بلند شہر:ہنومان مندر کے احاطے میں نماز ادا کرنے کی ویڈیو وائرل، تین افراد کے خلاف مقدمہ درج
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہنگامہ، مندر احاطے میں نماز پڑھنے پر مقدمہ درج
بلند شہر، 04 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش کے ضلع بلند شہر کے اورنگ آباد تھانہ علاقے کے اولینا گاؤں میں ہنومان مندر کے احاطے میں نماز ادا کرنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی سطح پر ناراضی کا اظہار کیا گیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان برقرار ہے اور معاملے کی جانچ جاری ہے۔
پولیس کے مطابق اولینا گاؤں کے رہائشی راج کمار کے زیر تعمیر مکان پر پڑوسی گاؤں زہرہ کے کچھ مستری کام کر رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ دوپہر کے وقت کھانے کے وقفے کے دوران بعض مزدور وہاں سے چلے گئے، جبکہ مستری یاسر محمد زیر تعمیر مکان کے سامنے واقع ہنومان مندر کے احاطے میں چلے گئے۔
اطلاعات کے مطابق اس دوران ہلکی بارش شروع ہو گئی تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ راج کمار کے کہنے پر یاسر محمد نے مندر کے احاطے میں نماز ادا کی۔ اس وقت ان کے ساتھی نذیر محمد بھی وہاں موجود تھے۔
واقعے کے دوران کسی شخص نے ویڈیو بنا لی اور اسے سوشل میڈیا پر نشر کر دیا۔ ویڈیو کے پھیلنے کے بعد گاؤں کے بعض افراد نے اعتراض ظاہر کیا جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔
اطلاع ملتے ہی اورنگ آباد تھانے کے انچارج محمد اسلم پولیس اہلکاروں کے ساتھ موقع پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس نے یاسر محمد کو حراست میں لیا اور بعد ازاں یاسر محمد، نذیر محمد اور راج کمار کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
تھانہ انچارج محمد اسلم نے بتایا کہ یہ واقعہ 31 مئی کو پیش آیا تھا۔ ان کے مطابق ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ کارکنوں نے وہاں نماز ادا کی تھی جس پر دوسری برادری کے بعض افراد نے ناراضی ظاہر کی۔ پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
#बुलंदशहर– हनुमान मंदिर परिसर में नमाज पढ़ने का वीडियो हुआ वायरल।
मंदिर के पड़ोस में बने मकान में निर्माण कार्य करने वाले मजदूरों ने नमाज के समय मंदिर परिसर में नमाज पढ़ी।
ग्रामीणों ने किया हंगामा, पुलिस ने भी माहौल खराब करने वाले को जमकर कुटा, एफआईआर भी की दर्ज।
थाना औरंगाबाद… pic.twitter.com/2dqYUWbdkg
— Prashant Kumar Journalist (@prashan02367402) June 4, 2026
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گاؤں میں صورتحال معمول کے مطابق ہے، امن و امان برقرار ہے اور معاملے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش کی جا رہی ہے۔



