ہمنتا بسوا سرما کی بکواس-✍️ہرش مندر ،سابق آئی اے ایس
مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز بیانات
چیف منسٹر آسام ہمنتا بسوا سرما فی الوقت ملک میں نفرت پر مبنی سیاست کا بدنما چہرہ بن گئے ہیں ، وہ خاص طور پر مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کچھ خاص مقاصد کی تکمیل کیلئے وہ ایسا کررہے ہیں ۔ کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کی ذیلی تنظیموں و اداروں کے کئی ایک شدت پسندوں سے بھی کہیں زیادہ مسلم دشمن ہوچکے ہیں اور حقیقت میں دیکھا جائے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمنتا بسوا سرما نے اپنے دستوری عہدہ کا استعمال مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز و اشتعال انگیزی Hate Speech کیلئے کیا ہے ۔
ہمنتا بسوا سرما کی فرقہ پرستی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی مسلم دشمنی کی تمام سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں مسلمانوں کے بارے میں کہا کہ ان ( ہمنتا بسوا سرما ) کا کام آسام میں میاں لوگوں کو پریشان کرنا ہے ۔ چیف منسٹر آسام کی حیثیت سے اپنے دور اقتدار میں ہمنتا بسوا سرما نے ریاست آسام میں بنگالی نژاد اور مسلم مذہبی پہچان و شناخت رکھنے والے لوگوں پر ظلم اور ان کے خلاف نفرت و عداوت بھڑکانے کیلئے اقدامات کئے اور اس معاملہ میں وہ سارے ملک میں بدنام ہیں ۔ ( ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور اشتعال انگیز بیانات جاری کرنے کے معاملہ ہمنتا بسوا سرما اور چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان زبردست مقابلہ چل رہا ہے اور اس مقابلہ کے پیچھے بھی ان کے اپنے مقاصد کارفرما ہیں ) ۔
ہمنتا بسوا سرما مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے آسام میں مقیم لوگوں کو تحقیر آمیز انداز میں میاں کہتے ہیں حالانکہ لفط میاں جنوبی ایشیا میں مسلم اشرافیہ کیلئے استعمال ہونے والا ایک عام اور معزز لفظ ہے جبکہ آسام میں چیف منسٹر بنگالی نژاد مسلمانوں کی توہین کیلئے اس لفظ یعنی میاں کا استعمال کرتے ہیں ۔ ہمنتا بسوا سرما میاں لوگوں سے سخت نفرت کرتے ہیں ( شائد محب وطن اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے حامی حقیقی قوم پرست لوگ چیف منسٹر آسام سے بھی اسی طرح کی نفرت کرتے ہوں گے ) ۔
چیف منسٹر آسام بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میاں لوگوں نے دیڑھ لاکھ بیگھازمین پر قبضے کئے تھے ۔ ان کی ریاستی حکومت نے تو دور دراز علاقوں میں مقیم مقامی باشندوں کو اسلحہ کے لائسنس دینے سے متعلق پالیسی کا اعلان کیا ہے کیونکہ بقول ہمنتا بسوا سرما آسام کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے ہندو خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے تھے ۔ سرما کے اس خطرناک اعلان کے بارے میں جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا شہریوں کو اسلحہ کے لائسنس دینے کی پالیسی ریاست میں تباہ کن صورتحال پیدا کرنے کا باعث نہیںبنے گی ۔ آسام میں دھماکو صورتحال پیدا نہیں ہوگی تب ان کا جواب تھا کہ میں آسام میں دھماکو خیز صورتحال چاہتا ہوں ۔
وہ مسلم دشمنی کار برملا اظہار کرتے ہوئے نیم عدالتی فارنز ٹریبونلز کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ٹریبونل صرف مسلم پہچان و شناخت رکھنے والے لوگوں کے معاملت کی سماعت کریں گے ۔ اس کے برعکس ہندو ، سکھ ، بدھ ، عیسائی ، پارسی اور جین کے خلاف مقدمات واپس لے لئے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ ان کی حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک تعصب و جانبداری کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے SIR کے تحت صرف اور صرف میاں مسلمانوں کو نوٹسیں دی جارہی ہیں ۔
انہوں نے آسام کے عوام کو میاں لوگوں کو پریشان کرتے رہنے کا مشورہ بلکہ ہدایت بھی دی ۔ اس بارے میں وہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ لوگ انہیں پریشان کریں گے تب ہی وہ آسام چھوڑیں گے ، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر ہندو ، میاں مسلمانوں کو پریشان نہیں کریں گے تو آپ کے گھروں میں بھی لو جہاد ہوگا ۔ وہ میاں مسلمانوں کو تنگ کرنے انہیں ستانے ، انہیں پریشان کرنے کے طریقے بھی بتاتے ہیں ۔
چیف منسٹر آسام ایک اہم آئینی عہدہ پر فائز رہتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف انتہائی فحش لب و لہجہ استعمال کرتے ہوئے معاشرہ میں فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دے رہے ہیں ۔ کبھی وہ لپنڈ جہاد کے نام پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہیں تو کبھی لو جہاد کے ذریعہ بھولے بھالے ہندوؤں کو ڈراتے ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے ریاست میں کھاد جہاد کا بھی نعرہ بلند کر کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا تھا ۔ سیلاب جہاد کا عجیب و غریب الزام عائد کر کے انہوں نے اپنے ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت دیا تھا ۔ ووٹ جہاد، بیف جہاد جیسے نعروں سے بھی وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کا کام کرتے ہیں ۔
آر ایس ایس کے ایک پروگرام میں جو دارالحکومت دہلی میں منعقدہ ہوا تھا ہمنتا بسوا سرما نے مسلمانوں اور مدرسوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے پُرزور انداز میں کہا تھا کہ مدرسوں کا وجود ختم ہونا چاہیئے اور لفظ مدرسہ ملک سے غائب ہوجانا چاہیئے ۔ غرض ہمنتا بسوا سرما سرعام میاں لوگوں کے زائد از 5 لاکھ رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کروانے کا اعلان کرتے ہیں جیسے وہ خود الیکشن کمیشن آف انڈیا ہوں ۔ اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی ۔



