بین الاقوامی خبریں

دو دہائیوں میں پہلی بار امریکہ کو بڑا عسکری دھچکا، ایران کا طاقت کا مظاہرہ

امریکی فضائیہ کے دو جدید جنگی طیارے مار گرائے، 13 فوجی مارے گئے,365 زخمی

تہران / واشنگٹن 04 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی فضائیہ کے دو جدید جنگی طیارے مار گرائے ہیں، جسے گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ کے لیے ایک بڑا عسکری دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکی ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایک اور امریکی طیارہ اے-10 تھنڈربولٹ II کو بھی مار گرایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی غیر ملکی سرزمین پر امریکی فوج کے دو جنگی طیارے ایک ساتھ تباہ ہوئے ہوں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 2003 میں عراق جنگ کے دوران اے-10 طیارہ مار گرایا گیا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس جاری تنازع میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 365 زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمیوں میں 247 بری فوج، 63 بحریہ، 36 فضائیہ اور 19 میرینز کے اہلکار شامل ہیں۔

دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کو مکمل طور پر کمزور کر دیا ہے اور جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ تاہم ایران نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ ابھی واضح نہیں ہو سکا کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث تباہ ہوا یا واقعی اسے مار گرایا گیا۔ اس کے علاوہ حادثے کی درست جگہ اور لاپتہ پائلٹ کی حالت کے بارے میں بھی تاحال معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ ماہرین اس صورتحال کو ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button