سرورققومی خبریں

حجاب پر پابندی برقرار، کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا -حجاب پہننا اسلام کا لازمی جزء نہیں

بنگلور،15؍مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب کے سلسلے میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب پہننا اسلام کا لازمی جز نہیں ہے۔ نیز عدالت نے حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا ہے۔ ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’طلبہ یونیفارم پہننے سے انکار نہیں کر سکتے‘۔نیزہائی کورٹ نے مسلم لڑکیوں کی رٹ پٹیشن کو خارج کر دیا، جس میں طالبات نے کالجوں میں حجاب پہننے کی اجازت طلب کی تھی۔

عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ’’حجاب پہننا کوئی لازمی مذہبی عمل نہیں ہے‘‘۔ایک درجن مسلم طلباء سمیت دیگر درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا تھا کہ حجاب پہننا ایک بنیادی حق ہے جس کی ضمانت آئین ہند اور اسلام کے لازمی عمل کے تحت دی گئی ہے۔ سماعت کے 11 دن بعد ہائی کورٹ نے 25 فروری کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت کے حکم کی خلاف ورزی پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جانا چاہیے۔

ہائی کورٹ کی فل بنچ نے گزشتہ ماہ اس معاملے کی سماعت مکمل کی تھی۔ فل بنچ میں چیف جسٹس رتوراج اوستھی، جسٹس جے ایم کھاجی اور جسٹس کرشنا ایم ڈکشٹ شامل ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران کرناٹک حکومت کی جانب سے عدالت میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ حجاب ضروری مذہبی عمل نہیں ہے اور مذہبی ہدایات کو تعلیمی اداروں کے باہر رکھا جانا چاہیے۔

ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگا نوادگی نے حجاب معاملے کی سماعت کرنے والی کرناٹک ہائی کورٹ کی فل بنچ کو بتایاکہ ہمارا موقف ہے کہ حجاب ضروری مذہبی روایت نہیں ہے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے دستور ساز اسمبلی میں کہا تھا کہ ہمیں اپنی مذہبی ہدایات کو تعلیمی اداروں سے باہر رکھنا چاہیے۔5 فروری کو کرناٹک حکومت نے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی لگا دی تھی۔

اس کے خلاف کرناٹک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اس کے بعد یہ معاملہ ہائی کورٹ پہنچا جہاں 10 فروری کو عدالت نے تعلیمی اداروں میں ہر قسم کے مذہبی ملبوسات پر عارضی پابندی لگا دی تھی۔ اس کے بعد ریاست کے کئی حصوں میں حجاب پہننے والی طالبات اور اساتذہ کو اسکولوں اور کالجوں میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کے’ فیصلہ‘ کے بعد کالج امتحان کا بائیکاٹ، طالبات امتحان ہال سے ہوئیں باہر

کرناٹک ہائی کورٹ کے نام نہاد ’فیصلے ‘کے بعد ریاست کے ایک کالج کی طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کیا ہے ۔ ہائی کورٹ کے مطابق حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے، نیز اسکول یونیفارم پہننے لازمی ہے ، کے خلاف طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کیا ہے ۔ یہ واقعہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد منظر عام پر آیا۔

خبر کے مطابق کرناٹک کے یادگیر کے سورا پورہ تعلقہ میں واقع کیمباوی گورنمنٹ کالج کی طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے امتحان ہال سے باہر آگئیں ۔ یہ لڑکیاں حجاب پہن کر کالج میں امتحان میں شریک ہوئی تھیں۔ امتحان منگل کی صبح 10 بجے شروع ہوا تھا۔خبر میں کہا گیا ہے کہ کالج کی پرنسپل شکنتلا نے ان طالبات کو کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرنے کو کہا، لیکن وہ نہیں مانیں اور امتحان گاہ سے باہر آگئیں۔

پرنسپل کے مطابق تقریباً 35 طالبات نے امتحان کا بائیکاٹ کیا ہے۔ مذکورہ طالبات نے کہا ہے کہ وہ اپنے والدین سے بات چیت کے بعد فیصلہ کریں گی کہ آیا وہ بغیر حجاب کے کلاس میں جائیں گی یا نہیں۔ایک طالبہ نے یہ بھی کہا کہ ہم حجاب پہن کر امتحان دیں گے اور اگر اسے ہٹانے کو کہا گیا توپھر ہم بصورت دیگر امتحان کا بائیکاٹ کریں گے ۔

کرناٹک ہائی کورٹ کی تین رکنی بنچ نے منگل کو حجاب کیس میں ایک اہم فیصلہ سنایا۔ بنچ کے مطابق حجاب پہننا اسلام کے لازمی اصولوں میں سے نہیں ہے ، یونیفارم کا استعمال لازمی ہے ، اور طالبات اس کی مخالفت نہیں کر سکتیں۔حجاب کا تنازع گزشتہ ماہ مزید گہرا ہوگیا۔

اس کو لے کر کرناٹک کے کئی شہروں اور قصبوں میں کشیدگی بھی پھیل گئی تھی۔ بالآخر معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچا اور اب یہ’ فیصلہ‘ آیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ حجاب اسلام کے لازمی اصولوں یا احکامات میں سے نہیں ہے ۔ واضح ہو کہ حجاب یا پردہ اسلامی قانون کے مطابق جزولازم امر ہے ، حجاب کے بارے میں نص قطعی موجود ہے ، تاہم فیصلے کے بعد بھی یہ تنازعہ ختم ہونے کا امکان نہیں ہے، کچھ تنظیموں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی بات کہی ہے۔

اسکول کالج میں حجاب پر پابندی، طالبات سپریم کورٹ سے رجوع کریں گی

کرناٹک ہائی کورٹ نے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔اس فیصلے سے مایوس کر درخواست گزار طالبات نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وکلاء کی ٹیم فی الحال کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کا مطالعہ کر رہی ہے۔درخواست گزاروں کے وکلاء قانونی نکتہ کو دیکھ کر سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

مسئلہ حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے’ فیصلے‘ کے بعد ریاستی وزیر تعلیم کا بیان ’ مبینہ طور پر حجاب کے نام پرگمراہ ہوئی مسلم طالبات کا دل جیتنے کی کوشش کریں گے ‘

حجاب تنازعہ میں کرناٹک ہائی کورٹ نے کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے، اس فیصلے اور مسلم طالبات کے احتجاج کے درمیان پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش نے منگل کو کہا کہ وہ مذہب کے نام پر ’گمراہ‘حجاب پہننے پر مصر مسلم لڑکیوں کے دل جیتنے کی کوشش کی جائے گی اور انہیں تعلیم کے مرکزی دھارے میں لایا جائے گا۔

ناگیش نے یہ بھی کہا کہ کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ 1983 میں موجود خامیوں کو خاص طور پر جو اسکول یونیفارم سے متعلق ہیں، دور کیا جائے گا۔ریاستی وزیر ناگیش نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ہم ان لڑکیوں کا دل جیتنے کی کوشش کریں گے جو حجاب کے نام پر گمراہ ہوچکی ہیں،ہم انہیں تعلیم کے مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کریں گے۔

ریاستی وزیر کے مطابق مجھے یقین ہے کہ لڑکیاں کالج آئیں گی اور اپنی تعلیم جاری رکھیں گی کیونکہ کرناٹک کے لوگ نہ تو عدالت کے خلاف جاتے ہیں اور نہ ہی اس کے خلاف بولتے ہیں۔ مجھے شبہ ہے کہ ان طالبات کو گمراہ کیا گیا ہے، آنے والے دنوں میں یہ ثابت بھی ہو جائے گا۔

ریاستی وزیر کے مطابق اسکول یونیفارم نام نہاد ’حب الوطنی‘ کے جذبات کو ابھارنے میں مدد کرتا ہے، ہم یونیفارم کو لازمی بنائیں گے تاکہ طلبا کو معلوم ہو کہ وہ اس ملک کے بچے ہیں۔ وہیں کرناٹک کے وزیر داخلہ آرگیہ گیانندر نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر کسی کو ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرنا چاہیے،اور امن و امان برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔

حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کا ’فیصلہ ‘خواتین کی آزادی اور دستورکیخلاف : ملی کونسل

مسئلہ حجاب پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ کو آل انڈیا ملی کونسل نے آئین ہند اور خواتین کی بنیادی آزادی کے خلاف قرار دیاہے۔کونسل کے قومی جنر ل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہاکہ خواتین کیلئے یہ فیصلہ کرنا کہ اسے کیا پہنناہے اور کیا نہیں پہنناہے ،یہ ایک خاتون کو حاصل شدہ بنیادی آزادی کے خلاف ہے اور آئین ہند کے بھی خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک خاتون کی یہ اپنی پسند ہوتی ہے کہ اسے کون سا لباس پہنناہے اور کون سا نہیں پہنناہے ، پوری دنیا میں خواتین کو یہ بنیادی حق حاصل ہے لیکن کرناٹک ہائی کورٹ نے مسلم خواتین سے یہ بنیادی حق سلب کرلیاہے، جو افسوسناک اور خواتین کے حقوق کی توہین ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ فیصلہ آئین کے بھی خلاف ہے ،کیوں کہ آئین میں واضح طور پر کہاکہ گیا ہے کہ ہر ایک شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی بنیادی آزادی ہوگی ، مسلمانوں کے یہاں حجاب مذہب کا حصہ ہے۔

قرآن کریم میں پردہ کیلئے جلباب کا لفظ استعمال کیا گیاہے جس کا مطلب ہوتا ہے گھونگٹ ، قرآن کریم میں اسے مسلم خواتین کیلئے لازمی اور ضروری قراردیاہے ،لہٰذا یہ مذہب اسلام کا بنیادی حصہ ہے اور شعائر اسلام میں داخل ہے، اس لئے عدالت کا یہ کہناہے کہ اسلام کا بنیادی حصہ نہیں ہے، واضح طور پر غلط ہے اور مذہب اسلام میں راست مداخلت ہے۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم نے یہ بھی کہا کہ اس سے قبل سال 2016 میں کیرالاہائی کورٹ کا فیصلہ حجاب کے حق میں آیا ہواہے، اور اسے اسلام کا لازمی حصہ تسلیم کیا گیاہے۔

حجاب بنیادی طور پر شعائر اسلام میں شامل ہے اور دنیا بھر کی مسلم خواتین حجاب استعمال کرتی ہیں۔ آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ سے اتفاق نہیں کرتی ہے ،اور عدالت سے مانگ ہے کہ اس فیصلہ پر نظر ثانی کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button