
ایران نے میرے بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ان کے ایک بیٹے کو ایران نے نشانہ بنایا،
یروشلم، 25 اگست 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ان کے ایک بیٹے کو نشانہ بنا کر اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ نیتن یاہو نے یہ بات اسرائیلی چینل 14 کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہی، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مبینہ حملے کا نشانہ ان کے بڑے بیٹے یائر نیتن یاہو بنے تھے یا چھوٹے بیٹے ایونر نیتن یاہو۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کی جانب سے ان کے بیٹے کو نشانہ بنانے کا معاملہ غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق اسی خطرے کے پیش نظر اہم سیاسی شخصیات اور ممکنہ انتخابی امیدواروں کو چوبیس گھنٹے سیکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس نوعیت کے حفاظتی انتظامات کو عیش و آرام قرار دینے کے بجائے ممکنہ حملوں سے بچاؤ کے لیے ضروری قرار دیا۔
نیتن یاہو کے دو بیٹے ہیں۔ بڑے بیٹے یائر نیتن یاہو کی عمر 35 سال ہے اور وہ 2024 سے طویل عرصے سے میامی میں مقیم ہیں، جہاں انہیں سیکیورٹی فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کے دوسرے بیٹے ایونر اسرائیل میں رہتے ہیں اور عام طور پر میڈیا کی توجہ سے دور رہتے ہیں۔ تاہم نیتن یاہو کے تازہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مبینہ طور پر کس بیٹے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس مبینہ منصوبے سے متعلق معلومات کئی ماہ سے موجود ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، تاہم اس معاملے کی تفصیلات پر پابندی عائد تھی۔ ایران کی جانب سے نیتن یاہو کے الزام پر تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی سے متعلق ایک الگ معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 سالہ بیٹے بیرن ٹرمپ کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے چینل 3 پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں بیرن ٹرمپ کی سرگرمیوں، مبینہ مقامات اور ان کی سیکیورٹی سے متعلق تفصیلات دکھانے کا دعویٰ کیا گیا۔ ویڈیو کے بارے میں یہ بھی رپورٹ ہوا کہ اس میں بیرن کی جان کے بدلے 10 ملین ڈالر کے انعام کا ذکر تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو ایرانی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے منسلک میڈیا کے ذریعے سامنے آئی۔ فوٹیج میں بیرن ٹرمپ کی یونیورسٹی، سیکیورٹی گاڑیوں اور سیکرٹ سروس اہلکاروں سے متعلق مبینہ معلومات دکھائی گئیں۔ ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بیرن کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی۔ تاہم ان میں سے متعدد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی سیکرٹ سروس نے 25 اگست کو تصدیق کی کہ اسے بیرن ٹرمپ سے متعلق ایرانی سرکاری میڈیا کی ویڈیو کا علم ہے اور وہ اپنے زیرِ تحفظ افراد کے خلاف سمجھے جانے والے خطرات کا جائزہ لیتی ہے۔ ادارے نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر مخصوص انٹیلی جنس معاملات پر مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔



