سیاسی و مذہبی مضامین

جانے کہاں گم ہوگیا وہ جسے ’’سکون‘‘ کہتے ہیں✍️عبدالحلیم اطہر سہروردی 

دنیا کے کسی خطہ کا انسان ہو اکثریت آج یہ کہہ رہی ہیکہ ان کی زندگیوں سے سکون و اطمینان ختم ہوتا جارہا ہے۔اول سبب اور اہم وجہہ جو اس وقت عالمی سطح پر بے اطمینانی اور بے سکونی کا باعث ہے وہ دین سے دوری ہے ،انسان جس کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو وہ اپنے مذہبی تعلیمات سے دور ہوتا جارہا ہے اور دنیاکے حصول میں اندھا دھند دوڑ رہا ہے، ایک چیز اسے حاصل ہوجاتی ہے تو دوسری کی طرف لپکتا ہے اس بھاگ دوڑ میں وہ نہ خود سکون سے رہ رہا ہے اور نہ دوسروں کو سکون پہنچا رہا ہے،

جبکہ مشہور قول ہیکہ دوسروں کو بے سکون کرنے والا کبھی سکون نہیں پاسکتا اور یہ واضح ہدایت ہیکہ جب تم سکون کی کمی محسوس کرو تو اپنے رب کے سامنے توبہ کرو ۔بڑوں سے سنتے آئے ہیں کہ دل مطمئن اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے،ایک ہوتا ہے دل مطمئن اور ایک ہوتا ہے دل مضطرب،دل مطمئن جو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک ہے جس کو اللہ یہ نعمت عطا کردیتا ہے وہ ہمیشہ پرسکون رہتا ہے حالات کیسے بھی ہوں وہ صبر اور شکر کے ساتھ رہتا ہے اور جس کے حصہ میں دل مضطرب آتا ہے وہ دنیاجہاں کی ہر چیز پالینے کے بعد بھی مضطرب رہتا ہے کہیں سکون نہیں ملتا،آج فی زمانہ اکثریت کی یہ شکایت ہے کہ انہیں سکون و اطمینان میسر نہیں،ایسا کیوں ہے کیا اسباب و عوامل ہیں اس پر کچھ گفتگو کرتے ہیں۔

ان دنوں ہر کسی کو ایک دوسرے سے شکایت ہے یوں سمجھ لو کہ شکایت کا بازار گرم ہے ،ذاتی زندگی ہویااجتماعی ،قومی معاملہ ہو یا ملی ،مذہبی ہو یا سیاسی ہر معاملہ میں شکایت اوربے چینی پائی جارہی ہے۔بیوی کو شوہر سے شکایت ہے اور شوہر بیوی سے نالاں ،باب بیٹے کے درمیان نا اتفاقی،بچوں کو والدین سے اور پڑوسی کو اپنے پڑوسی سے شکایت ،دوست احباب سے شکایت ،ادیب و شاعر کو نقاد سے اور نقاد کو ادیب و شاعر سے اور سب کو زمانے اور عہد سے شکایت۔اور اس کے لئے ہر کوئی زمانہ خراب ہے کی دہائی دے رہا ہے،سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی عہد یا زمانہ شکایت کے لائق بھی ہوتا ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ عہد یا زمانے کے اچھے یا برے ہونے یا اسے اچھا یا برا بنانے میں ہمارے اعمال و افعال کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔بلکہ عہد تو معصوم ہوتا ہے ہم اپنے طور پر اس میں رنگ و روغن بھرتے ہیں ،اس کی شکل بناتے یا بگاڑتے ہیں ،موافق یا مخالف بنانے میں اپنا کردار اداکرتے ہیں۔بہ الفاظ دیگر نوزائیدہ بچے کی مٹھی بند ہوتی ہے اب ہماری ذمہ داری اور عمل پر منحصر ہے کہ اس کی مٹھی کو کھول کر کتاب مبین تھما دیں یا جہالت اور سرکشی کی ڈائری دیں،اسے روشنی کے کھلونے عطا کریں یا پھر غلط جذبوں کو ابھارنے والی چیزیں دیں۔

اسی طرح کوئی بھی عہد برا نہیں ہوتا بلکہ ہم اپنی ذاتی کارکردگی سے اسے آلودہ اور پراگندہ کرتے ہیں ۔اچھائی یا برائی کا عمل ذاتی سے اجتماعی کی طرف بڑھتا ہے پھر قوم ملک اور عہد کو اپنے بھنور میں پھنسالیتا ہے ۔اس کے باوجود خیر اور اچھائی کا پہلو پوری طرح شکست نہیں کھاتا بلکہ اس کی واپسی کا امکان بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے۔

ہماری مشکل گھڑی میں بھی مثبت پہلو پوشیدہ ہے ،ناموافق حالات میں بھی امید کی کرنیں موجود ہوتی ہیں ۔ضرورت ہوتی ہے اس کی شناخت کی اسے عملی طور پر برتنے کی۔مثبت فکر ہر زمانے میں انسان کو تازہ بہ دم رکھتی ہے یہ بڑی طاقت ہوتی ہے جو حوصلوں اور تمناؤں کو مرنے نہیں دیتی۔یہ ہماری کارکردگی اور ہمارے فہم و بصیرت کا کمال ہوتا ہے کہ اس کے دھارے کو موڑ دیں،اس کی تخلیقی صورت میں نکھار لائیں ،اسے زندگی اور معاشرے سے مربوط کریں اپنے شعروادب کو اسے شکست دینے والے ہتھیار کے طور پر استعمال کریں ۔زندگی کو مایوسیوں اور نا امیدوں سے تحفظ فراہم کرنے میں علم و دانش اور شعرو ادب کا رول اہم ہو سکتا ہے بشرطیکہ یہ تعمیری اور اقدار حیات کی نمائیندہ ہوں۔ہمارے ہر طرح کے اعمال بظاہرذاتی ہوتے ہیں لیکن اس کے اثرات ہماری اجتماعی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔

اکثر افراد ہر وقت پریشان رہنے سے سماجی زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں ،ہر وقت ماضی میں رہنا یا پھر مستقبل کی پریشانی انسان کو سکون نہیں لینے دیتی۔ آج میں زندہ رہنا اور حال کو بھر پور انداز میں محسوس کرنا ہمیں ماضی کی سوچوں میں ڈوبنے سے بچا سکتا ہے۔ کل کس نے دیکھا ہے؟ تو کیوں نہ حال میں زندہ رہنا سیکھیں۔مستقبل کے بارے میں سوچتے رہنا منفی عمل ہے لیکن زندگی میں اپنا کوئی مقصد بنا لینا ایک مثبت بات ہے۔ چاہے یہ مقصد کتابیں پڑھنا ہو، اپنے شعبے میں آگے تک بڑھنا ہو، بچوں کی اچھی تربیت کرنا ہو یا پھر کچھ اور لیکن مقصد انسان کو آگے بڑھنے کی ہمت دیتا ہے۔

کچھ حاصل کرنا کسے پسند نہیں لیکن کہتے ہیں کہ جو مزا کوئی تحفہ دینے میں ہے وہ لینے میں نہیں۔ کبھی اپنے کسی ضرورت مند دوست یا رشتہ دار کی مدد کر دینا، کسی بے گھر شخص کو کھانا کھلا دینا یا پھر کسی اور قسم کی خیرات حتیٰ کہ کسی کو ایک مسکراہٹ بھی دے دینا آپ کے موڈ کو اچھا کر دے گا۔محبت کیسی پھیلائی جائے؟ یہ سوال اتنا مشکل نہیں۔ اپنے چاہنے والوں کو کبھی تحفہ دے دینا، دفتر میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنا، کسی بچے کو آئس کریم دلا دینا، بہت سی چھوٹی چھوٹی عادات ہمیں محبت بانٹنے اور محبت حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو بھر پور انداز میں بروئے کار لانے سے انسان نہ صرف اپنی زندگی میں مزید مطمئن ہو سکتا ہے بلکہ دوسروں کی زندگی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔اگر انسان دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے میں کامیاب ہو جائے تو زندگی پر سکون بنائی جا سکتی ہے۔ ایک ماہر نفسیات جنہوں نے بہت سے شادی شدہ جوڑوں کی کونسلنگ کی، کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مسائل روزہ مرہ کی تلخیوں سے شروع ہوتے ہیں۔

ایک دوسرے کو توجہ دینے، ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور سب سے بڑھ کر غلطیاں معاف کر دینے سے بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔یونیورسٹی آف میڈرڈ کی ایک تحقیق کے مطابق منفی خیالات کو لکھ لینا اور پھر اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا، ان خیالات سے جان چھڑانے کا اچھا طریقہ ہے۔ ماہرین نفسیات کی رائے میں ایسا باقاعدگی سے کرنا چاہیے۔ اپنے خیالات پر توجہ دینا اور خیال رکھنا کہ منفی سوچ کب ذہن پر حملہ آور ہو رہی ہے اور فوری طور پر کچھ اچھا سوچنے کی کوشش کرنا بھی منفی سوچوں کو ہمارے ذہنوں سے بھگا سکتا ہے۔

ایک نئے عالمی سروے کے مطابق دنیا بھر میں مسرت و شادمانی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں یہ رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔

اس کی کیا وجوہات ہیں؟انسانی معاشرت میں پائی جانے والی مسرت و شادمانی کے موضوع پر کرائے گئے تازہ ترین بین الاقوامی سروے کے نتائج کے مطابق دنیا بھر میں راحت و مسرت کی صورت حال میں جو کمی ہوئی ہے، وہ گزشتہ دس برسوں کے دوران کی سب سے کم ترین سطح ہے۔ جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت اقوام عالم کے انسانوںکو روزمرہ زندگی کے تفکرات اور غیرمعمولی دباؤ کا سامنا ہے۔ سروے کے مطابق ذہنی تناؤ (اسٹریس) کے شکار افراد کی تعداد بھی گزشتہ دہائی کے مقابلے میں زیادہ ہوئی ہے۔ عام انسانوں کی زندگیوں میں آسودگی مفقود ہو رہی ہے اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔حتمی نتیجے میں واضح کیا گیا کہ دنیا بھر میں انسانوں کو لاحق ہونے والی پریشانیوں کی شرح ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گئی ہیں۔ اس سروے کو مکمل کرنے کے لیے 146 ملکوں کے ڈیڑھ لاکھ شہریوں سے سوالات کیے گئے تھے۔

ایک اور سروے میں یہ بات سامنے آئی ہیکہ سوشل میڈٰیاکی وجہہ سے سکون و اطمینان ختم ہورہا ہے۔اس اسٹڈی کے نتائج کے مطابق ایسے افراد جو ایک ہفتے تک سوشل میڈیا سے دور رہے وہ دوسروں کے مقابلے میں خود کو زیادہ خوش محسوس کر رہے تھے۔ہیپی نیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (HRI) کی طرف سے کرائی جانے والی اس تحقیق میں ڈنمارک کے 1095 افراد پر مشتمل سیمپل لیا گیا۔

انہیں دو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں سے ایک گروپ نے فیس بُک کا استعمال جاری رکھا جبکہ دوسرے گروپ نے سماجی رابطوں کی اس ویب سائٹ کا استعمال ترک کر دیا۔HRI کے چیف ایگزیکٹیو مائیک وائکنگ نے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ہم نے فیس بُک پر توجہ اس لیے دی کیونکہ یہ سوشل میڈیا ایسا ہے جسے گروپ میں شامل زیادہ تر افراد استعمال کرتے تھے اور ان میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے۔ایک ہفتے کے بعد وہ لوگ جو فیس بُک استعمال نہیں کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگیوں سے زیادہ مطمئن ہیں۔ ان میں سے 88 فیصد لوگوں نے خود کو خوش قرار دیا۔ دوسری طرف اُس گروپ کے 81 فیصد لوگوں نے خود کو خوش قرار دیا جو فیس بُک استعمال کرتے رہے تھے۔

فیس بُک استعمال نہ کرنے والے گروپ کے 84 فیصد ارکان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے معترف ہیں جبکہ محض 12 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ فیس بُک استعمال کرنے والے گروپ کے 75 فیصد ارکان اپنی زندگیوں سے مطمئن تھے اور اسی گروپ کے 20 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگیوں سے غیر مطمئن ہیں۔

فیس بُک استعمال کرنے والے افراد میں فیس بُک استعمال نہ کرنے والوں کی نسبت نا خوش ہونے کے 39 فیصد زیادہ امکانات ہوتے ہیںاس تجربے کے خاتمے پر فیس بُک سے دور رہنے والے افراد نے زیادہ بہتر سماجی زندگی اور چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے کے مسئلے میں کمی کا بتایا۔ دوسرے گروپ کے لوگوں نے اپنی زندگیوں میں ایسی کسی تبدیلی کو رپورٹ نہیں کیا۔اس تحقیق کے مصنفین نے لکھا ہے، اس بات پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے کہ ہمیں کیا چاہیے، ہمارے اندر بدقسمتی سے یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ ہم دوسروں کی زندگی پر فوکس کرتے ہیں۔

ایک اطلاع یہ بھی ہیکہ دارلحکومت نئی دہلی کے سرکاری اسکولوں میں خوشی کا مضمون نصاب کا حصہ بن گیا ہے۔ اب ہمارے طلبا یہ سیکھیں گے کہ خوش کیسے رہا جا سکتا ہے۔ یہ نصاب نئی دہلی کے ایک ہزار اسکولوں میں قریب آٹھ لاکھ بچوں کو پڑھایا جائے گا۔نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق خوش رہنے سے متعلق اس مضمون کو نوبل امن یافتہ شخصیت اور تبتی بدھ بھکشوؤں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے مرتب کیا ہے۔ دلائی لامہ کا کہنا ہے کہ بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو جدید اور قدیم تعلیمات کو یکجا کر سکتا ہے۔ اُن کے بقول ، یہ تعلیم دنیا میں منفی اور تباہ کن جذبات کے خلاف لڑنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

دہلی کے اسکولوں میں متعارف کرائے جانے والے اس مضمون کی تعلیم کا اثر پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے۔نصاب میں روزانہ کا ذہنی مراقبہ، اخلاقیات کی تعلیم اور ذہن کی ورزش شامل ہیں جن کی مدد سے طلباء کو اچھا انسان بننا سکھایا جائے گا۔ اس نصاب سے طلبا کے کردار کو مضبوط کیا جائے گا ان کی ذہنی صحت کو بہتر کیا جائے گا اور انہیں برداشت سکھائی جائے گی۔ طلبا کو ذہنی دباؤ، اداسی اور بے چینی سے نبرد آزما ہونا بھی سکھایا جائے گا۔دہلی ملک کی وہ پہلی ریاست نہیں ہے جو لوگوں کو خوش رہنا سکھا رہی ہے۔ سن 2016 میں وسطی ریاست مدھیا پردیش نے بھی خوشی کا ڈیپارٹمنٹ قائم کیا تھا۔

خوشی کے ورلڈ انڈیکس کے مطابق ناروے کے لوگ سب سے زیادہ خوش رہنے والے ہیں۔ ایک سال قبل اس انڈیکس پر سب سے پرمسرت ملک ڈنمارک تھا۔مسرت کے عالمی انڈیکس کے مرتبین کا خیال ہے کہ اگر دولت سے خوشیاں خریدی جا سکتیں تو امریکا سب سے پرمسرت ملک ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ حکومتی پالیسیاں انسانی مسرت کا تعین کرنے میں اہم ہیں۔ امریکا کو چودہویں پوزیشن حاصل ہے۔ناروے کو زمین پر خوش آباد رہنے والوں کا ملک قرار دینے کی بنیادی وجہ معاشی نظام اور صحت کا معیار ہے۔ اسی طرح اس ملک کے لوگ پراعتماد ہونے کے علاوہ روزمرہ زندگی میں انتخاب کے آپشن بھی زیادہ رکھتے ہیں۔

کئی برسوں سے مسرت کے عالمی انڈیکس پر پہلی پوزیشن کا حامل ملک اب دوسرے مقام پر چلا گیا ہے۔ آئس لینڈ کو تیسرااور سوئٹزرلینڈ کو چوتھا مقام دیا گیا ہے۔مسرت کے اس انڈیکس میں امریکا سے اوپر اسرائیل بھی ہے، جسے علاقائی تنازعے کا سامنا ضرور ہے لیکن اُس کی عوام دوست داخلی پالیسیوں کی وجہ سے گیارہواں مقام ملا ہے۔ نئی رپورٹ میں ٹاپ ٹین ممالک میں سات کا تعلق براعظم یورپ سے ہے۔ جرمنی کو خوش آباد رہنے والے ملکوں میں سولہواں مقام دیا گیا ہے۔لوگوں کی مسرت کا تعلق حکومتوں کی عوام دوست پالیسیوں سے جوڑا گیا ہے،ٹاپ ٹین ملکوں میں تین ملک ایسے ہیں جو یورپی نہیں ہیں اور ان میں شمالی امریکی ملک کینیڈا ساتویں پوزیشن پر ہے اور آسٹریلیا کو آٹھواں مقام حاصل ہے جب کہ نیوزی لینڈ کو نویں پوزیشن دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کی جاتی ہے اور اس کو عالمی پائیدار ترقی پر نگاہ رکھنے والا ایک ادارہ مرتب کرتا ہے۔ سارک خطے میں ہندوستان کا مقام تیسرا جب کہ عالمی درجہ بندی میں یہ ایک سو اٹھارواں ہے۔ پاکستان کو ٹاپ پوزیشن حاصل ہے ،پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان کی پوزیشن154 ویں ہے۔جب کہ دوسری پوزیشن سری لنکا (عالمی انڈیکس میں 117 ویں) ہے۔عراق کو عدم مسرت کے حامل ملکوں میں دوسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔ افغانستان اور یمن عدم مسرت کے حامل ملکوں میں سب سے نیچے ہیں۔

دوسری جانب متمول ملکوں کے عام شہریوں میں بھی غیر ضروری دباؤ اور ہیجانی کیفیتٰ بڑھ رہی ہے۔ کئی امیر ملکوں کے شہریوں نے اپنے لائف اسٹائل پر کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا ہے۔انٹرنیشنل گیلپ تنظیم کی جانب سے کرایا گیا سروے کے مطابق مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کو اس وقت ضرورت سے زائد ذہنی دباؤ، تفکرات اور اداسیوں نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ آخر میں ایک خوبصورت قول پر اس گفتگو کو ختم کریں گے۔ایک شخص نے ایک بزرگ سے کہاــ ’’میں سکون چاہتا ہوں‘‘بزرگ نے فرمایا اس جملے میں سے ’’میں‘‘ نکال دو یہ تکبر کی علامت ہے،اس کے بعد اس جملے میں سے ’’چاہتا ہوں‘‘نکال دو یہ خواہش نفس کی علامت ہے،اس کے بعد آپ کے پاس صرف ’’سکون‘‘ ہی رہ جائیگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button