
کیا نظام نے رولز رائس سے بدلہ لینے کے لیے گاڑیاں کچرا اٹھانے پر لگا دی تھیں؟ حقیقت سامنے آگئی
نظامِ حیدرآباد کی جانب سے رولز رائس کو کچرا اٹھانے کے لیے استعمال کرنے کی مشہور کہانی۔۔
حیدرآباد، 25 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)حیدرآباد کے نظاموں سے متعلق کئی ایسی داستانیں ہیں جو نسل در نسل لوگوں تک پہنچتی رہی ہیں، لیکن ان میں سے ہر کہانی تاریخی حقیقت نہیں ہوتی۔ ایسی ہی ایک مشہور داستان ساتویں نظام میر عثمان علی خان اور رولز رائس سے متعلق ہے، جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لندن کے ایک شوروم میں نظام کی مبینہ توہین کے بعد انہوں نے رولز رائس کی کئی گاڑیاں خریدیں اور انہیں حیدرآباد لاکر کچرا اٹھانے کے لیے استعمال کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ تاہم قدیم گاڑیوں کے ماہر اور مؤرخ محمد لقمان علی خان نے اس مشہور قصے کو تاریخی شواہد کے خلاف قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر برسوں سے ایک سیاہ و سفید تصویر بھی اس کہانی کے ثبوت کے طور پر گردش کرتی رہی ہے۔ تصویر میں ایک پرانی گاڑی کے اگلے حصے پر جھاڑو نما چیزیں لگی ہوئی نظر آتی ہیں اور اسی منظر کو نظام کی جانب سے رولز رائس کو کچرا اٹھانے کے لیے استعمال کرنے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن محمد لقمان علی خان، جو Automobiles of the Nizams کے مصنف بھی ہیں، کے مطابق اس تصویر کو نظام سے جوڑنا درست نہیں۔
محمد لقمان علی خان نے تصویر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں موجود گاڑی رولز رائس نہیں بلکہ فورڈ ہے۔ ان کے مطابق تصویر میں نظر آنے والی سڑک بھی حیدرآباد کی نہیں اور وہاں موجود افراد کا لباس بھی اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ نظام کی جانب سے رولز رائس خرید کر اسے کچرا اٹھانے کے لیے استعمال کرنے کا کوئی مستند تاریخی ریکارڈ موجود نہیں۔
تصویر میں گاڑی کے اگلے پہیوں کے قریب دکھائی دینے والے جھاڑو نما آلات نے بھی اس کہانی کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ بظاہر یہ آلات گاڑی کے ذریعے سڑک صاف کرنے کے لیے استعمال ہوتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن تاریخی وضاحت اس سے مختلف ہے۔ محمد لقمان علی خان کے مطابق جنگ کے زمانے میں فضائی بمباری کے باعث سڑکوں پر شیشے، دھات کے ٹکڑے اور دیگر نوکیلی اشیا بکھری رہتی تھیں۔ گاڑی کے اگلے حصے میں نصب یہ برش نما آلات ایسے ملبے کو راستے سے ہٹانے اور ٹائروں و ٹیوبز کو نقصان سے بچانے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
نظام اور رولز رائس سے متعلق مشہور کہانی کا ایک اور حصہ بھی تاریخی طور پر کمزور نظر آتا ہے۔ قصے کے مطابق لندن کے شوروم میں نظام کو ان کے لباس کی وجہ سے معمولی گاہک سمجھا گیا اور گاڑی فروخت کرنے سے انکار کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر بدلہ لینے کے لیے گاڑیاں خرید لیں۔ تاہم نظامِ دکن کی مالی حیثیت اور اس دور کی شاہی کاروں کی خریداری کے ریکارڈ اس دعوے کو قابلِ اعتبار نہیں بناتے۔
اس زمانے میں دنیا کی معروف کار ساز کمپنیاں شاہی خاندانوں سے کاروباری تعلق قائم کرنے اور ان کے آرڈر حاصل کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ نظامِ دکن بھی مختلف اعلیٰ درجے کی گاڑیوں کے مالک تھے اور ان کے پاس نیپیئر، پیکارڈ، کیڈیلک، بئک اور رولز رائس سمیت متعدد معروف کمپنیوں کی گاڑیاں موجود تھیں۔ اسی لیے یہ تصور کہ رولز رائس نے نظام کے آرڈر کو مسترد کیا اور اس کے نتیجے میں نظام نے کمپنی کو بدنام کرنے کے لیے گاڑیوں کو کچرا اٹھانے پر لگا دیا، تاریخی شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی نوعیت کی داستانیں ہندوستان کی بعض دوسری شاہی شخصیات سے بھی منسوب کی جاتی رہی ہیں۔ یہی قصہ بعض اوقات ریاستِ الور کے مہاراجہ جے سنگھ پربھاکر اور بہاولپور کے نواب صادق محمد خان عباسی کے نام سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔ مؤرخین نے ان دعوؤں کی تاریخی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ شاہی حکمرانوں، مہنگی گاڑیوں اور مبینہ برطانوی توہین سے جڑی مختلف کہانیاں ایک دوسرے میں شامل ہوتی گئیں۔
اگرچہ کچرا اٹھانے والی رولز رائس کی کہانی تاریخی طور پر ثابت نہیں، لیکن نظامِ دکن کی مہنگی اور نایاب گاڑیوں سے دلچسپی ایک حقیقت ہے۔ ان کے شاہی کار بیڑے میں اپنے زمانے کی کئی قیمتی اور جدید گاڑیاں شامل تھیں اور رولز رائس بھی ان میں نمایاں مقام رکھتی تھی۔
حیدرآباد کے چومحلہ محل میں آج بھی نظاموں کے شاہانہ دور اور ان کی گاڑیوں کی تاریخ کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ محل کے شاہی گیراج میں محفوظ گاڑیوں میں 1912 کی مشہور سلور گھوسٹ رولز رائس بھی شامل ہے، جسے تھرون کار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ 40/50 HP لیموزین چھٹے نظام میر محبوب علی خان کے حکم پر حاصل کی گئی تھی اور بعد میں ساتویں نظام میر عثمان علی خان کے استعمال میں بھی رہی۔
یوں نظام اور رولز رائس سے جڑی اصل تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے، لیکن سوشل میڈیا پر مشہور کچرا اٹھانے والی رولز رائس کا قصہ تاریخی حقیقت کے بجائے ایک ایسی داستان معلوم ہوتا ہے جسے ایک پرانی تصویر نے مزید مقبول بنا دیا۔ ماہرین کے مطابق تصویر میں موجود گاڑی رولز رائس نہیں بلکہ فورڈ ہے اور اس کے اگلے حصے پر لگے برش بھی کچرا صاف کرنے کے لیے نہیں تھے۔



