بین الاقوامی خبریں

نیویارک میں تارکین وطن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 2,197 گرفتار

نیویارک، 2 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): امریکہ کی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے نیویارک ریاست میں تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران 2,197 تارکین وطن کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری مارک وین مولن نے نیویارک شہر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ کارروائی جولائی کے اختتام سے اگست کے اختتام تک جاری رہی۔ اس مہم کو ’آپریشن روٹن ایپل‘ کا نام دیا گیا تھا۔

مارک وین مولن کے مطابق کارروائی کے دوران ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جن پر قتل، عصمت دری، بچوں کے خلاف جنسی جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر پرتشدد جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکام نے وہ کام کیا جو ان کے بقول نیویارک شہر اور ریاست کے ان رہنماؤں نے کرنے سے انکار کیا جو تارکین وطن کو وفاقی امیگریشن کارروائی سے تحفظ فراہم کرنے کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے ریاست نیویارک مزید محفوظ ہوئی ہے۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری نے الزام عائد کیا کہ کارروائی کے دوران نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور گورنر کیتھی ہوچل کی جانب سے وفاقی حکام کو کوئی تعاون حاصل نہیں ہوا۔

وائٹ ہاؤس کے سرحدی امور کے خصوصی نمائندے ٹام ہومن نے بھی نیویارک سمیت دیگر ریاستوں کے ڈیموکریٹ رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رہنما عوامی تحفظ کی بات کرتے ہیں، لیکن وفاقی امیگریشن قوانین نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جیلوں میں موجود ایسے افراد کو حراست میں لینے کی اجازت نہیں دیتے جن کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔

ٹام ہومن کے مطابق بعض ایسے افراد کو وفاقی حکام کے حوالے کرنے کے بجائے رہا کردیا جاتا ہے۔

دوسری جانب نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے وفاقی حکام کے دعووں کو مسترد کردیا۔ ایک الگ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ نیویارک جرائم پیشہ افراد کو تحفظ دینے والی ریاست نہیں ہے۔

ہوچل نے امریکی انتظامیہ پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے صدر سے اپیل کی کہ نیویارک کی عوامی تحفظ سے متعلق کوششوں کو کمزور نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد حملوں کی روک تھام میں مدد دینے والے پولیس محکموں کی مالی امداد بند نہیں کی جانی چاہیے اور لوگوں کی زندگیوں کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

گورنر ہوچل کے مطابق وفاقی حکومت پر نیویارک ریاست کے 87 لاکھ ڈالر واجب الادا ہیں اور یہ رقم ریاست کو جاری کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے مالی امداد جاری نہیں کرتی تو یہ ان خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہوں نے 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں میں اپنے عزیزوں کو کھویا تھا۔

ہوچل نے مزید دعویٰ کیا کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد قائم کیے گئے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے نیویارک ریاست کے لیے مختص انسدادِ دہشت گردی کی مالی امداد کا تقریباً 40 فیصد حصہ روک رکھا ہے۔

نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ اگر کوئی شخص سنگین جرم کرتا ہے تو شہر کی انتظامیہ اس معاملے میں وفاقی اداروں کے ساتھ رابطہ کرے گی اور تعاون سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

تاہم ممدانی نے آئی سی ای کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی امیگریشن ادارہ تارک وطن ہونے کو ہی جرم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور صرف کسی شخص کی امیگریشن حیثیت کی بنیاد پر اسے نشانہ بنانے میں فرق کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button