نئی دہلی ، 16 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آل انڈیا مجلس اتحاد ا لمسلمین کے سربراہ و رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے گیان واپی مسجد معاملے میں اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔اویسی نے کہا کہ گیان واپی مسجد تھی اور ان شاء اللہ قیامت تک گیان واپی مسجد رہے گی۔انہوں نے کہا کہ جب وہ 20-21 سال کے تھے ،تو بابری مسجد چھین لی گئی تھی، لیکن اب دوبارہ 20-21 سال کے بچوں کے سامنے گیان واپی مسجد کو نہیں کھونے دیں گے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ یہ عہد بھی کریں کہ وہ کبھی کسی مسجد کو کھونے نہیں دیں گے۔
اسی دوران وشو ہندو پریشد کے لیڈر ونود بنسل نے اویسی کے بیان پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ سروے سے پہلے وہ اس کی مخالفت کررہے تھے اور رکاوٹیں ڈال رہے تھے، اب جب ساری حقیقت سامنے آ گئی ہے تو پھر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اویسی اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، اس کا کیا فائدہ؟انہوں نے کہا کہ اویسی ایک رکن پارلیمنٹ ہیں اور وہ خود کو وکیل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس کے باوجود وہ اس طرح مسلمانوں کومبینہ طور پر اُکسانے کا کام کر رہے ہیں۔
انہیں ملک کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہئے کہ وہ ہندو سماج کے عقیدے کو ٹھیس پہنچانے کا کام کر رہے تھے۔ اس کے بجائے وہ مسلمانوں کو اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ ہندو فریق نے گیان واپی مسجد کے وضو خانے کے تراشیدہ پتھر کو ’شیولینگ ‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا ہے ،اور عدالت میں جاکر اس کے خلاف کاروائی کرنے اور اسے سیل کرنے کی عرضی دی تھی ، جس پر وارانسی عدالت نے وضوخانے کو سیل کرنے کا حکم دیا ہے ، وہیں مسلم فریق اور مسجد انتظامیہ کمیٹی نے اس حکم کے خلاف کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے ۔



