آزادی کے بعد خوشحال بھارت کا تصور لیے آزادی کی تحریکوں میں شامل بہت سے قدآور لیڈر و سیاسی رہنما نیا عزم لیے بھارت کے سیاسی ڈھانچے کو ترتیب دیتے ہوئے حکومت سازی میں شامل ہوکر نئے آئن کو تشکیل دینے میں کامیاب ہوئے جس میں دین، دھرم، مزہب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے آئن کو مرتب کیا جس میں ہر بھارت کے شہری کو برابر کا درجہ دیا گیا، چونکہ کسی مزہب سے اس آئن کا براہ راست کوئی واسطہ نہ تھا، بھارت کا آئن آبادی کے بڑے جم غفیر کو لے کر اپنے راستے کا تعین کرتے ہوئے چل پڑا تھا، ملک کے پہلے وزیراعظم محترم پنڈت جواہر لال نہرو مرحوم نے تقریباً ۱۷سال بطور وزیراعظم ملک میں کارفرما رہے، ایسی شخصیت جنہیں انگریزوں نے برسوں جیل کے قید خانے میں نظر بند رکھا تھا،
اپنے حراست کے دوران جناب پنڈت جواہر لال نہرو نے کتاب لکھی "ڈسکوری آف انڈیا” آپ کی لکھی اس کتاب کو کافی پزیرائی ملی، بہر کیف وزیر اعظم کے حلف برداری کے بعد بھارت کو اقتصادی ترقی فراہم ہوئی، بڑے بڑے صنعتی مراکز و کارخانوں کو قائم کیاگیا، تعلیمی ادارے قائم کیے، عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عدالتوں کو آزاد و خودمختار بنایا گیا، ملک کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجی قوت کو مزید استحکام کیا گیا، نیوکلیئر کارخانے قائم ہوئے آزادی کے بعد کچھ ہی دھاہیوں میں بھارت ایٹمی طاقت بن کر دنیا پوری میں ابھر چکا تھا، دنیا پوری میں بھارت ایٹمی ممالک میں شامل ہو گیا،
آزادی کے بعد چین و پاکستان سے معرکہ آرائی بھی ہوئی، فوجی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے بھارت سرخرو ہوا، نیز عالمی سطح پر بھارت اپنا اثر ورسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا، یہ خوشحالی کا دور چند دہائیوں پر مشتمل رہا، چونکہ مزہب، دین و دھرم کو حکومت سازی سے دور رکھا گیا، حکومت نے مزہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے مندر، مسجد، گردوارہ، چرچ کی اجازت دے رکھی تھی و اب بھی جاری ہے، سکھوں کی تحریک نے حکومت کو ایسا قدم اٹھانے کے لئے مجبور کیا جس سے حکومت و مزہب ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوئے، آپریشن بلیو سٹار جس میں فوجی مداخلت و قوت کو براہ راست حکومت نے استعمال کیا گولڈن ٹیمپل میں بھارت کے مسلح افواج نے فوجی کاروائی کی، یہ سبب بنا سکھوں کی ناراضگی کا، سکھوں کے مزہبی جزبات کو انتہائی گہری ضرب لگی،
ملک کے اندر پہلی بڑی فوجی قوت کو کسی مزہب کے ماننے والوں کے مزہبی مقام کو تہس نہس کرنے کے لئے کی گئی، اسی اثناء حکومتی کاروائی کے مغموم نشانات ابھی موجود تھے۔ ایک اور سانحہ رونما ہوا حکومت بابری مسجد کو منہدم ہونے سے روک نہ سکی، ۶؍۲؍۱۹۹۲ کو بابری مسجد پولس و انتظامیہ کی موجودگی میں مسمار کر دی گئی ، دوسرا بڑا تصادم مزہب اور حکومت کے مابین وقوع پذیر ہوا، بابری مسجد کی مسماری سے مسلمانوں کے مزہبی جزبات مجروح ہوئے، دس سال کے مختصر عرصے میں ملک میں بسنے والے اقلیتوں کو سیکولر آئن کے تحت چلائے جانے والے نظام نے ازخود مزہب کو بنیاد بنا کر تصادم کا راستہ اختیار کیا،
رفتہ رفتہ بھارت کا سیکولر جمہوری چہرہ دیگر مزاہب کے ماننے والوں کو ضرب پہچانے لگا، اسی اثناء آسڑیلیا کے عیسائی جوڑے کو زندہ جلا دیا گیا، یہ تیسرا واقعہ تھا جہاں سیکولر حکومت مزہبی پیروکار کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی، بھارت کے بڑے شہروں میں فسادات کا عام رواج شروع ہوا، ممبئی، دہلی، میرٹ، بھاگلپور، احمد آباد جسے بڑے صنعتی شہروں کو فسادات کی ہولناک آگ میں جھونک دیا گیا، سیکڑوں کی تعداد میں اقلیتوں کو موت کی آغوش میں پہنچانے والے فسادی عدالتوں سے بری کردیے گئے، گزشتہ مہینے ١٥ اگست ۲۔۲۲ کو بلقیس بانو کیس میں سزا یافتہ تمام ملزمان کو گجرات حکومت نے رہا کر دیا سال ۲۰۰۰میں آج کے وزیراعظم گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے،
گجرات کے احمدآباد شہر کو فسادات میں جھونکے کا کام منظم طریقہ کار سے کیا گیا، رفتہ رفتہ بربریت و ظلم کی داستان منظر عام پر اب رونما ہونے لگی، کس کی ایماء پر احمد آباد میں اقلیتوں کے خون کو صابر متی ندی میں بہایا گیا، احمد آباد فساد کو قابو کرنے کے لئے وفاقی حکومت نے فوج روانہ کی تھی جس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ضمیرودین تھے، فسادات کو روکنے نیز حالات کو قابو کرنے کے لئے جنرل احمد آباد میں موجود تھے، جو اب سبق دوش ہوچکے ہیں جنرل نے اس وقت کے حالات پر کتاب ازخود لکھ کر "سرکاری مسلمان” کے عنوان سے شائع کی ہے۔
اس کتاب میں ۲۰۰۲ء احمدآباد کے فسادات میں وزیراعلیٰ کے مخفی کردار سے پردہ اٹھایا ہے، تخریبی قوتیں حیوان بنکر احمد آباد کے سڑکوں، محلوں گلی کوچوں میں مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہے ہزاروں معصوم افراد کو مزہبی جنونی تخریب کار عناصر نے قتل کر دیا، بے گھر کردیا، بے شمار خواتین کی عصمت دری کی، کروڑوں کی املاک کو نظر آتش کردیا گیا، ان تمام تخریبی شرارتوں میں محترم ریاستی سربراہ کی خوش نودی نیز پست پناہی شامل حال تھی، بھیانک چہرہ سیکولرازم کی نفی کرتے ہوئے سیکولرازم کے خوبصورت لبادے میں سیاسی افق پر نمودار ہوا، اس نئے سیاسی چہرے نے اکثریت کے دلوں میں اقلیتوں کے خلاف نفرتوں کے بیج بوئے، حضرت نے ابتداء سے ہی اپنا موقف طے کر لیا تھا،
ایسے تمام حربے استعمال کیے جن سے اقلیت کو ہراساں کیا جاسکے، نہرو، گاندھی، شاستری کے بھارت کا روشن چراغ ہولے ہولے مدھم ہونے لگا، ترقی و خوشحالی کا دور اختتام پذیر ہونے لگا، اسی اثناء ۲۰۱۴ءاحمد آباد سے حضرت دہلی کے جانب واضح اکثریت ایوانوں میں حاصل کرکے روانہ ہوئے، تخریب کار عناصر کا تسلط پورے بھارت پر ہوچکا، حکومت حاصل ہوتے ہی موصوف کا پہلا "جملہ سب کا ساتھ سب کا وکاس” عوام الناس کے حق میں جاری ہوا، قول وفعل کا تضاد تجزیہ کا حامل ہے، انتہائی خوبصورتی سے عوام کو سبز باغ دکھائے گئے، ظلم و بربریت کی داستان رقم کرنے والے کس طرح سب کے ساتھ کی حمایت کرسکتے ہیں نیز وکاس کے لئے کوشاں ہو سکتے ہیں،
گزشتہ سات دہائیوں سے ملک میں قائم سرکاری صنعتی کارخانے، تعلیمی ادارے، ہوائی جہاز کے اڈے، ریلوے اسٹیشن، اس طرح کے دیگر عوامی املاک و سرکاری اثاثوں کو یک کے بعد دیگر موصوف نے فروخت کردیا، حتیٰ کے دہلی کا لال قلعہ کو بھی کرائے پر دے دیا گیا یہ کیسا وکاس ہیں جس کے ساتھ بے روزگاری، موت و ہلاکت کا لا متناہی سلسلہ شروع ہونے کو ہے، ہر باشعور بھارتی شہری بے بس ولاچار تخریب کاروں کے ہاتھوں ملک کو برباد ہوتے دیکھ رہا ہے، نیز کر بھی کیا سکتے ہیں، کسی فرد کو کوئی سوال کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے، گر کسی نے ہمت کرکے عدالت کا رخ کیا اس کا حشر عبرتناک داستان کی شکل میں رونما ہوتا نظر آتا ہے،
عدالتوں میں مقدمات پیش تو ہوتے ہیں پر نتیجہ انصاف پر ختم نہیں ہوتا فیصلہ میں بے انتہا تاخیر کرکے انصاف کو عدالتوں سے رخصت کردیا جاتاہے، گجرات حکومت نے بلقیس بانو کیس کے درندوں کو آزادی کے دن آزاد کرکے معاشرے میں پیغام دیا خواتین کی عزت و عفت کا کوئی احترام نہیں، ابھی ایک مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ پوپی میں لکھیم پور گاؤں میں چند درندوں نے بلقیس بانو جیسا سانحہ دوبارہ دوہرایا،دوسری جانب ملک کے سربراہ ان تمام حالات واقعات سے بے خبر لمبی تقریریں، من کی باتوں میں مصروف ہیں، کوئی ایک بھلائ کا کام اپنے سیاسی سفر میں موصوف کے حصے نہیں ہیں، کوئی ایک کام جس سے دنیا پوری میں بھارت کی پزیرائی ہوئی ہو نظر نہیں آتا،
نوٹ بندی مزید کویڈ ۱۹؍ کو جس بیدردی سے عوام کو ہراساں کرنے کے لئے استعمال کیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، تصور بالا میں ہر باشعور بھارت کا شہری حضرت کے تعلق سے ظلمتوں کو جارہا، موصوف ہر سطح پر کامیابی کے جھنڈے لہرا سکتے تھے، انہیں واضح اکثریت ایوانوں میں حاصل ہے، تاہم ایوانوں میں حاصل اکثریت کو صرف اپنے مفاد میں استعمال کیا جاتا رہا، اقلیتوں کو دیوار سے لگانا انہیں ہراساں کرنا موصوف کا دلچسپ مشغلہ رہا ہے یہی کردار ہیں جس سے بھارت کے روشن چراغ کو نقصان پہنچ رہاہے، تصور حضرت کا ظلمتوں کو ہی لے جاتا ہے۔



