جودو سخا کی عظیم مثالیں-حضرت حبیب الامتؒ
کنجوسی اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔
اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے فیاضی، سخاوت، رحم وکرم، فضل احسان اور جو دو رحمت۔ اور جس بندے میں یہ صفات ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ اس کو پسند فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیار میں سخی کا خاص مقام ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے شیطان سے دریافت فرمایا تھا کہ تیرا دشمن کون ہے اور دوست کون؟ تو ابلیس نے کہا: کنجوس یعنی بخیل عابد میرا دوست ہے اور سخی نافرمان میرا دشمن ہے۔ کیوں کہ عابد کی بخالت کی وجہ سے مغفرت نہیں اور سخی نافرمان کی سخاوت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مغفرت فرماسکتے ہیں۔
علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ کنجوسی اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ یعنی جب دل میں ایمان داخل ہوجاتا ہے تو بخالت قلب سے نکل جاتی ہے، سخاوت اور فیاضی ایمان کی بڑی علامتوں میں سے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ کی مبارک زندگی کے آخری ایام میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر فتوحات کے دروازے کھول دئیے، اور آپ دن رات صبح وشام ہر آنے والے کی ضرورت پوری فرماتے۔ کسی کو درہم، کسی کو دینار، کسی کو کپڑا، کسی کو اونٹنی، بکری، گائے اور دیگر ضروری اشیاء جات عطا فرماتے۔
ایک موقع پر ایک بدو نے آپ کی چادر مبارک اپنی طرف کھینچ لی اور ضرورت سے زیادہ طلب کیا۔ آپ ﷺ کو ناگوار گزرا لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے فرمایا: واللہ میرے پاس جو بھی آتا ہے اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں۔ میں تمہیں اس میں سے ضرور دوں گا، محروم نہیں کروں گا۔ میری چادر تو چھوڑ دو۔
سخاوت کی جو عظیم مثالیں صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ میں ملتی ہیں یا بعد کے تابعین اور دیگر مسلمانوں میں ملتی ہیں وہ سب حضورﷺ کی تعلیمات اور آپ کی صحبت خاص کا فیضان ہے کہ آپ نے دنیا کو بتا دیا کہ مسلمان مال سے محبت نہیں کرتا۔ مال تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والی چیز ہے، جمع کرکے رکھنے والی چیز نہیں ہے۔
حضور ﷺ کی مجلس کا فیضان
حضور اکرم ﷺ کی مجلس میں شریک ہونے کے بعد انسان کا دل سخاوت، شجاعت اور فیاضی سے پر ہوجاتا تھا اور ایثار وقربانی کا عظیم درجہ آپ ﷺ کی صحبت خاص سے حاصل ہوجاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صحابہ جو اسلام سے پہلے دنیوی اعتبار سے کنگال تھے اللہ تعالیٰ نے جب ان کو غنی کردیا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دنیا کو لٹایا اور ان میں سے اکثر رو کر یہ کہتے تھے کہ الٰہی ایسا تو نہیں کہ آپ ہمیں دنیا ہی میں دے کر رخصت فرمادیں اور آخرت میں محروم رہ جائیں۔ اے اللہ! آخرت میں اپنے فضل وکرم اور اپنی نعمتوں سے محروم نہ کرنا۔
ایک ہی گھر میں علم سخاوت اور حسن وجمال
رسول اکرم ﷺ کے چچا حضرت عباس کے ایک صاحبزادے حضرت عبید اللہ ہیں جن کا شمار صغار صحابہ میں ہوتا ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے عمر میں ایک سال چھوٹے تھے، آپ کا پیشہ تجارت تھا، مال کماتے تھے اور اللہ کی راہ میں لٹاتے تھے، آپ کی سخاوت وفیاضی بہت مشہور تھی، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں یمن کا حاکم مقرر کیا تھا اور چھتیس ہجری میں امیر حج کے فرائض بھی انجام دئیے۔ ۶۸ھ میں مدینہ منورہ میں آپ نے وفات پائی اور ایک قول کے مطابق ۶۷ھ میں انتقال فرمایا۔
آپؓ کی سخاوت کے بہت سے واقعات کتب تاریخ میں نقل کئے گئے ہیں۔ امام مغازی علامہ واقدی اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ مدینہ میں یہ بات مشہور تھی جسے علم، سخاوت اور حسن وجمال تینوں دیکھنا ہے وہ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہکے گھر چلا جائے کیوں کہ حضرت عبد اللہ وگوں میں سب سے زیادہ علم والے تھے اور حضرت عبید اللہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور حضرت فضل رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔
دین اور دنیا ملنے والا گھر
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تشریف فرما ہیں اور لوگ آ آکر ان سے سوالات کر رہے ہیں وہ ان کے جوابات دے رہے ہیں اور گھر کی دوسری جانب میں حضرت عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں جو ہر آنے والے کو کھانا کھلا رہے ہیں، گھر کا یہ منظر دیکھ کر وہ اعرابی کہنے لگا کہ جسے دنیا وآخرت دونوں چاہئے وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کو لازم پکڑلے، وہاں ایک آدمی لوگوں کو فتوے دے رہا ہے اور علم وفقہ سکھا رہا ہے تو دوسرا کھانا کھلا رہا ہے۔
ایک اونٹ روزانہ ذبح کرتے
حضرت عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی عادت یہ تھی کہ روزانہ ایک اونٹ ذبح کراتے اور لوگوں کو کھلاتے۔ ایک مرتبہ آپ کے بھائی حضرت عبد اللہ tنے تنبیہ کی کہ تم روزانہ ایک اونٹ ذبح کر ڈالتے ہو؟حضرت عبید اللہ tنے جواب دیا کہ بھائی جان! اونٹ بہت ہیں اور اب بخدا میں روزانہ دو اونٹ ذبح کیا کروں گا۔
| اردو دنیا واٹس ایپ گروپ https://chat.whatsapp.com/C6atlwNTZ9M9y5J2MFYNGx جوائن کرنے کے لئے لنک کلک کریں |
سخاوت کا تیز دھارا
حضرت عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو آپ کی انتہائی سخاوت کی وجہ سے ’’دریائے فرات کا تیز دھارا‘‘ کہا جاتا تھا، آپ روزانہ کھانا کھلایا کرتے تھے اور صبح اونٹ ذبح کراتے تھے، آپ کے والد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہا کہ بیٹے! تم صبح کا کھانا کھلاتے ہو اور شام کا کھانا نہیں کھلاتے کیا بات ہے؟ جس طرح تم صبح کا کھانا کھلاتے ہو اسی طرح شام کا کھانا بھی کھلایا کرو۔ چنانچہ حضرت عبید اللہ tنے اپنے ایک غلام کو حکم دیا کہ تم صبح اور شام دونوں وقت اونٹ ذبح کیا کرو۔
بازار میں اونٹ کے ذبح کرنے کی جو جگہ تھی وہاں آپ برابر اونٹ ذبح کراتے اور لوگوں کو کھلاتے تھے جس کی وجہ سے وہ مذبح آپ ہی کی طرف منسوب ہوکر ’’مذبح ابن عباسؓ‘‘ مشہور ہوگیا۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی استقامت
خاندان بنو ہاشم میں عبد اللہ بن جعفر، حسن بن علی اور عبید اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنے زمانے کے مشہور سخی اور فیاض لوگوں میں سے تھے۔ ایک مرتبہ یہ بات چل پڑی کہ ان تینوں میں سے کون زیادہ سخی ہے؟ چنانچہ کہنے والے نے کہا کہ ہم نے کثیر مال دینے میں حضرت حسنؓ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا اور حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ سے بڑھ کر قلیل وکثیر مال کو دینے والا کسی کو نہیں دیکھا اور حضرت عبید اللہؓ کے مکانات سے جس گھڑی بھی ہمارا گزر ہوا ہم نے وہاں تر روزی پائی ہے۔
حضرت عبید اللہؓ روزانہ ایک اونٹ ذبح کرتے تھے جس کی وجہ سے اونٹوں کی کمی ہوگئی اور ان کی قیمت بڑھ کر پندرہ سے بیس دینار تک جاپہنچی۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ نے ناگواری کا اظہار فرمایا اور آپ کو ملامت کی اور کہا کہ اس کا تو مال باقی ہی نہیں رہ سکتا ہے۔ تو حضرت عبید اللہؓ نے کہا کہ میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کی سخاوت
حیرت انگیز واقعات میں حضرت شیخ الاسلام کے بہت سے واقعات درج ہیں، ان میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک صاحب باشرع، شیروانی اور ٹوپی پہنے دیوبند بس اڈے پر فروٹ کی ٹھیلی لگاتے تھے لیکن کھانا دونوں وقت پابندی سے حضرت شیخ الاسلام کے دستر خوان پر کھاتے۔ ایک بار حضرت نے محسوس کیا کہ شیر وانی والے بڑے میاں کئی دنوں سے دستر خوان پر موجود نہیں ہیں، حضرت نے اپنے خادم حاجی سلیم سے پوچھا کہ وہ بڑے میاں کہاں ہیں، کیوں نہیں آرہے ہیں؟
تو سلیم صاحب نے کہا کہ حضرت میں نے ہی ان کو منع کردیا ہے کہ تم کام اپنا کرتے ہو اچھا خاصا کماتے ہو اور کھانا یہاں کھاتے ہو، یہاں مت آیا کرو۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے سنا تو سخت ناراض ہوئے فرمایا: ان کے پاس جاؤ معافی مانگو، اگر وہ آنے پر راضی ہوں تو تم بھی ان کے ساتھ آنا ورنہ تم کو یہاں آنے کی اجازت نہیں۔ چنانچہ سلیم دوڑے دوڑے گئے اور بڑے میاں سے جاکر معافی مانگی اور بلاکر لائے، حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا میرے مہمان کو دستر خوان سے اٹھانے کا تم کو کس نے اختیار دیا ہے؟ اور بڑے میاں سے شفقت کا معاملہ فرمایا کہ بڑے میاں ہمیشہ آؤ یہ دستر خوان آپ ہی کا ہے۔ سبحان اللہ! ایسی عظیم مثالیں ہمارے سامنے ہیں، دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی راہ میں ہر اعتبار سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!



