
ریاض ایئرپورٹ حملے میں حیدرآباد کے یوسف علی جاں بحق، اہل خانہ عمرہ کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے
عمرہ کے لیے بلایا تھا خاندان، ریاض ایئرپورٹ حملے نے خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا۔
الریاض/حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 46 سالہ آئی ٹی انجینئر محمد یوسف علی جاں بحق ہوگئے۔ وہ گزشتہ 10 برس سے ریاض میں ملازمت کر رہے تھے۔ انہوں نے تقریباً 10 روز قبل اپنی اہلیہ، تین بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب بلایا تھا۔ واقعے کے وقت یہ خاندان مدینہ منورہ جانے والی پرواز میں سوار ہونے کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھا۔
یوسف علی کے رشتہ داروں سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، اتوار کو محمد یوسف علی، ان کی اہلیہ سمیرا، دو بیٹے، ایک بیٹی اور ان کی خالہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لاؤنج میں پرواز کا انتظار کر رہے تھے۔ اسی دوران حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل کا ملبہ ایئرپورٹ پر گرا، جس کی زد میں یوسف علی اور ان کے اہل خانہ سمیت عمرہ کے لیے آئے دیگر افراد بھی آگئے۔
حملے میں یوسف علی شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔ ریاض میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے بھی اتوار کی رات ایک ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق کی۔
یوسف علی کے دونوں بیٹے بھی حملے میں زخمی ہوئے۔ ان کے 18 سالہ بیٹے امان علی کے گھٹنے کی سرجری کی گئی، جبکہ 16 سالہ بیٹے وسیع علی کے پاؤں کی تین انگلیاں ضائع ہوگئیں۔ دونوں حیدرآباد میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یوسف علی کی اہلیہ سمیرا اور ان کی 11 سالہ بیٹی مریم، جو حیدرآباد کے ایک اسکول میں چھٹی جماعت کی طالبہ ہیں، معمولی زخمی ہوئیں۔
یوسف علی کی موت کی اطلاع ملتے ہی حیدرآباد کے مہی دی پٹنم میں واقع ان کی رہائش گاہ پر رشتہ داروں اور دوستوں کی آمد شروع ہوگئی۔ خاندان کے ایک رکن کے مطابق، یوسف علی کی تدفین ریاض میں ہی کیے جانے کا امکان ہے۔
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اپیل کی ہے کہ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔ اویسی نے بتایا کہ وہ ریاض میں موجود یوسف علی کے برادرِ نسبتی سے رابطے میں ہیں اور خاندان کی صورت حال سے واقف ہیں۔
اس حملے میں تلنگانہ کے ایک اور شہری شیخ سعید بھی زخمی ہوئے۔ کاماریڈی ضلع سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ سعید ریاض ایئرپورٹ کے ایک کیفے میں ملازمت کرتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، میزائل کا ملبہ گرنے سے وہ زخمی ہوگئے اور انہیں کنگ فہد ملٹری اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) میں ان کا علاج جاری تھا۔ سعید کے دو بھائی بھی سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، اس حملے میں مجموعی طور پر 13 افراد کی موت ہوئی اور تقریباً 300 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 11 ہندوستانی شہری بھی شامل تھے۔
ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ زخمی ہندوستانی شہریوں کے علاج کے لیے سفارت خانے کے اہلکاروں نے مختلف اسپتالوں کا دورہ کیا ہے۔ بیان کے مطابق، تین ہندوستانی شہری آئی سی یو میں زیر علاج تھے، تاہم ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔ دو دیگر زخمی عام وارڈ میں داخل تھے، جبکہ باقی زیر علاج ہندوستانیوں کو اسپتالوں سے چھٹی دے دی گئی تھی۔
سفارت خانے نے زخمیوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے پر سعودی حکام کا شکریہ ادا کیا اور متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔



