بین الاقوامی خبریں

ایران کی جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی، امریکہ کو نئی میزائل صلاحیت سے خبردار کیا: محسن رضائی

ایران کی نئی جنگی حکمت عملی، ناکہ بندی کو وسیع تر معاشی محاذ میں بدلنے کی تیاری

تہران، 8 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): ایران نے امریکہ کے خلاف اپنی فوجی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے نئی میزائل صلاحیت کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے حوالے سے تہران کی عملی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔

محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران کی نئی میزائل صلاحیت نے امریکہ کو واضح پیغام دے دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے خلاف معاشی دباؤ یا ’اقتصادی جنگ‘ جاری رہی تو تہران خلیج فارس میں ایک ’سمندری ممنوعہ علاقہ‘ قائم کر سکتا ہے اور اس کا دائرہ امریکی بحری ناکہ بندی کی حدود تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

رضائی نے کہا کہ امریکہ کے جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف ایران کی کارروائی کے طریقہ کار اور فوجی حکمت عملی کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی نئی میزائلوں سے امریکہ کو یہ واضح انتباہ مل گیا ہے کہ تہران آئندہ کسی بھی کارروائی کا جواب مختلف انداز میں دے گا۔

ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران ایران نے پہلی مرتبہ مقامی طور پر تیار کردہ ایک اینٹی شپ میزائل کا امریکی جنگی جہاز کے قریب تجربہ کیا۔ رضائی کے مطابق اس میزائل نے امریکی فریق کے لیے انتہائی مشکل صورتحال پیدا کی اور امریکی جنگی جہاز وہاں سے پیچھے ہٹ گیا۔ تاہم امریکی فوج نے ایرانی میزائل حملوں سے متعلق بعض دعووں کی تردید کی ہے۔

اس سے ایک روز قبل محسن رضائی نے کہا تھا کہ ایران آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے باہر ایک نیا ’ممنوعہ سمندری علاقہ‘ قائم کرنے کا اعلان کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اس علاقے میں داخل ہونے والے ایسے کسی بھی جہاز کو ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

رضائی کے مطابق یہ ممنوعہ علاقہ اس مقام سے شروع ہوگا جہاں امریکہ کی بحری ناکہ بندی موجود ہے اور آبنائے ہرمز تک پھیلے گا۔ اس کے علاوہ اس کا دائرہ آبنائے ہرمز کے دوسرے سرے سے خلیج فارس کے اندرونی حصے تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو جہاز ایران کے ساتھ پیشگی رابطے یا ہم آہنگی کے بغیر اس علاقے میں داخل ہوں گے، ان کے خلاف پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان پابندیوں کا اثر ان کے انشورنس کور اور مستقبل میں اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت پر پڑ سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے مجوزہ سمندری ممنوعہ علاقے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز اور تیل کی ترسیل کو لے کر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

محسن رضائی نے ایران کے اس اقدام کو جنگ اور سفارت کاری سے متعلق تہران کی وسیع تر حکمت عملی میں تبدیلی کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران کا مقصد امریکہ پر دباؤ بڑھانا اور معاشی دباؤ کے جواب میں سمندری محاذ پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button