قومی خبریں

اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو جواہر لال نہرو میڈیکل کالج مل سکتا ہے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کو شری نریندر مودی میڈیکل کالج کیوں نہیں : پروفیسر ڈاکٹر اقبال حسین

  انٹرویو رایٹر: شاہ خالد مصباحی، جامعہ نگر نئی دہلی

  انٹرویو رایٹر: شاہ خالد مصباحی، جامعہ نگر نئی دہلی

ملک ہندوستان کی مرکزی دانش گاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے موجودہ وائس چانسلر عزت مآب پروفیسر اقبال حسین صاحب دور جدید کے معروف علمی و تحقیقی ادبی خدمات و کارناموں میں ایک اعلی مقام اور اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں، ملک کی ترقی و توسیع کی خاطر آپ نے ایک لمبا وقت نچھاور کیا، اور جو ابھی بھی اپنی قیمتی فکر و نظر سے ملک و قوم کو ایک وسیع مثبت رینج عطا کررہے ہیں۔ آج کے وقت میں آپ کا شمار ملک کے بڑے چہروں میں ہوتا ہے، آپ کی علمی و ادبی خدمات بدلتے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، آپ کے یہاں قومی و ملکی موضوعات کی خدمات کے اعتراف میں تنوع و کثرت پائی جاتی ہے۔آپ بلاشبہ کثیر جہتی شخصیت کے مالک ہیں۔

آپ ایک ماہرِ قانون دان، انسانی حقوق و فرائض کے محافظ، ہندوستانی تہذیب و تمدن کے بے مثال علمبردار ہیں ۔اور اس کی حفاظت و پاسبانی میں پچھلی کئی دہائیوں سے آپ مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ آپ نے تقریبا ملک کے ہر موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ اور حتی کہ علمی و ادبی بساط پر ملک کی تعلیمی و قدیم روایت کے مہرے کو بڑی کامیابی کے ساتھ پرکھا ہے اور ملک کی تعمیر میں اپنا کلیدی کردار پیش کیا ہے۔

سر کے جغرافیائی تعلق کے بابت اگر بات کی جائے تو مختصراً تعارف یہ ہوگا کہ آپ کا آبائی تعلق ضلع پٹنہ صوبہ بہار سے ہے، اور آپ کی ابتدائی تعلیم، نشو و نما بھی اسی مردم خیز ضلع پٹنہ گل بہاراں یعنی بہار میں ہوئی۔ سن ١٩٧٧ میں بی ۔ ایس ۔ ئی بورڈ پٹنہ ہندوستان سے آپ نے بارہویں کلاس کی تکمیل فرمائی ۔ اور پھر اعلی تعلیم کے حصول کی غرض سے یہ شہر چھوڑ کر علی گڑھ کوچ فرمائے، اور ایک عرصہ دراز تک اس شہر میں سکونت پذیر ہوگئے۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سال ١٩٧٩ میں پی ۔ یو۔ سی کی تعلیم سائنس اسٹریم سے مکمل فرمائی، اور سن ١٩٨٢ میں بی ۔ ایس ۔ سی۔ (فیزکس اسٹریم) کی ڈگری سے نوازے گئے۔

حتی کہ قانون و ضابطے کی تعلیم کی حصول کی طرف بڑی ژرف نگاہی کے ساتھ رغبت دکھائی، اور سن ١٩٨٧ تک ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی تعلیم کی تکمیل فرمائی، اور یہ سلسلۂ تعلیم بڑی گرمجوشی کے ساتھ چلتا رہا اور حتی کہ سن ٢٠٠٩ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی، لاء شعبہ سے پی، ایچ ،ڈی کی ڈگری سے سرفرازی حاصل کرنے کے بعد بھی اس میں قرار داشت نہ رہا، بلکہ بہت سے عملی و ادبی کارناموں کے انجام دینے اور بہت سے پروگرام میں بحیثیتِ متعلم و معلم شرکت فرماتے رہے ۔ اور کچھ اس طرح آج آپ کا تعلیمی نظام و سفر نظر آتا ہے کہ "بازیچہ ٔ اطفال ہے دنیا مرے آگے” اسی خواب و خیال کے ساتھ ہمیشہ آپ ، اپنے آپ کو طلب علم و ادب ، سائنس و معرفت کے حصول میں میں تا حال مصروف رکھے اور ملک و قوم کی ترقی و ترویج کی خاطر فائدہ رساں پہلوؤں کو اجاگر کرتے رہے۔

بشیر بدر صاحب کے اس شعر کے ساتھ آج کی انٹرویو محفل کا آغاز کرتے ہیں کہ

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے
تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا سوال ( شاہ خالد مصباحی)

 سر آپ نے ملک کی عظیم دانش گاہوں، بالخصوص جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کو اپنا ایک بڑا وقت دیا ہے، جامعہ کی ترقی و پیشرفت کو لے کر فی الوقت آپ کیا سوچتے ہیں ؟

جواب(عزت مآب وائس چانسلر سر): میں یہ بات بباغ دہل کہتا ہوں جامعہ ملیہ اسلامیہ ہر ادارے سے تھوڑا ہٹ کر ادارہ ہے ، جس بھی ادارہ کی بنیاد رکھی جاتی ہے اس میں گورنمنٹ کی پلاننگ ہوتی ہے اور باضابطہ طور پر اس کے معاشی وسائل کی فہرست تیار کی جاتی ہے، منصوبۂ طویل و کوچک کے جدول تیار کیے جاتے ہیں لیکن جامعہ اس پروسیس سے نہیں گزرا جامعہ کا قیام ایک خاص مقصد کے تحت کیا گیا تھا اور اس کا وجود ایک خاص قسم کے ماحول میں ہوا، اور وہ تحریک خلافت ہے، گاندھی جی، ان کے ساتھی جو اس ملک کو انگریزوں کے چنگل سے بچانا چاہتے تھے، انہوں نے دیش کے یونیورسٹیوں و کالجس کے طلبا کو ایک دعوتِ عام دی کہ آپ لوگ باہر آئیے اور انگریزوں کے خلاف ملک کو آزاد کرانے کے لیے، ہمارا معاون بنئیے اور اسی خاص ہدف کے ساتھ، اسی تاریخی زویے سے جامعہ کا وجود ظہور پزیر ہوتا ہے۔اور جامعہ اپنی بنیاد کے اول روز سے ہی نیشنل ازم ( حب الوطنی) کے سبق کے ساتھ ہی چلی ہے جس کی وجہ سے اس کو اپنی راہ میں بہت ساری پیچ و خم سے گزرنا پڑا ہے، اور ہر طرح کے اونچ و نیچ سے گزر کر آج جامعہ ملک و عالم کی اعلی ترین دانش گاہوں میں نمایاں مقام پر ہے۔

بہر کیف حکومتیں آتی رہی اور جاتی رہیں لیکن یہاں کے اساتذہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے اور وقت کیسا بھی رہا، ہر آنے والا وائس چانسلر اپنی خدمت انجام دیتے رہا، اس سے گھبرائے نہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دیتے رہے، اور جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج دو تین دہائیوں سے جامعہ مستقل ترقی کررہا ہے علم کے ہر شعبہ میں ترقی کررہا ہے اور آج کے دور میں این آر آئی ایف میں اور ہر شعبہ یہاں کا این آر آئی ایف رینک میں سب سے آگے ہے ۔ اس وقت ہمارے پاس تقریباً چالیس سے پینتالیس شعبے ہیں اور بارہ فیکلٹی ہے، تقریباً پچیس ہزار لڑکے و لڑکیاں یہاں پڑھتے ہیں اور جس میں سے تقریباً پانچ ، چھ ہزار طلبہ و طالبات ہاسٹل میں رہتے ہیں۔

سوال : جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیادی کس سوچ و مقصد کے تحت رکھی گئی تھی، کیا اس میں کسی قسم کا بدلاؤ آیا ہے، جامعہ حب الوطنی کے جس وچار دھارے کا حامی رہا کیا موجودہ سرکار اسی وچار دھارے کا بڑھاوا دے رہی ہے؟

جواب :جس بنیادی اصولوں کے ماتحت کوئی ادارہ قائم ہوتا ہے، وہ اصول اس ادارے سے کبھی الگ نہیں ہوتے ہیں، لہذا جس مقصد کے ساتھ یہ یونیورسٹی قائم ہوئی تھی اسی مقصد کو لے کر آج یہ یونیورسٹی چل رہی ہے یہاں کے طالب علم فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ صرف علم سے ہی آراستہ نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان کے رگ رگ میں قومیت ، حب الوطنی پیوست رہتی ہے۔ اور موجودہ سرکار یقیناً نیشنلسٹ سرکار ہے اور جو بھی پارٹی اس ملک کی حکومت کی باگ ڈور سنبھالے گی، وہ یہاں کےآئین ، دستور کے تمام پہلوؤں کو اپنے سامنے رکھ کر کے دیکھنا چاہے گی ۔

ہندوستان کے دستور کا تمہید ہی ایک سیکولر، سوشلسٹ جمہوریہ فطرت کا ہے اور ہمارا دستوری نظام نیشنل انٹیگریٹی کا حامل ہے اور موجودہ سرکار بھی اس کا ضامن ہے اور آج کے دور میں موجودہ سرکار کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہٹ کر جمہوریت کی کوئی بھی مثال نہیں ہے۔

سوال : صارفین کا تحفظ ہندوستان کا قدیمی‌کلچر رہا ہے ۔ اور عزت مآب نریندر مودی جی کا صارفی طریقوں اور صارفین کی خوشحالی کی طرف اچھے اقدامات نظر آرہے ہیں۔سر یہ موضوع آپ کا ایریا آف انٹرسٹ بھی ہے، اس کے بارے میں آپ کی ذہنی ترجیحات کیا ہیں اس نیشن پروگریشن کے تحت جامعہ کی تعلیمی امور و ملکی سطح پر معاشی مسائل میں تبدیلی لانے میں آپ کیسے مودی جی کے معاون بن سکتے ہیں؟
 جواب: کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ یہ سن ١٩٨٦ کے دسمبر میں پاس ہوا اور ایسا نہیں ہے کہ اس سے پہلے کوئی ایکٹ نہیں بلکہ دوسرے ناموں کے ساتھ کئی ایکٹ تھے جیسے سیل آف گوڈس، اسیشنل کموڈیٹی ایکٹ وغیرہ ان ناموں سےکئی ایکٹ تھے، جن سے یہ سارے معاملات کو سنبھالا جاتا تھا ، لیکن فرق یہ تھا کہ اگر کوئی اپنا مقدمہ اس ایکٹ کے تحت داخل کرانا ہوتا ہے تو ورڈنیری کورٹ جانا ہوتا ہے ۔ اور اس کورٹ میں جانے کے لیے ایک لمبی کورٹ فیس ہوتی ہے، اس کا ایک وکیل اور ایک لمبا پروسیسر ہوتا ہے، کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامان کی خرید و فروخت جو ہوتی ہے یا کسی قسم کی مالیت کا تبادلہ ہوتا ہے، یا کوئی سروس آپ لینا چارہے ہیں، تو اس کی مطابقت میں آپ کو وہ سامان یا سروس ملنی چاہیے، اس میں چھوٹے اور بڑے دونوں قسم کے سامان موجود ہوتے ہیں، لیکن کبھی آپ کو چھوٹے سامان کے بدلے میں کوئی تنازعہ ہو تو ایک لمبے مدت تک کیس چلانا پڑتا ہے اور اس کے خاطر ایک وکیل کرنا پڑتا ہے، تو یہ بہت سارے لوگ گوارا نہیں کریں گے کہ ایک چھوٹی سی چیز کے لیے بہت ساری ذہنی و جسمانی، مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے، اس لیے بعض موقعوں پر لوگ ایسے کیس کو، جو ان کاحق تھا، اور ان کو اس کا انصاف ملنا چاہیے، وہ چھوڑ دیتے تھے ۔ اور اس کا سب سے بڑا فائدہ صاحب ثروت، معاشیات سے جڑے طبقوں کا ہوتا تھا، اور ان کو اس طرح سے کمزوروں کے ساتھ ناانصافی کرنے کی ہمت و موقع ملتے تھے۔
ان ساری چیزوں کے مد نظر ہندوستان کی پارلیمنٹ نے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ بنایا، اور اس میں یہ چیز داخل کی کہ کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کنزیومر کو کورٹ جانا پڑے، اور چھوٹی چھوٹی تین بنچی عدالت کا قیام ہوا جس میں سماجی معاملات کے دو ایکسپرٹ کے ساتھ ججزز کا تعین ہوا، جن کو کنزیومر کورٹ کہا جاتا ہے، یہاں پر آپ بڑی معمولی سی اصولوں کی اتباع کرکے مہینہ و دو مہینہ کی مدت میں اپنا حق حاصل کرسکتے ہیں، اگر آپ ان کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوتے ہیں تو آپ ضلعی کورٹ میں اپیل داخل کرکے اپنے حق کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
اس طرح ایک عوامی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایکٹ بنایا گیا، جو ہندوستانی عوام کے لیے کرامت گر ثابت ہوا، لیکن اتفاق کی بات یہ کہ ہے زیادہ تر صوبہ میں جو کنزیومر کورٹ ہے، اس میں ویکنسی بہت ہے، لیکن اس میں لوگوں کا تقرری نہ ہونے کی بناء پر بہت سارے مقدمے اس کے متعلق معلق ہے، موجودہ سرکار نے ١٩٨٦ سن کے ایکٹ میں جو کمی و کوتاہی تھی، اس کو ہٹا دیا اور مصالحت کے پہلو کو داخل کیا، جو نریندر مودی جی کا یہ نیے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کافی موافق و عوام و خواص سب کے لیے معاون ہے ۔

سوال : سر آپ نے ملک کی عظیم دانش گاہوں میں بیشتر وقت دیا ہے ، یونیورسٹی کی اہم طاقتیں کیا ہیں، وہ کون سی کوششیں ہیں جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مجموعی ترقی کا باعث بن سکتی ہیں؟

 جواب :سن 1990 میں، میں نے نیشنل لاء اسکول، بنگلور میں بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ ٹیچنگ جوائن کیا۔ ایل ایل ایم اپنی تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد، میری تقرری نیشنل لاء سکول میں ہو گئی۔ یقیناً طالب علمی کی زندگی سے نکل کر ملک کی پہلی لاء یونیورسٹی جس کے ڈائریکٹر ملک کے عظیم قانون دان پدم شری پروفیسر این آر مادھو مینن تھے، میرے لیے یہاں تدریسی کام کرنا ضرور مشکل تھا۔ لیکن جس قسم کی تربیت مجھے وہاں دو سال پڑھانے کے بعد حاصل ہوئی وہ 30-32 سال گزرنے کے بعد بھی کسی اور ادارے سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ آج بھی یہ کالج ایک شاندار لاء یونیورسٹی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تعینات ہوا۔ اس کے بعد سن 2002 میں تدریس کے لیے تنزانیہ جانے کا موقع فراہم ہوا ۔

اب جہاں تک ہمہ گیر ترقی دینے کا سوال ہے تو ایک مرکزی یونیورسٹی اور مقامی کالج میں بہت فرق ہے۔ تعلیم کا مقصد دونوں جگہ ہے لیکن مقامی کالج میں پڑھانے کے نام پر کتاب پڑھنے، طلبہ کے امتحان لینے اور ڈگریاں دینے تک محدود ہے۔ لیکن جہاں تک سنٹرل یونیورسٹی کا تعلق ہے، یہاں ایک طالب علم کی ہمہ جہت ترقی ملنی ممکن ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہم کلاس روم میں جاتے ہیں اور طلباء کو جو معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر اس قدر تربیت یافتہ ہیں کہ وہ یو جی سی سے سند یافتہ ہوتے ہیں۔ اور وہ ان اصولوں پر اس طرح عمل کرتے ہیں جیسے پڑھانا ان کا پیشہ نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ وہ بہت اچھی تیاری کے ساتھ کلاس روم میں جاتے ہیں اور اپنی تدریسی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دیتے ہیں۔

درس صرف یہ نہیں ہوتا ہے کہ آپ ایک نوٹ بنائیں اور اسے سالوں تک دہراتے رہیں۔ اچھی تعلیم یہ ہے کہ اساتذہ موضوع کے بارے میں تحقیق کریں، موضوع کو سمجھنے کے بعد تحقیقی مضامین لکھیں اور کیا نئی پیش رفت اس کے متعلق ہوسکتی ہے، ان سب کو بیان کیا جائے۔ جب استاد تحقیق کرنے کا عادی ہوتا ہے تو سیکھنے کے دروازے بھی مزید اس کے لیے کھل جاتے ہیں۔

 اس کے بعد جب استاد اپنی کلاس میں جاتا ہے تو وہ جدید علوم و تحقیق سے لیس ہوکر جاتا ہے ۔ اور وہ طلبہ کو نئی معلومات فراہم کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جامعہ کی یونیورسٹی کا نصاب ایک نصابِ تامہ کی حیثیت رکھتی ہے، جو شریک نصاب اور طلبا کی ایکسٹرا کریکولم سے پر ہے۔ اس میں طالب علم کو قراءت و سماعت کے علاوہ اپنی دلچسپی اور قابلیت کے مطابق کسی بھی غیر نصابی امور کا انتخاب کر کے اپنی ہمہ جہت ترقی کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی طالب علم موسیقی میں دلچسپی رکھتا ہے یا کسی کو کھیل پسند ہے یا کسی کو بحث کرنا پسند ہے، تو جامعہ ملیہ اسلامیہ اسے یہ موقع فراہم کرتی ہے۔ اور جامعہ چونکہ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں قائم ہے اس لیے یہاں ہر قسم کی سہولتیں دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی طالب علم اپنے گھر سے یہاں ڈگری لینے آتا ہے تو اسے 4-5 سال میں تعلیم کے ساتھ پیشہ سے بھی منسلک کردیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے جامعہ میں ایک طالب علم کی مجموعی ترقی پر دھیان دیا جاتا ہے۔

سوال : وائس چانسلر کے طور پر، آپ آنے والے چند سالوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو کس بلندیوں پر پہنچنا چاہتے ہیں؟

یونیورسٹی کے ایک ذمہ دار ہونے کے ناطے میرا وژن ان بلندیوں کو حاصل کرنا ہے اور ہوگا جس پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کسی وجہ سے آج تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم چیز ہمارا میڈیکل کالج کی تعمیر کا ہے۔ یہاں آنے والا ہر وائس چانسلر میڈیکل کالج کی تعمیر سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے وہ کامیاب نہیں ہوپاتے تھے ۔ کم از کم اس وقت یہ یقینی بات ہے کہ میڈیکل کالج کی منظوری حکومت کی طرف سے مل چکی ہے۔ اب نہ صرف میری بلکہ پورے جامعہ خاندان کی مستقبل کی حکمت عملی جامعہ ملیہ اسلامیہ کو میڈیکل کالج بنا کر اسے ایک مکمل یونیورسٹی میں تبدیل کرنا ہوگی۔ چونکہ جامعہ ایک مرکزی اور اقلیتی یونیورسٹی ہے اور ایسی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کو انتہائی دور اندیش ہونا چاہیے۔ میں بے خوف و خطر یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ وقت کچھ بھی رہا ہو، اگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو جواہر لال نہرو کے وقت میڈیکل کالج مل سکتا ہے تو جامعہ ملیہ اسلامیہ کو شری نریندر مودی کے رہتے میڈیکل کالج کیوں نہیں مل سکتا۔

سوال : جامعہ ملیہ اسلامیہ نے گزشتہ سال اپنا صد 100 سالہ سفر مکمل کر لیا، آپ اس صد سالہ سال سفر کی تکمیل پر جامعہ خاندان کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

جواب : جامعہ نے ان سو سالوں میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ اس کو اس طرح سمجھیں کہ ایک آدمی کا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے ہوتا ہے لیکن وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دینا چاہتا ہے۔ وہ رکشہ چلا کر اور مزدوری کر کے اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ بڑا آدمی بنے۔ جب وہ اس منصوبے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہی فرض جو اس کے بیٹے پر لاگو ہوتا ہے آج جامعہ سے جڑے ہر فرد پر یہی طریقۂ کار عائد ہوتا ہے، اور ہم سبھی کے لیے یہ سبق آموز بھی ہے۔

جامعہ کو اس مقام تک لے جانے کے لیے ہمارے اسلاف کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اب ہم اچھے حالات سے گزر رہے ہیں، تو ہم سبھی پر یہ فریضہ بنتا ہے کہ یہ رفتار کہیں نہ رکے۔ ہماری نظریں ہمیشہ اچھے مستقبل کی تلاش و جستجو میں ہونی چاہئیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کو مستقبل میں عالمی بلندیوں پر لے جانے کے لیے کون سے کورسس یا کون سے اقدامات کارآمد ثابت ہوں گے، اس لیے ہمہ تن و توش اقدامات کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، ہم جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسلاف کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اور میں امید دلاتا ہوں کہ جب تک میں بقید حیات ہوں میرا ہر سانس و عمل جامعہ کو وقف ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button