بشیر بدر کا انتقال، معروف اردو شاعر 91 برس کی عمر میں بھوپال میں انتقال کرگئے
91 برس کی عمر میں اردو کے عظیم شاعر بشیر بدر کا انتقال، غزل کی دنیا سوگوار
نئی دہلی 28 مئی:(اردودنیا.اِن)معروف اردو شاعر، غزل نگار، دانشور اور پدم شری اعزاز یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر کا آج بھوپال میں طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ وہ 91 برس کے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی ملک بھر کے ادبی حلقوں، شاعروں، دانشوروں اور اردو ادب کے چاہنے والوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا سے لے کر ادبی انجمنوں تک ہر طرف ان کے اشعار گونجتے رہے اور لوگ انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے دکھائی دیے۔
ڈاکٹر بشیر بدر کے صاحبزادے سید بدر نے اپنے والد کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا انتقال آج دوپہر تقریباً 12:15 سے 12:30 بجے کے درمیان ہوا۔ انہوں نے انتہائی رنج و غم کے عالم میں کہا کہ بشیر بدر نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا اور آج اردو دنیا ایک عظیم آواز سے محروم ہوگئی۔
سید بدر کے مطابق ڈاکٹر بشیر بدر کی نمازِ جنازہ آج مغرب کی نماز کے بعد قدیم مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین بڑا باغ قبرستان میں عمل میں آئے گی۔ ان کے انتقال کی خبر کے بعد ملک بھر سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈاکٹر بشیر بدر کو جدید اردو غزل کی سب سے مقبول اور عوامی آوازوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اردو غزل کو صرف ادبی محفلوں اور مشاعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ عام لوگوں کے دلوں تک پہنچایا۔ ان کی شاعری محبت کرنے والوں کی زبان بھی بنی اور زندگی کی تلخیوں سے گزرنے والوں کے جذبات کی ترجمان بھی رہی۔
15 فروری 1935 کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں پیدا ہونے والے بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ بچپن ہی سے ادب اور زبان سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے صرف سات برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ ان کے والد بھی ادب سے دلچسپی رکھتے تھے، جس کا اثر بشیر بدر کی شخصیت پر نمایاں طور پر پڑا۔
انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے اور بعد ازاں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی میں ان کی شاعری ادبی حلقوں میں توجہ حاصل کرنے لگی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں جبکہ بعد میں میرٹھ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر اور لکچرر کے طور پر تقریباً 17 برس تک خدمات انجام دیتے رہے۔
بشیر بدر کی سب سے بڑی خوبی ان کی سادہ مگر دل میں اتر جانے والی شاعری تھی۔ انہوں نے مشکل الفاظ اور پیچیدہ تراکیب کے بجائے عام فہم زبان میں انسانی جذبات کو بیان کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا کلام خواص کے ساتھ عوام میں بھی بے حد مقبول ہوا۔
ان کی شاعری میں محبت، جدائی، تنہائی، بدلتے رشتے، زندگی کی بے ثباتی اور انسان کے اندر چھپے درد کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا۔ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے اور وقت کے ساتھ عوامی حافظے کا حصہ بن گئے۔
میرٹھ فسادات اور زندگی کا بڑا سانحہ
بشیر بدر کی زندگی میں کئی تلخ موڑ بھی آئے۔ 1987 کے میرٹھ فسادات کے دوران ان کا گھر جل گیا تھا۔ اس آتش زدگی میں ان کا قیمتی سامان، کتابیں اور برسوں کا ادبی سرمایہ بھی تباہ ہوگیا۔ یہ حادثہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ سمجھا جاتا ہے۔
اس سانحے کے بعد وہ میرٹھ چھوڑ کر بھوپال منتقل ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس واقعے نے ان کی شاعری کو مزید درد، گہرائی اور اثر انگیزی عطا کی۔ ان کی بعد کی غزلوں میں تنہائی، بچھڑنے اور ٹوٹنے کے احساسات زیادہ نمایاں نظر آنے لگے۔
بشیر بدر نے اردو غزل کو ایک نیا لہجہ دیا۔ انہوں نے روایتی غزل کو جدید احساسات سے جوڑا اور نئی نسل کو اردو شاعری سے قریب کیا۔ ان کے اشعار صرف مشاعروں میں نہیں بلکہ فلموں، تقاریر، سیاسی جلسوں اور روزمرہ گفتگو تک میں سنائی دیتے رہے۔
انہوں نے اردو، فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل کیا تھا۔ ان کی کئی غزلیں دیوناگری رسم الخط میں بھی شائع ہوئیں، جس سے ہندی قارئین تک بھی ان کا کلام پہنچا۔ ان کے شعری مجموعوں کے انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں تراجم بھی ہوئے۔
ڈاکٹر بشیر بدر کے کئی شعری مجموعے بے حد مقبول ہوئے، جن میں “آمد”، “آہٹ”، “امیج”، “اکائی”، “آس” اور “کلیاتِ بشیر بدر” شامل ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ “آس” جدید اردو شاعری کا اہم سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو تنقید میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ ان کی کتابیں “آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ” اور “بیسویں صدی میں غزل” اردو تنقید میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔
اردو ادب میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں بشیر بدر کو کئی بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں ہندوستان کے باوقار شہری اعزاز “پدم شری” سے بھی سرفراز کیا گیا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش اردو اکیڈمی نے انہیں چار مرتبہ ایوارڈ دیا جبکہ بہار اردو اکیڈمی نے بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔
انہیں “میر اکیڈمی ایوارڈ” اور نیویارک میں “پوئٹ آف دی ایئر 1980” جیسے بین الاقوامی اعزازات بھی حاصل ہوئے۔ انہوں نے امریکہ، دبئی، قطر، پاکستان اور کئی دیگر ممالک میں عالمی مشاعروں میں شرکت کرکے اردو زبان و ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔
بشیر بدر گزشتہ کئی برسوں سے بھوپال میں گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ یادداشت سے متعلق بیماری میں مبتلا تھے، جس کے باعث ان کی یادداشت مسلسل کمزور ہورہی تھی۔ ان کی گفتگو بھی کافی متاثر ہوگئی تھی، لیکن شاعری سے ان کا تعلق آخری وقت تک قائم رہا۔
ان کے قریبی افراد کے مطابق جب کوئی ان کے سامنے ان کی غزلیں پڑھتا تھا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی تھی اور وہ اشعار پر داد دیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ یہی ان کی شاعری سے بے پناہ محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت تھا۔
ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال سے اردو ادب ایک ایسی آواز سے محروم ہوگیا ہے جس نے کئی نسلوں کے جذبات کو لفظوں کا روپ دیا۔ ان کی غزلیں، اشعار اور ادبی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اردو ادب کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ احترام اور محبت کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔
بشیر بدر جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کے اشعار آنے والے وقتوں میں بھی دلوں کو چھوتے رہیں گے اور اردو ادب کے افق پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔
بشیر بدر کی چند لازوال اور مشہور غزلیں و اشعار
ڈاکٹر بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ احساسات کی ایسی آواز تھے جن کے اشعار ہر دور میں لوگوں کے دلوں کو چھوتے رہے۔ ان کی غزلوں میں محبت، جدائی، تنہائی، بدلتے رشتے اور زندگی کی حقیقتوں کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوگئے۔
ان کی چند مشہور غزلیں اور اشعار درج ذیل ہیں:
“کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا”
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے،
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو۔
مجھے دوست بن کے دغا نہ دے،
کہ یہی ستم مجھے عمر بھر نہ بھلا سکے گا۔
یہ غزل بشیر بدر کی سب سے زیادہ مقبول غزلوں میں شمار کی جاتی ہے۔ بدلتے سماج، کمزور ہوتے رشتوں اور انسانوں کے درمیان بڑھتی دوریوں کو اس غزل میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
“شہرت کی بلندی بھی اک پل کا تماشا ہے”
شہرت کی بلندی بھی اک پل کا تماشا ہے،
جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے۔
یہ شعر زندگی کی بے ثباتی اور دنیاوی شہرت کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعر سیاسی تقاریر، ادبی محفلوں اور عام گفتگو میں بھی بار بار سنائی دیتا ہے۔
“لوگ ٹوٹ جاتے ہیں”
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں،
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں۔
یہ شعر انسان کی محنت، درد اور معاشرتی بے حسی کی ایک گہری تصویر پیش کرتا ہے۔ میرٹھ فسادات کے بعد بشیر بدر کی شاعری میں ایسے کئی درد بھرے اشعار نمایاں ہوئے۔
“اڑنے دو پرندوں کو”
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں،
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے۔
یہ شعر زندگی کے خوبصورت لمحوں اور بچپن کی اہمیت کو نہایت دلکش انداز میں بیان کرتا ہے۔
“دشمنی جم کر کرو”
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے،
جب کبھی ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں۔
یہ شعر انسانی رشتوں اور تعلقات کی نزاکت کو ظاہر کرتا ہے اور بشیر بدر کے نرم اور مثبت اندازِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔
“میں چپ رہا”
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا،
وہ سنگِ دل تھا اور بہت بے حواس تھا۔
بشیر بدر کے اشعار میں خاموش محبت، اندرونی درد اور جذباتی کیفیت کو بڑی سادگی کے ساتھ محسوس کیا جاسکتا ہے۔
“اگر تلاش کروں”
اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا،
مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا۔
یہ شعر محبت کے خالص جذبے اور کسی خاص انسان کی کمی کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔
“چراغوں کو آنکھوں میں”
چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا،
بڑی دور تک رات ہی رات ہوگی۔
یہ شعر امید، حوصلے اور اندھیروں میں روشنی کی علامت کے طور پر بے حد مقبول ہوا۔
بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ ان کے اشعار عام انسان کی زندگی سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ ان کے کلام میں لفظوں کی سادگی، جذبات کی گہرائی اور دل کو چھو لینے والی تاثیر موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار صرف کتابوں تک محدود نہیں رہے بلکہ لوگوں کی روزمرہ گفتگو اور یادوں کا حصہ بن گئے۔



