غزہ کی زخمی مریم کا ایمان افروز مقولہ : میری کٹی ہوئی ٹانگ میرے خاندان کی طرح جنت میں ہے
مریم اسرائیلی حملے میں اپنے ماں باپ، بھائی اور اپنی دائیں ٹانگ کھو چکی ہیں
دوحہ، ۷؍اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)’میری کٹی ہوئی ٹانگ میرے خاندان کی طرح جنت میں ہے‘۔یہ کہنا تھا غزہ سے علاج کے لیے قطرمنتقل ہونے والی چھ سالہ مریم کا جو فروری میں غزہ میں اپنے گھر پر ایک اسرائیلی حملے میں اپنے ماں باپ، بھائی اور اپنی دائیں ٹانگ کھو چکی ہیں۔اپنی نئی وہیل چیئر پر رنگ برنگے پھولوں کے پرنٹ کی اسکرٹ پہنے دوحہ کے ثمامہ کمپلیکس کے ارد گرد گھومتی ہوئی اور کسی بھی جاننے والے کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی مریم جس کی کٹی ہوئی ٹانگ سے اوپر کا حصہ اسکرٹ سے جھانکتا ہوا نظر آرہا ہے،عزم کی ایک تصویر دکھائی دیتی ہیں۔وہ اس کمپلیکس میں موجود لگ بھگ ان دو ہزار بچوں میں شامل ہیں جو غزہ کے جنگی میدانوں سے دور ایک نئی زندگی میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مریم ان خوش قسمت لوگوں میں شامل تھیں جنہیں مئی کے شروع میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ سے رفح کراسنگ کی بندش سے قبل علاج کے لیے مصر کے راستے نکالا گیا تھا۔
ان کی بیس سالہ آنٹی فرجلہ جن کے ساتھ وہ غزہ سے علاج کے لیے قطر منتقل ہوئی ہیں کہتی ہیں کہ مریم اب نفسیاتی طور پر پہلے سے بہتر ہیں۔دونوں کو اب تک وہ گھر یاد ہے جہاں وہ اکٹھی رہتی تھیں، اور جو دو اسرائیلی مزائیلوں کے حملے میں تباہ ہوا تھا۔دوحہ آنیکے بعد مریم نے دو ماہ زیادہ تر حماد جنرل اسپتال میں گزارے جہاں ان کی ٹانگ کو مکمل طور پر الگ کرنے کے لیے تین آپریشن ہوئے۔اب ثمامہ کمپلیکس میں ان کا نفسیاتی علاج ہو رہا ہے، دوحہ کا یہ کمپلیکس ابتدائی طور پر 2022 کے فٹ بال ورلڈ کپ کو دیکھنے کے لیے آنے والے پرستاروں کی رہائش کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔اب اس میں غزہ سے طبی علاج کے لیے آنے والے ایک ہزارافراد کو، جن میں سے لگ بھگ تین سو اپنے اعضا کھو چکے ہیں، انکے سر پرستوں کیساتھ ٹھہرایا گیا ہے۔ فرجلہ نے بتایا کہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی ہولناکیوں کے بعد دولتمند خلیجی امارات میں زندگی کو ڈھالنا مریم کو کنفیوزنگ رہا ہے۔ وہ رات کو مجھ سے بہت سے سوال پوچھتی ہے۔خود فرجلہ کے لیے یہ تبدیلی عجیب سی رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہاں ہر چیز میسر ہے۔ لیکن وہ سوال کرتی ہیں کہ غزہ دوسرے ملکوں کی طرح کیوں نہیں ہے۔ وہ مقبوضہ کیوں ہے؟
حماد میڈیکل کارپوریشن کے اسپیشل ایجو کیشن ڈپارٹمنٹ کے سر براہ موسیٰ محمد ثمامہ کمپلیکس میں تین سے چھ سال کی عمر کے 190 بچوں کے لیے گروپ تھیرپی کلینکس چلاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان سیشنز میں جن میں سوشل اسکلز اور آرٹ تھیرپی شامل ہے، بحالی کے لیے اہم ہیں۔محمد نے وضاحت کی کہ تین ماہ قبل یہ بچے سکون سے نہیں بیٹھ سکتے تھے اوران پر تشدد کے دورے پڑتے تھے جس کے تحت ان میں سے کچھ دروازوں کو ٹھوکریں مارتے تھے اور اپنے ارد گرد کے بچوں کو، لوگوں کو مارتے پیٹتے تھے۔محمد نے بتایا کہ ان سیشنز میں بہتری خاصی مشکل رہی ہے لیکن وقت کے ساتھ اب بچے زیادہ تعاون کرنے لگے ہیں۔
اب ان کے جارحانہ اور سیشنز میں شرکت سے انکار کے رویے تبدیل ہو گئے ہیں اور اب ہم کوشش کررہے ہیں کہ انہیں اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ خود سے روزانہ ان سیشنز میں شرکت کریں۔دس سالہ کریم الشاعیہ اپنی بائیں ٹانگ سے محروم ہونے کے باوجود اپنی بائیسکل چلاتے ہیں۔ ان کی ٹانگ کو اس کے بعد گھٹنے سے نیچے سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا تھا ،جب غزہ میں اپنے فیملی گارڈن میں کھیلتے ہوئے انہیں ایک بم کا تکڑا آکر لگا۔ اس وقت سب کچھ اچھا جا رہا تھا۔ ہم گھر سے باہر فن کر رہے تھے جب انہوں نے ہمارے گھر کے قریب ایک ریسٹورنٹ پر بمباری کی اور بم کا ٹکڑا اُڑکر وہاں پہنچ گیا۔



