سیاسی و مذہبی مضامین

مجلس رحیمی

حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی  نے ارشاد فرمایا: جب آدمی ایماندار بنتا ہے تو خدا کی قسم اس کی زندگی ہی میں نہیں اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ آدمی پہلے اندر سے ارادہ تو کرے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ امانت داری مومن کی سب سے خاص الخاص صفت ہے۔

حضرت تھانویؒ کا اہم واقعہ

فرمایا حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ایک بڑے عالم دین کو خلافت دی وہ ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں آئے تو کہا کہ حضرت بچے کو آپ کی خدمت میں دعا کے لئے لے کر حاضر ہوا ہوں، فرمایا خوشی کی بات ہے پھر دریافت فرمایا کہ اس کی عمر کیا ہے؟ عرض کیا حضرت اس کی عمر تو بارہ سال ہے فرمایا تم نے اس کا ٹکٹ بھی لیا ہے یا نہیں؟ ٹرین سے آئے عرض کیا کہ حضرت ٹکٹ تو اس کا اس لئے نہیں لیا کہ یہ گیارہ سال کا لگتا ہے اور گیارہ سال کے بچے کا ٹکٹ نہیں ہے۔ (اس زمانہ میں گیارہ سال تک کے بچے کا ٹکٹ نہیں تھا) تو حضرت نے فرمایا ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ مولانا آپ نے دین کو سمجھا ہی نہیں آپ نے چند پیسے کے فائدہ کی خاطر حکومت کا نقصان کیا ہے آپ جب بچے کو لارہے ہیں تو بچے کا ٹکٹ آپ کو لینا چاہیے تھا ا آپ نے نہیں لیا، جب کہ بارہ سال کے بچے کا ٹکٹ لینا ضروری ہے جب آپ دو آنہ تین آنہ کیلئے بے ایمانہ کرسکتے ہیں تو بڑی بڑی چیزوں کے معاملے میں آپ کتنی بے ایمانی کرتے ہوں گے حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی اللہ معاف فرمائے میں نے خلافت آپ کو دی تھی اسے واپس لیتا ہوں بس اتنی سی بات پر حضرت نیخلافت واپس لے لی، اسی لئے آپ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

امانت داری کے بغیر ایمان نامکمل

آج امانت داری اپنے سماج اور معاشرے سے اور ہمارے اپنے مزاجوں سے نکل چکی ہے او رہم امانت داری کو بے وقوفی سمجھتے ہیں، امانت داری جب تک انسان اختیار نہیں کرے گا اس کا ایمان مکمل نہیں ہوگا امانت داری کے بغیر روزہ ، نماز وغیرہ قبول نہیں ہے۔

آج منھ دیکھ کر سلام کا رواج بن گیا

دو ستو! آج مسلمان نے چھوٹی چھوٹی سنتوں کو ترک کردیا ،نبی اکرم e کی بڑی بڑی سنتوں کو اپنانا تو بڑی بات ہے آپ e کی چھوٹی چھوٹی سنتیں ہماری زندگی میں ہونی چاہئے تھیں وہ ہم نے چھوڑی ہی نہیں بلکہ بالکل بھلا دی ہیں اور ایسی بھلائی ہیں کہ اب ہم ان کویاد کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے ہیں، حضواکرم e کی صفت رحمت یہی تو ہے کہ حضور اکرم گھر میں جارہے ہیں تو ’’السلام علیکم‘‘ کہتے ہیں آج کوئی جو اپنے بچوں کو اور اپنی بیویوں کو گھر میں جاکر سلام کرے تو توہین سمجھتے ہیں۔

گھر میں داخل ہونے پر اللہ کے نبی  نے فرمایا کہ سلام کرو اور ہم لوگ ہیں کہ سلام نہیں کرتے، بچوں کو بھی اللہ کے نبی  سلام کیا کرتے تھے چھوٹا بچہ بھی مل جاتا تو فرماتے ’’السلام علیکم‘‘ اور آج ہم انتظار میں رہتے ہیں کہ سامنے والا آدمی سلام کرے گا ہم کیوں کریں ہم تو بڑے ہیں وہ چھوٹا ہے، حالانکہ سلام کرنے میں بڑے اور چھوٹے کی قید نہیں بلکہ آپeبڑوں کو بھی اور چھوٹوں کو بھی سلام کرتے تھے، حضور اکرم e نے ارشاد فرمایا کہ اخیر زمانہ میں سلام کا رواج ختم ہوجائے گا اور لوگ ان ہی کو سلام کریں گے جن کو پہچانتے ہوں جانتے ہوں ،چہرہ جانا پہچانا ہوا تو سلام کیا جائے گا اور چہرہ جانا پہچانا ہے تو سلام نہیں کریں گے۔

حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی  نے ارشاد فرمایا: آج مسلمان چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے لڑتے ہیں اور اپنی ناک کا مسئلہ بنالیتے ہیں ۔ حضور  نے کبھی کسی چیز کو ناک کا مسئلہ نہیں بنایا۔ آپ  نے انسانیت سکھائی ہے بردباری سکھائی ہے مخلوق پر رحم کرنا سکھایا، ایک دوسرے سے غمگساری کا جذبہ سکھایا ،محبت والفت کا در س دیا ، یہ حضور کی سیرت ہے۔

دوستو! اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بناکر بھیجا اگر حضور  کی صرف اسی سیرت حرمت کو ہم دنیا میں اپنالیں تو خدا کی قسم ہمارے گھر جنت کا نمونہ بن جائیں، لیکن آج ایسا نہیں ہے آج تو صرف سڑکوں اور گلیوں کو روشن کیا جارہا ہے، کیا یہی سیرت ہے؟ ایسا تو غیر مسلم بھی اپنے دیپائولی کی خوشی میں روشنی کرتے ہے آج نہ جانے کس کس کا بت بناکر لوگ نکالتے ہیں جیسے گنیش وغیرہ ان کی نقل کرتے ہوئے مسلمان کی آپ  کے روضہ اور کعبۃ اللہ کی شبیہ بناکر گلیوں میں لے کر پھرتے ہیں کیا یہ محبت ہے؟

اس کو محبت نہیں کہتے یہ تو حضور اکرمeکے روضہ کی بے حرمتی ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سب باتوں کو پوچھیں گے اور آپ کو ہر بات کا جواب دینا پڑے گا۔ کہ اس ہنگامے ،ناچنے ا ور گانے میں جتنے بھی خرافات آج شروع ہورہے ہیں اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں اس سے ہر مسلمان کو بچنا ہے

اسلام کی انفرادیت

فرمایا: آج کوئی خاندان یا قبیلہ عیسائی بنتا ہے اگر چہ مذہب اسے انجیل سے ملتا ہے مگر تعلیم اور اخلاق وتہذیب یورپ وامریکہ کے خود ساختہ تمدن ہی سے ملتی ہے لیکن وہی قبیلہ اگر مسلمان ہوتا تو جہاں سے اسے مذہب ملتا ہے وہیں سے اسے ساری رہنمائی مل جاتی ہیں اس کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے باہر جانے کی قطعاً ضرورت نہیںاس لئے کہ اسلام ہمہ گیر ہمہ جہت اور آفاقی مذہب ہے جو ساری دنیائے انسانیت کے لئے ہے، اور ساری تعلیمات اسی میں ہیں۔

پڑوسی بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے

فرمایا: آج ہم کسی کا پڑوسی بننے یا کسی کو اپنا پڑوسی بنا نے کیلئے تیار نہیں ہیں، کیوں کہ پڑوسی کا مطلب ہے کہ ہم کو اس کے ساتھ ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنا ہے ، اس لئے مالدار طبقہ تو اب چھٹ کر افیشیل علاقہ میں چلا گیا جہاں پڑوسی کاکوئی تصور نہیں، دس سال بھی رہ جاؤ کیا مجال ہے کہ آپ کو پڑوسی ڈسٹرب کرے یا آپ اپنے پڑوسی کو پریشان کریں ۔ یہاں تک کہ پڑوسی کے نام سے بھی واقفیت نہیں ہوتی ۔ یہ آج کے انسان کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ انسان اپنے جیسے انسان سے بیزار ہے اور قریب ہوتے ہوتے دور ہے؟ حالانکہ حضور سرور کائناتe نے ارشاد فرمایا ۔ اچھا پڑوسی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میںہے جو تم کھاؤ اس میں سے اپنے پڑوسی کو بھی کھلاؤ ۔

غریب اور ان پڑھ مسلمان کی حالت

فرمایا: آج عام طور پر مسلمان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی دال روٹی کے چکر میں صبح سے شام تک کچھ کماتا ہے ۔ اسے نہ سنت کا خیال ہے نہ قرآنی احکامات کا ۔ بس اس کا چکر بندھا ہوا ہے ، صبح جاتا ہے شام کو تھک ہار کر گھر آجاتا ہے، ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی ہوتی ہے،اس میں کچھ ضروری کاموں سے فارغ ہوجاتا ہے، پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کیلئے اسکے پاس سوائے دو چار میٹھے بول کے کچھ نہیں ہے ،گھرمیں اچھے سے اچھا پکاتے ہیں ، خوب کھاتے ہیں بچ جاتا ہے تو کام کرنے والے ملازمین کو دیتے ہیں اور پھر بھی بچ گیا تو پھینک دیا جاتا ہے ، لیکن پڑوس کو کچھ بھیجنا یا دینا عیب سمجھا جاتا ہے ،

اگر پڑوسی نے کچھ مانگ لیا تو صاف انکار ، اور اگرلحاظ میں دیدیا تو لینے والے پڑوسی کو کبھی واپسی کا خیال نہیں آتا،دل ایسے سخت اور سیاہ ہوگئے کہ آپسی بھائی چارگی اور حسنِ سلوک کی فرمایا: آج عام طور پر مسلمان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی دال روٹی کے چکر میں صبح سے شام تک کچھ کماتا ہے ۔ اسے نہ سنت کا خیال ہے نہ قرآنی احکامات کا ۔ بس اس کا چکر بندھا ہوا ہے ، صبح جاتا ہے شام کو تھک ہار کر گھر آجاتا ہے، ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی ہوتی ہے،اس میں کچھ ضروری کاموں سے فارغ ہوجاتا ہے، پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کیلئے اسکے پاس سوائے دو چار میٹھے بول کے کچھ نہیں ہے

گھرمیں اچھے سے اچھا پکاتے ہیں ، خوب کھاتے ہیں بچ جاتا ہے تو کام کرنے والے ملازمین کو دیتے ہیں اور پھر بھی بچ گیا تو پھینک دیا جاتا ہے ، لیکن پڑوس کو کچھ بھیجنا یا دینا عیب سمجھا جاتا ہے ،اگر پڑوسی نے کچھ مانگ لیا تو صاف انکار ، اور اگرلحاظ میں دیدیا تو لینے والے پڑوسی کو کبھی واپسی کا خیال نہیں آتا،دل ایسے سخت اور سیاہ ہوگئے کہ آپسی بھائی چارگی اور حسنِ سلوک کی گنجائش بہت ہی کم دلوں میں رہ گئی ہے الامان والحفیظ۔

(ماخوذ از ملفوظات حضرت حبیب الامت h جلد دوم صفحہ: ۱۵۸ تا۱۶۰)٭

متعلقہ خبریں

Back to top button