سیاسی و مذہبی مضامین

بلاؤں کے سایہ میں

اس وقت دنیا ناگفتہ بہ حالات سے دو چار ہے، سب کی پریشانیاں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، ہر کوئی ڈر اور خوف کی زد میں ہے، ہر طرف مہاماری کا ماحول ہے، اموات کی بہتات ہے، ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے خطرناک ثابت ہورہا ہے ، روزانہ کثیر تعداد میں موت کی خبریں سامنے آرہی ہیں،  قبرستان میں جگہ خالی نہیں وہیں شمشان میں لکڑیاں کم پڑرہی ہیں، ہسپتالوں میں بھی جگہ نہیں ڈاکٹروں کے پاس علاج نہیں ، سانٹس دوا بنانے سے قاصر ہیں،
 
اس بلا کے تقریباً سال بھر ہو گئے لیکن علاج ندارد،  بڑے بڑے سانس دان ہار مان چکے ہیں، خود کو زمین کا خدا کہنے والے  اپنے دربے میں بند ہیں اور چھٹکارے کی تدبیر کرہے ہیں، فیشن زدہ ممالک اپنی دنیاوی عظمتیں کھو چکے ہیں، خدائی نظام کے آگے خود کو پیش کرنے والے اور اس کو بدلنے والے آج بے بس نظر آرہے ہیں،
ہر طرف ایک وبا نے سب کو آگھیرا ہے، اور ہر کوئی گھٹنے کے بل پڑا ہوا ہے، وبا نے اپنا سایہ اس انداز میں پھیلا دیا ہے کہ حقیقی اور غیر حقیقی میں فرق نہیں ہوپارہا ہے، جس کسی کو بھی سایہ پڑجاتا ہے دنیا اندھیری ہوجاتی ہے،  
در اصل یہ ایک آسمانی وبا ہے ۔۔ بقول حضرت تقی عثمانی۔۔۔ یہ ایک آسمانی عذاب ہے جو ہماری کرتوتوں کی وجہ سے ہم پر نازل کیا گیا،
اس میں کوئی شک نہیں کہ جب جب بھی انسان خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے اور قدرتی نظام سے بغاوت پر اتر آتا ہے ، آسمانی احکامات کو پاؤں تلے روندنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر اس کی تنبیہہ ہوتی ہے ، اور اسے مختلف طریقوں سے آگاہ کیا جاتا ہے اگر وہ مان لے تو پھر عذاب ٹل جاتا ہے، معلوم ہونا چاہیے کہ یہ دنیا خدا کی بنائی ہوئی ہے کسی کے باپ دادا کی جاگیر نہیں یہاں قانون صرف اللہ کا چلے گا ، اس قانون سے اوپر کسی کا قانون نہیں چلے گا، اگر کوئی چلانے کی کوشش کریگا اور پوری قوم اس کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے تو پھر اس کی تنبیہ ضروری ہوتی ہے،
اسی طرح اگر دنیا میں بسنے والے انسانوں کو خدا کی دی ہوئی بے بہا نعمتوں کے باوجود اگر ہمہ وقت اس کی نافرمانی میں لگ جائے تو بھی یقینا تنبیہ ہونی ہے  اب اس کی شکل چاہئے جو کچھ ہو،تاریخ ہمیں قوم لوط قوم ثمود، قوم، عاد، نمرود ہامان، قارون، سے سبق لینے کی دعوت دیتی ہے، ساتھ ہی ساتھ یونس علیہ السلام کی قوم سے بھی سبق لینے کی دعوت دیتی ہے کہ انہوں نے سرکشی کی لیکن جب عذاب کا یقین ہوگیا تو سبھوں نے توبہ کرلی اس طرح سے انہیں نجات ملی،
اس وقت جبکہ کرونا وائرس نامی وبا سے ہم جھوج رہے ہیں حقیقت چاہئے جو کچھ بھی ہو لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، *اگر یہ سازش ہے حکمرانوں کی تب بھی آزمائش ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کیلئے ذرائع پیدا فرماتے ہیں* دنیا لاکھ احتجاج کرے لاکھ فریب کا نعرہ لگائیے لیکن حقیقت میں یہ بھی آزمائش ہے اگر چہ براہ راست نہیں ہے لیکن وسیلے سے ہے،
کیوں کہ ظالم حکمرانوں کا مسلط ہو جانا یہ خود آزمائش ہے اور اب وہ جو کچھ بھی کرے وہ ہماری کرتوتوں کا پھل ہوگا، جیسا کہ حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نافرمانیاں عام ہو جاتی ہیں تو پھر ظالم حکمران مسلط کردئیے جاتے ہیں،
اب ہماری چیخ و پکار سے کچھ حاصل نہیں ہاں یہ چیخ و پکار اگر اللہ کے سامنے کریں گے تو ممکن ہے ہمارا بیڑا پار ہو جائے،جتنا آج ہم سازش کں ناکام کرنے میں لگے ہیں اور ایک دوسرے کو کوس رہے ہیں حکومت وقت کو برا بھلا کہ رہے ہیں اگر اتنا ہم اللہ تعالی کے دربار میں شکوہِ لیکر حاضر ہوئے ہوتے تو اب تک یہ صورت حال نہ ہوتی ،
ہر شخص اپنی اصلاح کی فکر کرے خود بخود دوسرے کی اصلاح ہو جائے گی،
میری گزارش ہے تمام انسانوں سے کہ اگر یہ وبا سازش ہے تو یہ سازش اللہ تعالیٰ کے یہاں سے ہی ختم ہوگئی کیونکہ وہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم پہلے توبہ تو کریں اس کے دربار میں شکایت لیکر تو جائیں ، اپنی کوتاہیوں پر نادم و پشیمان تو ہوں،
پھر ایک سے ایک ذرائع پیدا ہوں گے اور حقیقت کھلنا شروع ہوگی اور پھر اس مہا ماری کا خاتمہ ہوگا، لیکن اگر معاملہ برعکس رہا تو ایک مدت بیت جائے گی اور ہم حکومت کو کوستے رہیں گے یہاں تک کہ درگوں حالت میں ہم دنیا سے رخصت ہو جائیں گے،

اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے،

متعلقہ خبریں

Back to top button