بہترین خطیب اور پرجوش مبلغ اسلام جن کی زبان میں زور اور عذوبت کاحسین امتزاج تھا۔حضرت برزہ رضی اللہ عنہا نہایت عظیم المرتبت صحابیہ تھیں۔ حضرت مسعودبن عمروثقفی کی صاحبزدی تھیں۔ ان کے کارناموں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ طبقات ابن سعداور سیرت ابن ہشام میں ان کے حالات ملتے ہیں جوانہتائی سبق آموز ہیں اور جن سےمعلوم ہوتاہے کہ یہ خاتون صبرواستقلال اور عزیمت واستقامت کی ایک عظیم الشان مثال تھیں، جو بیک وقت بہادر و جری بھی تھیں اور عابدہ و زاہدہ بھی، بلاغت وفصاحت میں بھی بہت آگے تھیں اور عزم وہمت میں بھی۔
ان خوش بخت اور رفیع المنزلت افراد میں سے تھیں جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کے حضور قبول اسلام کا شرف حاصل کیا اور آپ سے بیعت کی سعادت عظمی سے بہرہ درہوئے۔ کردار کی پاکیزگی اور خدمت خلق کی بناء پر حضرت برزہ خاص شہرت کی حامل تھیں۔ حدیث رسول کی روایہ اور متعدد مشاہیر کی استاد تھیں۔
ان کے سامنے بعض حضرات نے زانوئے شاگردی تہہ کیا ور سرورکائنات ﷺ کی احادیث کے سماع کیدولت سے مالامال ہوئے۔ ان کی زبان میں زور اورعذوبت دونوں کا حسین امتزاج پایا جاتاتھا۔ بہترین خطیب اور پرجوش مبلغ اسلام تھیں۔ تحمل اوربردباری ان کے وہ جوہران میں پائے جاتے تھے جو کم لوگوں کے حصے میں آتے ہیں۔
حضرت برزہ بنت مسعودثقفی ؓ نے سیرت ابن ہشام کی روایت کے ماطبق جنگ احد میں بھی شرکت کی۔ یہ جنگ 3ہجری میں لڑی گئی تھی اور اس میں مسلمانوں سے ایک جنگی لغزش ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں گھبراہٹ کے آثار پیدا ہوگئے تھے اوریکایک جنگ کا نقشہ کچھ اس طرح بدل گیا تھا کہ مسلمانوں کااس میں ثابت قدم رہنا مشکل ہوگیا تھا۔
اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جن حضرات نے اثبات واستقامت کا ثبوت دیا، ان میں حضرت برزہ کا اسم گرامی بھی شامل ہے۔ یہ خاتون اس درجہ بلند ہمت اورعزم وارادے کی مالک تھیں کہ انتہائی خوفناک اور شدیدتکلیفدہ حالات میں بھی میدان جنگ میں ڈٹی رہیں۔
جب مسلمانوں میں ہزیمت کے آثار دکھائی دینے لگے تو یہ بہادرخاتون ایک کنارے پرکھڑی تھیں اور ایک اونچے مقام سے تمام معاملات کوبناظرغائر دیکھ رہی تھیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو پکارا اور بلندآواز کہنا شروع کیا۔
مسلمانو! کہاں جارہے ہو؟ میدان جنگ سے بھاگنے کی کوشش کرنا اسلام کے منافی اوربہادری کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ یہ دیکھوتماہرے پیغمبر بدستور میدان میں موجودہیں اوران پر تیروں کی بوچھارہورہی ہے لیکن رسول اکرم ہر صورت میں حالات کامقابلہ کریں گے۔ تم عجیب مسلمان ہو کہ اپنے پیغمبر کوچھوڑ کربھاگنے کی کوشش کررہے ہو۔
ہرحال میں استقامت کا ثبوت دو، اپنی گردنیں کٹادو، جان کی بازی لگادو، کفر کی طاقت کے ساتھ پوری طاقت سے ٹکراجائو، اپنے پیغمبر کی حفاظت کرو۔ میدان سے بھاگ جانا بہادروں کا شیورہ اور سچے لوگوں کاکام نہیں۔ اگرتم اپنی بات میں صادق ہو، تمہارامذہب سچائیوں کا جامع ہے، تم اللہ کے پرستارہواورصدق دل سے محمد ﷺ کی نبوت ورسالت کا اقرارکرتے ہوتومیدان میں ڈٹے رہو اورجواں مردی سے دشمن کے تیروتفنگ کامقابلہ کرو، کسی نوع کی کم ہمتی اور کمزوری کا اظہارتمہاری توہین ہے-
بہادر بھاگنے کے نام سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ ان کے مسقبتل کے فیصلے میدان جنگ ہی کرتاہے۔ تماہرے آباء واجداد کی عمریں دشمن سے تصادم اورلڑائیوں میں گزرگئیں، آج تم یہاں سے پیٹھ دکھا کر ان کے نام کو بھی بٹالگارہے ہو اوراپنے جذبہ اسلامیت کی بھی اہانت کے درپے ہو۔
ٹھہرئو! اپنے مسقتبل کا فیصلہ یہیں کرو۔ تعجب ہے عورتیں توتیروں کی چھائوں میں کھرٹی ہیں اور مردوں پرشکست کے آثارنمایاں ہیں۔حضرت برزہ ؓ نے جنگ احد میں انہتائی قابل خدمات انجام دیں۔ یہ زخإیوں کی مرہم پٹی بھی کرتی تھیں، مجاہدین کو پانی بھی پلاتی تھیں اور دشمن سے مقابلے کے لئے انھیں اسلحہ بھی فراہم کرتی تھیں۔
جنگ سےواپسی کے بعدانھوں نے ایک نہایت اہم خدمت یہ انجام دی کہ شہدائ احد کے گھروں میں جاکر ان کے اہل وعیال کوتسلی دی اور شہادت کے فضائل بیان کئے اور یہ بتایا کہ مسلمان کا اصل کام جہاد ہے۔ جو شخص جہاد سےگریزاں ہے، مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں۔
اسلام کی تعلیم میں جہاد کو جو اہمیت حاصل ہے وہ اور کسی عبادت کوحاصل نہیں۔انھوں نے کہا کہ جہاد کی متعددنوعیتیں ہیں، جن میں بنیادی نوعیت مدیان جنگ میں جانا اورشمشیربکف ہوکر دشمن سے برسرپیکارہونا ہے۔
اگرکوئی شخص اس اثناء میں درجہ شہادت پرفائز ہوجانے کا شرف حاصل کرلیتا ہے تو وہ انتہائی خوش نصیب ہے، ان کی اس انداز کی تسلی اور اس اسلوب گفتگو نے شہداء کے ورثاء کوانتہائی متاثر کیا اور ان کے افسوس وحزن کے آثار دورہوگئے۔



