بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ انتظامیہ کی ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے ویزا پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس کی تجویز

امریکی حکومت کی جانب سے H-1B ویزوں سے متعلق سخت پالیسی اختیار کرنے کی کوشش

واشنگٹن، 25 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے H-1B ویزا پروگرام کو مزید مہنگا بنانے کی تجویز سامنے رکھ دی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت بعض H-1B ویزا درخواستوں پر 1 لاکھ 3 ہزار 265 ڈالر تک فیس عائد کی جا سکتی ہے، جس سے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے والی کمپنیوں پر مالی بوجھ بڑھنے کا امکان ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے H-1B ویزوں سے متعلق سخت پالیسی اختیار کرنے کی کوشش پہلے بھی کی جا چکی ہے۔ انتظامیہ نے نئے H-1B ویزوں کے لیے 1 لاکھ ڈالر کی فیس مقرر کی تھی، تاہم جون میں ایک وفاقی جج نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

حکومت کا اندازہ ہے کہ نئی مجوزہ فیس سے ہر سال تقریباً 8 ارب 80 کروڑ ڈالر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم تمام ادارے اس فیس کے دائرے میں نہیں آئیں گے۔ H-1B ویزوں کی سالانہ مقررہ حد سے مستثنیٰ اداروں کو اس اضافی فیس سے چھوٹ حاصل ہوگی، جس میں غیر منافع بخش جامعات اور اسپتال بھی شامل ہیں۔ ایسے اداروں کو سال بھر H-1B ویزوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی اجازت حاصل ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ H-1B پروگرام کے موجودہ طریقہ کار پر بھی اعتراضات اٹھا رہی ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ بعض کمپنیاں اس نظام کے ذریعے امریکی شہریوں کے بجائے کم اجرت پر غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کو ترجیح دیتی ہیں، جس سے مقامی ملازمین کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ H-1B ویزا نظام میں اصلاحات کا مقصد پروگرام کے غلط استعمال کو محدود کرنا اور امریکی کارکنوں کے مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ مجوزہ بھاری فیس اسی پالیسی کا ایک اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button