
ایران کی تمام عسکری صلاحیتیں ابھی استعمال نہیں ہوئیں، اگلے مرحلے کے لیے تیار ہیں: محسن رضائی
جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں جوابی حملوں کے لیے وسائل موجود ہیں، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات بھی ممکنہ اہداف ہو سکتی ہیں۔
تہران :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران کے سینئر رہنما محسن رضائی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے ابھی اپنی تمام عسکری صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لایا اور اگر جنگ دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے تو ایران کے پاس جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایران ممکنہ تصادم کے اگلے مرحلے کے لیے بھی تیار ہے، تاہم تہران کی ترجیح اب بھی سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو انٹرنیٹ کی زیر سمندر کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں۔ ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ڈیجیٹل مواصلاتی نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے مراکز عالمی معیشت اور رابطوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایرانی رہنما نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی تجویز کو زیر التوا رکھا گیا، جس کے نتیجے میں مذاکرات کا عمل رک گیا۔ رضائی کے مطابق واشنگٹن کے پاس جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح اور قابل عمل منصوبہ موجود نہیں، جس کی وجہ سے سفارتی سطح پر تعطل پیدا ہوا ہے۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ طویل کشیدگی کے باعث خطے میں سیاسی تعلقات کی صورتِ حال ایران کے حق میں تبدیل ہو رہی ہے اور خلیجی ممالک ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے بقول، علاقائی ممالک اب سیکیورٹی سے متعلق اپنی پالیسیوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر نئے سرے سے غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خلیجی ممالک کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ امریکی فوج اپنے فوجی اڈوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ تاہم، ان بیانات اور دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی کامیابی اور فریقین کے آئندہ اقدامات اہم ہوں گے۔



