قومی خبریں

2019 سے 2025 تک انکم ٹیکس سسٹم میں بڑی تبدیلیاں: عام آدمی کے لیے کیا بدلا؟

بغیر کسی لازمی سرمایہ کاری (بیمہ پالیسیوں، پی ایف، ہوم لون) کے بھی ٹیکس کی بچت ممکن

نئی دہلی 12 /جنوری  :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) 2019 سے 2025 کے درمیان انکم ٹیکس نظام میں ایسی بنیادی اور تاریخی تبدیلیاں کی گئیں جنہوں نے ٹیکس دہندگان کے لیے نہ صرف ٹیکس ادا کرنے کے طریقے کو آسان بنایا بلکہ مالی بوجھ میں بھی نمایاں کمی کی۔ ان اصلاحات کا مقصد ایک شفاف، ڈیجیٹل اور سادہ ٹیکس نظام قائم کرنا تھا تاکہ عام شہری بھی بغیر کسی الجھن کے اپنے ٹیکس معاملات کو سمجھ سکے۔

ماضی میں ٹیکس بچانے کے لیے لوگ بیمہ پالیسیوں، پی ایف، ہوم لون اور دیگر سرمایہ کاری اسکیموں پر انحصار کرتے تھے، لیکن نئے نظام میں حکومت نے ٹیکس چھوٹ کے بجائے کم ٹیکس کی شرح کو بنیاد بنایا، جس سے بغیر کسی لازمی سرمایہ کاری کے بھی ٹیکس کی بچت ممکن ہو گئی۔

انکم ٹیکس نظام میں اصلاحات کا یہ سفر 2019 میں شروع ہوا، جب حکومت نے گھر خریدنے والوں کو ہاؤسنگ قرض پر اضافی رعایت فراہم کی۔ اس کے بعد 2020 میں نیا انکم ٹیکس سسٹم متعارف کرایا گیا، جس میں ٹیکس کی شرحیں کم رکھی گئیں جبکہ زیادہ تر چھوٹیں ختم کر دی گئیں۔ ابتدا میں یہ نظام کچھ ٹیکس دہندگان کے لیے نیا محسوس ہوا، مگر اس کا مقصد کاغذی کارروائی کو کم کرنا تھا۔

اسی دوران حکومت نے ایسا نظام شروع کیا جس میں ٹیکس دہندگان کو اب انکم ٹیکس افسران سے آمنے سامنے ملنے کی ضرورت نہیں رہی۔ تمام جانچ پڑتال، نوٹس اور سماعتیں آن لائن ہو گئیں۔ مقدمات کمپیوٹر کے ذریعے تقسیم ہونے لگے، جس سے شفافیت میں اضافہ اور بدعنوانی کے امکانات میں نمایاں کمی آئی۔

بعد کے بجٹ میں نئے ٹیکس نظام کو ڈیفالٹ قرار دیا گیا، جس کے تحت 7 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی مکمل طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہو گئی۔ 2024 میں انکم ٹیکس ایکٹ 1961 کی زبان کو آسان بنانے کے لیے ترامیم کا آغاز کیا گیا تاکہ قوانین عام شہریوں کے لیے قابلِ فہم بن سکیں۔ اسی عرصے میں کیپٹل گین ٹیکس کے ضوابط کو بھی سادہ بنایا گیا، جس سے سرمایہ کاروں اور زمین فروخت کرنے والوں کی الجھن کم ہوئی۔

بجٹ 2025 ٹیکس دہندگان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ نئے ٹیکس نظام کے تحت 12 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی کو ٹیکس سے پاک کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جس سے متوسط طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ نیا انکم ٹیکس قانون نافذ ہونے کے بعد قانونی پیچیدگیوں میں مزید کمی آئے گی۔

اس وقت ملک کے زیادہ تر ٹیکس دہندگان نیا انکم ٹیکس نظام اپنا چکے ہیں کیونکہ اس میں بغیر کسی مخصوص سرمایہ کاری کے ٹیکس بچانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اب سب کی نظریں 2026–27 کے بجٹ پر مرکوز ہیں، جہاں ماہرین کے مطابق حکومت انہی اصلاحات کو برقرار رکھتے ہوئے ٹیکس نظام کو مزید مضبوط اور آسان بنانے پر توجہ دے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button