ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ مزید سخت، احتجاج کے دوران اسٹارلنک بھی بند, چین یا روسی مدد کا شبہ
ایران نے اسٹارلنک جام کر دیا،اسٹارلنک انٹرنیٹ بھی بند
تہران :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے خلاف جاری احتجاج تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ریاستی کریک ڈاؤن میں اب تک پانچ سو سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے پہلے ملک بھر میں تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کیا، جس کے بعد مظاہرین نے رابطے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کا سہارا لیا۔
انٹرنیٹ کی بندش کے بارہویں دن اسٹارلنک مظاہرین کے لیے واحد امید بن کر ابھرا، جس کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بیرونی دنیا تک پہنچائی جا رہی تھیں۔ تاہم اب اطلاعات ہیں کہ ایرانی حکومت نے اس سروس کو بھی فوجی درجے کے جدید جیمروں کے ذریعے شدید طور پر متاثر کر دیا ہے۔ ایران وائر کے مطابق ابتدا میں اسٹارلنک کے اپ لنک اور ڈاؤن لنک ٹریفک کا تقریباً تیس فیصد متاثر ہوا، جو چند ہی گھنٹوں میں بڑھ کر اسی فیصد سے زائد ہو گیا۔
ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عام جیمینگ نہیں بلکہ ایک منظم ’کل سوئچ kill switch‘ آپریشن ہے، جس میں انتہائی مہنگا اور جدید فوجی سازوسامان استعمال کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی مقامی طور پر تیار نہیں کی گئی تو اس میں چین یا روس کی مدد شامل ہونے کا قوی امکان ہے، کیونکہ دونوں ممالک الیکٹرانک وارفیئر اور جی پی ایس جیمینگ میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
ایران میں اس وقت اندازاً چالیس سے پچاس ہزار افراد اسٹارلنک استعمال کر رہے تھے۔ مہسا امینی احتجاج کے بعد اس سروس کے استعمال میں واضح اضافہ ہوا تھا، اور حتیٰ کہ حالیہ ایران۔اسرائیل کشیدگی کے دوران بھی کئی صارفین نے اسی کے ذریعے غیر سنسر شدہ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی۔ اسی تناظر میں ایرانی حکومت نے ایک سخت اینٹی جاسوسی قانون متعارف کرایا، جس کے تحت غیر مجاز سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا استعمال جرم قرار دیا گیا، اور بعض صورتوں میں سخت ترین سزاؤں کی گنجائش رکھی گئی۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اسٹارلنک چونکہ جی پی ایس سگنلز پر انحصار کرتا ہے، اس لیے طاقتور ریڈیو فریکوئنسی جیمروں کے ذریعے اس کے سگنلز کو دبایا جا سکتا ہے۔ روس اس طرح کی ٹیکنالوجی یوکرین جنگ میں استعمال کر چکا ہے، جبکہ چین نے بھی بڑے پیمانے پر سیٹلائٹ جیمینگ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
ادھر امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پر بات کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے حکومت کو سخت نتائج کی وارننگ بھی دی ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت ایران کے کروڑوں شہری ایک بار پھر ڈیجیٹل تاریکی میں دھکیل دیے گئے ہیں۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا اسٹارلنک دوبارہ بحال ہو پائے گا، یا ایرانی حکومت کی یہ جدید ڈیجیٹل سنسرشپ احتجاجی آوازوں کو مزید خاموش کر دے گی۔ حالات جس سمت جا رہے ہیں، اس سے واضح ہے کہ ایران میں جدوجہد صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ اب خلا میں بھی لڑی جا رہی ہے۔



