سیاسی و مذہبی مضامین

ملک میں یونیورسٹی تعلیم خطرے میں- پی چدمبرم (سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)

یونیورسٹیاں غلام بن رہی ہیں: ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کا مستقبل خطرے میں

’’یونیورسٹی اپنی آزادی سے دستبردار نہیں ہوگی یا اپنے دستوری حقوق سے بھی دستبردار نہیں ہوگی اور جہاں تک انتظامیہ کے پرسکرپشن کا سوال ہے، یہ وفاقی حکومت کے اختیار سے باہر ہے اور یہ ایک خانگی ادارہ کے طور پر ہماری اقدار کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔ ایک یونیورسٹی حصول علم، پیداوار اور علم پھیلانے کیلئے وقف ہوتی ہے۔

یہ بھی اہم بات ہے کہ حکومت کو اس بات سے قطع نظر کہ کون سی سیاسی پارٹی اقتدار میں ہے، یہ نہیں بتانا چاہئے کہ خانگی یونیورسٹیاں کیا پڑھا سکتی ہیں، کیا نہیں پڑھا سکتی۔ وہ کس کو داخلے دے سکتی ہیں، تدریس اور یونیورسٹی کے انتظامی امور کیلئے کس کی خدمات حاصل کرسکتی ہیں، کس کی خدمات حاصل نہیں کرسکتی، اور وہ تعلیم کے کن شعبوں کو اپنا سکتی ہیں، کن شعبوں کو نہیں، اور کس قسم کی انکوائری کر سکتی ہیں اور کس قسم کی نہیں۔‘‘

یونیورسٹی اُمور اور نظم یا اڈمنسٹریشن میں حکومت کی مداخلت پر کسی ہندوستانی یونیورسٹی کے کسی وائس چانسلر نے مذکورہ ردعمل کا اظہار کیا؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ہے: کوئی نہیں۔

لیکن ہم آپ کو اس حقیقت سے واقف کروانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ سطور بالا میں ہم نے جس یونیورسٹی اور اُس کے وائس چانسلر کا حوالہ دیا وہ دراصل ہارورڈ یونیورسٹی (جو ریاستہائے متحدہ امریکہ سے بھی قدیم ہے) کے صدر مسٹر ایلن گاربر ہیں۔ ہم نے ان کے جملوں کو ان کے ردعمل کو آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔

انھوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نفی کی ہے، ان کے خیالات و نظریات سے ببانگ دہل عدم اتفاق کیا، حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ وہ اس کرۂ ارض کے سب سے طاقتور اور بااثر انسان ہیں۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف جوابی بلکہ انتقامی کارروائی کرتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کی 202 ارب ڈالرس وفاقی گرانٹ منجمد کر دی۔ ساتھ ہی امریکی صدر نے ہارورڈ یونیورسٹی کو دیئے گئے 60 ملین ڈالرس کے کنٹریکٹس بھی منجمد کر دیئے، لیکن یونیورسٹی نے مسٹر ٹرمپ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا اور صاف طور پر یہ کہا کہ وائٹ ہاؤس ہارورڈ یونیورسٹی پر کنٹرول کی کوشش کر رہا ہے۔

آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ گزشتہ ماہ کولمبیا یونیورسٹی کو 400 ملین ڈالرس وفاقی فنڈس دینے سے انکار کیا گیا۔

خودمختاری نہیں

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی ویب سائٹ کے مطابق ہندوستان میں 25 جنوری 2023 تک جملہ 1074 یونیورسٹیز تھیں جن میں ریاستی یونیورسٹیوں کی تعداد 460، ڈیمیڈ یونیورسٹیز کی تعداد 128، مرکزی یونیورسٹیز کی تعداد 56، اور خانگی جامعات کی تعداد 430 ہے۔

واضح رہے کہ 1074 جامعات میں تین ایسی قدیم جامعات بھی شامل ہیں جن کا قیام 1857ء میں کولکتہ، مدراس اور بمبئی میں عمل میں آیا، یعنی آزادی سے بہت پہلے۔

بہرحال، یو جی سی اور گورنر-چانسلر کے ساتھ اختلافات کے نتیجہ میں یونیورسٹی آف مدراس اگست 2023ء سے بغیر کسی وائس چانسلر کے کام کر رہی ہے، حالانکہ ملک کی اس باوقار یونیورسٹی کیلئے بناء کسی رکاوٹ اور تاخیر کے وائس چانسلر کا تقرر کیا جانا چاہئے تھا۔

یہ بھی ایک افسوسناک امر ہے کہ پارلیمنٹ نے جو قوانین بنائے ہیں اور جس انداز میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ایکٹ کے معاملہ میں کارروائی کی، اس سے ہندوستانی یونیورسٹیز کے پاس خودمختاری کا کوئی عنصر باقی نہیں رہا۔ انھیں کوئی خود مختاری حاصل نہیں ہے حالانکہ ایکٹ یونیورسٹی میں ہم آہنگی اور معیار کے تعین کا بندوبست کرنے کیلئے مدون کیا گیا تھا۔

یو جی سی کا اختیار اور مداخلت

یو جی سی ایکٹ 1956 کے سیکشن 12 نے جامعات میں تدریسی امتحانات کے انعقاد اور ریسرچ (تحقیق) کے معیارات کے تعین اور برقرار رکھنے کیلئے یونیورسٹیوں کو گرانٹس مختص کرنے اور گرانٹس کی تقسیم کا اختیار دیا۔

1984ء میں 12A اس میں شامل کیا گیا، ساتھ ہی دفعہ 14 میں ترمیم کی گئی، جس نے یو جی سی کے اختیارات میں بے تحاشہ اضافہ کیا۔ جیسے ہی اس کے اختیارات میں اضافہ ہوا، اس نے یونیورسٹیز کے ہر کام میں مداخلت شروع کر دی۔

ان اختیارات کو استعمال میں لاتے ہوئے جو قواعد یو جی سی نے بنائے، ان قواعد نے عملاً یونیورسٹی کی خودمختاری کو ختم کر دیا ہے۔

یو جی سی سب سے بڑا چوڑ

یو جی سی کا کنٹرول (اور ایک نظریاتی متعصب مرکزی حکومت کی جانب سے یو جی سی کے ذریعہ کنٹرول) یونیورسٹیز کے معاملات اور اُمور میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس پر اب زبردست تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔

یو جی سی اب اساتذہ کے تقررات، نصاب کی تیاری، ریسرچ ڈیزائن، اور امتحانات کے انعقاد میں مسلسل مداخلت کر رہی ہے۔

ہم آپ کو یو جی سی کے چند ایسی حرکات یا سرگرمیوں سے واقف کرواتے ہیں جو اس نے جامعات کے اُمور میں مداخلت کرتے ہوئے انجام دی ہیں:

  • یونیورسٹیز میں تمام اساتذہ اور دیگر تعلیمی ارکان عملہ کی بھرتیوں یا تقررات کیلئے اہلیت / تعلیمی قابلیت سے متعلق قواعد

  • قومی اہلیتی ٹسٹ (NET)

  • قومی اہلیتی و داخلہ امتحان (NEET)

  • جائنٹ انٹرنس اگزامنیشن (JEE)

  • کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹسٹ (CUET)

  • لرننگ آؤٹ کمس بیسڈ کریکیولم فریم ورک (LOCF)

  • دی چوائس بیسڈ کریڈٹ سسٹم (CBCS)

  • دی نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (NIRF)

چونکہ وائس چانسلر اپنے باقی ماندہ چند اختیارات کا استعمال کرتے ہیں، ایسے میں یو جی سی نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ وائس چانسلر کے سلیکشن اور تقرر پر بھی کنٹرول کیا جائے۔ (آپ 12 جنوری 2025ء کو انڈین ایکسپریس میں شائع مضمون ’’وائس چانسلرس وائس رائٹس بنیں گے‘‘ دیکھئے)۔

میرے خیال میں یو جی سی ریاستی اور پرائیویٹ یونیورسٹیز کے تدریسی و غیر تدریسی عہدوں پر سلیکشن اور تقررات میں کوئی کردار نہیں رکھتی، خاص طور پر وائس چانسلر کے تقرر میں اُس کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ اور اگر اُس کی اجازت دی جائے گی تو پھر یہ جامعات کو قومیانہ کا آخری قدم ہوگا۔

کیا کنٹرول سے تعلیم کا فائدہ ہوگا؟

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یونیورسٹیز پر کنٹرول سے کیا اعلیٰ تعلیم کے کاز میں مدد ملے گی؟

کوئی بھی ہندوستانی یونیورسٹی دنیا کی 100 سرفہرست یونیورسٹیز میں شامل نہیں ہے (یہ فہرست QS کی جانب سے تیار کی جاتی ہے)۔

اگر ہندوستانی یونیورسٹیز میں سرفہرست یونیورسٹی کا جائزہ لیں تو وہ آئی آئی ٹی ممبئی ہے، جس کا عالمی سطح پر 118 واں رینک ہے۔

پارلیمنٹ میں جواب دیتے ہوئے حکومت نے انکشاف کیا کہ 21 اکتوبر 2024 تک صرف تمام مرکزی یونیورسٹیز میں تدریسی عملہ کی مخلوعہ جائیدادوں (عہدوں) کی تعداد 5182 تھی۔

تعلیم سے متعلق پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی نے پایا کہ آئی آئی ٹی گریجویٹس کے Placement میں 2021-2022 اور 2023-24 کے درمیان زبردست گراوٹ آئی ہے اور یہ گراوٹ Placement کے معاملہ میں 10 فیصد رہی۔

اسی طرح NIT گریجویٹس کے Placement میں بھی 10-77 فیصد کمی آئی۔

یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ صرف ڈاکٹر سی وی رمن واحد شخص تھے جو ہندوستانی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوبل انعام یافتہ رہے۔ انھیں سائنس میں 1930ء کا نوبل انعام عطا کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button