورتحال سے گزرے گا جو تقسیمِ ہند کے وقت تھی۔
وماعالینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button