سیاسی و مذہبی مضامین

مسلمانوں کی مدد مسجد سے نہیں تو کہاں سے؟✍️محمد مصطفی علی سروری

منیر الدین پیشہ کے اعتبار سے ٹھیلہ بنڈی پر ترکاری فروخت کرتے ہیں۔ گھر پر پانچ بچوں اور بیوی کی ذمہ داری بھی ان پر ہی ہے۔ ایک بچی کی طبیعت خراب ہونے پر پہلے تو وہ محلے کی ڈسپنسری سے رجوع ہوئے جب وہاں پر طبیعت نہیں سنبھلی تو انہیں اپنی بچی کو خانگی دواخانہ لے جانا پڑا۔ گھر میں بچہ چھوٹا ہے اور لڑکیاں ہی بڑی ہیں تو انہیں مجبوراً اپنا ٹھیلہ بنڈی کا کاروبار بند کر کے اپنی بیٹی کے ساتھ دواخانہ جانا پڑا۔ چار دن میں ان کی بچی کو دوخانہ سے تو ڈسچارج کردیا گیا مگر آٹھ دن تک بھی وہ اپنا ٹھیلہ بنڈی کا کاروبار دوبارہ شروع نہیں کرسکے۔ جتنے پیسے تھے سب ختم ہوگئے تھے۔

اب انہیں اپنی ترکاری کی بنڈی دوبارہ شروع کرنی تھی اور اس کے لیے پانچ ہزار روپیوں کی سخت ضرورت تھی۔ منیر الدین نے محلے کے رہن سنٹر سے بات کی اور کچھ بڑے سیٹوں سے بھی بات کی۔ لیکن ان کی شرح سود سن کر ہی منیر الدین کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

اس دوران منیر الدین کو ان کی بیوی نے محلے کی مسجد جانے کا مشورہ دیا اور منیر الدین سیدھے مسجد کو چلے گئے۔

قارئین یہ نہ تو نماز کا وقت تھا اور نہ ہی مسجد میں کوئی مذہبی پروگرام چل رہا تھا نہ ہی منیر الدین مسجد میں نوافل پڑھ کر دعا کرنے گئے بلکہ منیر الدین نے مسجد کا رخ اس لیے کیا کہ وہ مسجد سے بغیر سود کے قرضہ حاصل کرسکیں۔

مساجد تو اللہ کا گھر ہوتی ہیں اور منیر الدین اللہ کے گھر میں اللہ کے ایسے بندوں سے ملنے گئے جو ضرورت مندوں کو بغیر سود کے قرضہ دیتے ہیں۔ منیر الدین کو بلاسودی قرضہ کے لیے ہری جھنڈی دکھادی گئی مگر ایک ہی شرط تھی وہ یہ منیر الدین کے متعلق مسجد کی کمیٹی کے دو اراکین سفارش کریں اور پھر جلد ہی یہ کام بھی ہوگیا۔ یوں منیر الدین دس دنوں کے بعد مسجد سے ملنے والے پانچ ہزار کے قرضے کی مدد سے اپنی ترکاری کی بنڈی کا کاروبار دوبارہ شروع کرلیا۔ انہیں قرضہ کی واپسی بھی بغیر سود کے کرنی تھی۔ ہر ہفتہ 300 روپئے واپس کرنا تھا۔ منیر الدین کے لیے یہ کوئی بڑی رقم نہیں تھی اور نہ ہی اس کی ادائیگی بڑا مسئلہ تھی۔ آخر کار کون ہے وہ لوگ جو مسجد میں بیٹھ کر اللہ کے ضرورت مند بندوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسجد کے منبر سے سود کی حرمت پر تقاریر تو ہر کوئی سنتا ہے لیکن مسجد کے احاطہ سے بلاسودی قرضے کے متعلق بہت کم سننے کو ملتا ہے۔

مالن بی کی عمر تقریباً 60 برس ہے۔ وہ لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنا اور اپنے شوہر کا پیٹ بھرتی ہے۔ مالن بی کے شوہر پہلے محنت مزدوری کرتے تھے۔ عمر کی زیادتی کے باوجود وہ کام کرتے کرتے تھے ۔ایک دن کام کے دوران سیڑھی سے پھسل کر ایسا گرے کہ اب تکلیف کی وجہ سے ان سے کام نہیں ہوتا۔ چار بچے ہیں۔ سب اپنی اپنی زندگی میں مگن ہیں۔ تین تو بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا ہے۔ لیکن اس کی بھی ذمہ داریاں زیادہ ہیں۔ کبھی کبھار وہ کچھ پیسے دے دیتا ہے۔

اپنے شوہر کے لیے وہ شوگر کی دوائیاں خریدنے کے لیے بڑی پریشان رہتی ہیں۔ آدھا دن وہ لوگوں کے گھروں پر کام کرتی ہیں اور اس محنت سے ہونے والی آمدنی سے شوہر کی ضروریات کا خیال رکھتی ہیں۔ ایک دن کام کرنے کے دوران مالن بی کو ایسا زور کا چکر آیا کہ وہ کام کرتے کرتے رک گئیں اور پانی پینے کے لیے اٹھ بھی نہ سکیں۔ چکر کھاکر گر گئیں۔ گھر والے کسی طرح چائے وغیرہ پلاکر آٹو سے گھر واپس بھیج دیا۔ قریبی ڈاکٹر کو بتلایا تو پتہ چلا کہ مالن بی کا بلڈ پریشر اچانک بڑھ گیا ہے۔

مارے ہیبت کے بچے کو فون کیا۔ شام ہوتے ہوتے جب بچہ گھر آیا تو ماں نے بتایا کہ ڈاکٹر نے بلڈ پریشر کی دوائی لکھ دی ہے جس کو روز استعمال کرنا ہے۔ چکر آنے کی وجہ بھی وہی بلڈ پریشر کا بڑھ جانا ہے۔ غرض لڑکے نے 400 روپئے دیئے اور کام پر واپس چلا گیا۔ مالن بی پریشان تھیں کہ اب تک شوہر کی شوگر کی دوا ہی مہنگی تھی۔ لیکن اب ان کو بھی بلڈ پریشر کی گولی روز کھانی ہے۔ کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ گھر کا کرایہ، دودھ، چاول، روٹی کے اخراجات اپنی جگہ اور چکر کے مارے وہ اگلے دن کام پر بھی نہیں جاسکیں تو اس دوران اس گھر کی مالکن کا فون آگیا جن کے ہاں وہ کام کرتے وقت چکر کھاکر گر گئیں تھیں۔ مالن بی نے تفصیلات بتلائی تو مالکن نے مشورہ دیا کہ پریشان مت ہو ہمارے گھر کو آئو، تمہارے مسئلے کا حل ہے۔

مالن بی پہلے تو خوش ہوگئی کہ شاید مالکن اس کی دوا کے پیسے دینے کے لیے تیار ہوگئی ہیں۔ لیکن وہ تیار ہوکر جب مالکن کے گھر گئیں جہاں وہ گھر کی صفائی اور برتن دھونے کا کام کرتی تھی تو مالکن نے مالن بی کے ہاتھوںں میں ایک مسجد کا پتہ تھمادیا کہ وہاں جائو تمہارا کام ہوجائے گا۔ مالن بی کو دل ہی دل میں غصہ آیا کہ یہ کیسی مالکن ہے جو جانتی ہے کہ 60 سال کی عمر میں بھی وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے محنت کرنے پر یقین رکھتی ہے تو وہ کیسے مسجد کو جائے گی تاکہ مدد مانگے۔ مالن بی کو بتلایا گیا کہ اس کو مسجد جاکر بھیک مانگنے کو نہیں کہا جارہا ہے بلکہ مسجد کے تحت چلائے جانے والے دواخانے سے رجوع ہوکر مہینے بھر کی بی پی کی دوا مفت میں حاصل کرنے کو کہا جارہا ہے۔

قارئین کرام منیر الدین ہوں یا مالن بی، ان دونوں کے مسائل حل کرنے والی مسجد کا نام ہے مسجد اشرف کریم، کشن باغ روڈ نمبر 9۔ شہر حیدرآباد، پن کوڈ 500064 ہے۔

شہر حیدرآباد کی اس مسجد اشرف کریم میں بلا سودی قرضے کا پروگرام ہو یا ضرورت مند مریضوں کے لیے مفت ادویات کی فراہمی۔ گھریلو خواتین کے لیے دینی تربیت ہو یا انہیں مہندی ڈیزائن سے لے کر ٹیلرنگ کا کام سکھانا ہو، یہ کام بھی مسجد اشرف کریم کے تحت ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں مسجد اشرف کریم کے تحت مقامی عوام کو آدھار کارڈ بنانے، آدھار کارڈ میں کریکشن کروانے کے لیے بھی رہبری کی جاتی ہے۔

تعلیمی محاذ پر بغیر کسی قابلیت کے راست دسویں کے امتحان تلنگانہ اوپن اسکول (ٹاس) اسکیم کے تحت لکھانے میں بھی مدد کی جاتی ہے۔

آخر مسجد اشرف کریم میں یہ سارے کام کون انجام دیتا ہے اور کیوں اس سوال کا جواب جاننے کے لیے میں نے صفاء بیت المال کے مولانا غیاث احمد رشادی صاحب سے بات کی۔ صفاء بیت المال کے ذمہ دار سے بات کا مقصد یہ تھا کہ مسجد اشرف کریم کی انتظامی کمیٹی اپنی مسجد کے تحت جتنے بھی رفاحی اور امدادی پروگرام چلا رہی ہے اس کے لیے انہوں نے صفاء بیت المال کا تعاون حاصل کیا ہے۔

مولانا غیاث احمد رشادی صاحب کے مطابق کشن باغ روڈ نمبر 9 ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں پر بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو معاشی طور پر پسماندہ ہیں۔ تعلیمی طور پر پچھڑے ہوئے اس علاقے میں آباد مسلمانوں کو کئی ایک مسائل کا سامنا ہے۔

جب مولانا رشادی سے پوچھا گیا کہ ہر تنظیم مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا ذکر کرتی ہے مگر ان کے ہاں کسی طرح کا ڈاٹا نہیں ہوتا تو اس سوال پر مولانا رشادی نے کہا کہ صفا بیت المال نے کشن باغ کے علاقے میں کام شروع کرنے سے پہلے علاقے کے تین ہزار مکانوں کا باضابطہ سائنٹفک انداز میں سروے کیا جس کے تحت 15 ہزار افراد کا احاطہ کیا گیا۔ اس سروے کی بنیادوں پر علاقے میں پہلے تو مسجد اشرف کریم کا انتخاب کیا گیا کیوں کہ مسجد اشرف کریم کی انتظامی کمیٹی بھی اس بات کی خواہشمند تھی کہ مسجد نماز کی جگہ تو ہے لیکن اللہ کے گھر میں اللہ کے بندوں کو درپیش ہر مسئلے کا حل بھی ملنا چاہیے۔ اسی نقطۂ نظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے علاقے میں مختلف رفاحی، فلاحی کاموں کا آغاز کیا گیا ہے۔

صفاء بیت المال نے مسجد اشرف کریم کی انتظامی کمیٹی کے تعاون سے مسجد کو صرف عبادت تک محدود رکھنے کے بجائے دعوت اور خدمت کے ایک مثالی مرکز میں بدلنے کی کوشش کی۔
سبھی مساجد میں فرض نمازوں کے بعد مسجد کو تالا لگادیا جاتا ہے لیکن مسجد اشرف کریم صبح فجر سے کھول دی جاتی ہے تو بعد عشاء بھی کھلی رہتی ہے۔ جہاں پر نمازوں کے علاوہ درس قرآن تو ہوتا ہے لیکن اس کے علاوہ تعلیم نسواں، یعنی گھریلو خواتین کو ضروری دینی مسائل سے واقف کیا جاتا ہے۔ ناظرہ قرآن، ضروری اردو انگریزی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ فنی تعلیم کے زمرے میں ٹیلرنگ سنٹر، مہندی ڈیزائن، مشین ایمبرائڈری اور پکوان کلاسس بھی لی جاتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں جو خواتین ٹیلرنگ سیکھ جاتی ہیں ان کو جاب ورک دلوایا جاتا ہے۔

شام چار بجے تا عشاء عصری تعلیم کے لیے اسکول جانے والے طلباء کو دینی تعلیم دی جاتی ہے اور سب سے اہم بات مسجد کے منبر سے صرف سودی کاروبار اور سودی قرضوں سے بچنے کی تلقین ہی نہیں کی جاتی بلکہ مولانا غیاث الدین رشادی کے مطابق محلے کے 200 سے زائد افراد کو 5 ہزار سے لے کر 10 ہزار کا بلاسودی قرضہ دیا جاتا ہے۔ محلے کے بیماروں کے لیے صفاء ہیلتھ کیئر سنٹر شام 6 تا 9 بجے شب کام کرتا ہے جہاں پر روز 50 تا 60 مریض آکر مفت تشخیص کرواکر ادویات حاصل کرتے ہیں۔ ہیلتھ کیئر سنٹر کے ساتھ ہی ڈیاگناسٹک سنٹر بھی چلایا جارہا ہے۔

قارئین کرام مساجد کو صرف عبادت تک مخصوص کرتے ہوئے ہم مسلمان بہت بڑی نا انصافی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مساجد اگر اللہ کا گھر ہیں تو اللہ کے بندوں کے ہر مسئلے کا حل بھی مساجد کے پلیٹ فارمس سے ہونا چاہیے۔

تعلیم کے حق میں مسجد کے منبر سے دیا جانے والا خطبہ کیسے اثر کرے گا۔ جب مسجد کے ہی پلیٹ فارم سے راست ایس ایس سی کا امتحان لکھنے کے لیے رہنمائی کی جائے تو ڈراپ آئوٹ نوجوان بھی مسجد سے جڑیں گے۔ خاص بات یہ کہ مولانا غیاث رشادی کے مطابق صفاء بیت المال کی جانب سے کشن باغ میں مسجد اشرف کریم کے تحت ایسے طلباء کو جو ریگولر اسکول نہیں جاسکتے تعلیم سے جوڑنے کے لیے تلنگانہ اوپن ایس ایس سی کے امتحان میں شرکت کے لیے رہنمائی کی گئی تھی اور 1100 طلبہ نے جاریہ برس مسجد اشرف کریم کی رہنمائی سے ٹاس کے امتحان میں شرکت اور کامیابی حاصل کی۔

جو پیغام ہمیں ملتا ہے مسجد اشرف کریم، کشن باغ 9نمبر روڈ سے وہ یہ کہ ہر مسجد کو اس طرح کا کام کرنا چاہیے۔ ہر مسجد کی کمیٹی کو فکر کرنا چاہیے کہ ان کی مسجد لوگوں کو عبادت کے لیے علاوہ خدمت اور دعوت کے لیے کام آسکتی ہے۔

اللہ کے بندوں کے مسائل اگر اللہ کے گھر میں حل نہیں کیے جائیں تو لازمی بات ہے کہ اللہ کے بندے پریشان ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو مساجد کے دروازے عبادت کے علاوہ خدمت اور دعوت کے لیے کھولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔ یارب العالمین۔

mustafa-ali-sarwari

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button