سرورققومی خبریں

خاتون وکیل اور مؤکل کے تعلقات پر سپریم کورٹ کی سخت وارننگ

طلاق مکمل ہوئے بغیر کسی شخص کی دوسری شادی قانونی طور پر ممکن نہیں۔

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے ایک اہم مقدمے میں ایک خاتون وکیل کے طرزِ عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی وکیل کا اپنے ہی مؤکل کے ساتھ ذاتی تعلقات قائم کرنا پیشہ ورانہ وقار کے خلاف ہے۔ عدالت نے اس کیس میں ملزم کی پیشگی ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس بی وی ناگارتھنا کی سربراہی والی بنچ نے سماعت کے دوران خاتون وکیل سے سوال کیا کہ وہ اس شخص کے ساتھ تعلقات میں کیسے آئیں جس کی طلاق کا مقدمہ وہ خود لڑ رہی تھیں۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے رویے سے وکالت کے پیشے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ دونوں کے درمیان تعلقات باہمی رضامندی سے تھے اور کسی بھی فریق نے شادی کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود فوجداری شکایت درج کرنا عدالتی عمل کا غلط استعمال ہے۔ بنچ نے اس شکایت کو بے بنیاد قرار دیا۔

ملزم اس وقت لندن میں مقیم ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ اگر وہ بھارت واپس آتا ہے تو اسے گرفتار نہ کیا جائے۔ بنچ نے کہا کہ خاتون وکیل کو یہ علم ہونا چاہیے تھا کہ طلاق مکمل ہوئے بغیر کسی شخص کی دوسری شادی قانونی طور پر ممکن نہیں۔

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خاتون وکیل اس سے قبل بھی چار مختلف افراد کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمات درج کرا چکی ہیں۔ اس پر بمبئی ہائی کورٹ نے بھی ان کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔

سپریم کورٹ نے آخر میں وکلاء کو متنبہ کیا کہ پیشہ ورانہ ذمہ داری، وقار اور اخلاقی حدود کی پاسداری ہر حال میں ضروری ہے، کیونکہ ایسے معاملات نہ صرف فرد بلکہ پورے نظامِ انصاف پر سوال کھڑے کر دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button